ترک صدر نے فلسطینیوں پر مظالم کو نازی ظلم و ستم سے تشبیہ دے دی

مسلم دنیا غزہ میں ہونے والے ظلم کے خلاف متحد ہو تو اسرائیلی جارحیت باقی نہیں رہے گی،خطاب

ہفتہ مئی 12:10

استنبول(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 مئی2018ء) ترک صدر رجب طیب اردگان نے غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی مظالم کو عالمی جنگ عظیم دوئم میں یہودیوں کے ساتھ ہونے والے نازی ظلم و ستم سے تشبیہ دے دی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق استنبول میں مسلم رہنماؤں کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ غزہ میں ہونے ہمارے بھائیوں کے ساتھ ہونے والا ظلم و ستم اور یورپ میں 75 سال قبل یہودی لوگوں کی طرف سے برداشت کیے گئے ظلم و ستم میں کوئی فرق نہیں ہے۔

اس موقع پر رجب طیب اردگان نے غزہ پٹی پر 60 سے زائد فلسطینیوں کی اموات پر اسلامی تعاون تنظیم ( او آئی سی) کے غیر معمولی اجلاس طلب کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ میں واضح اور کھلا کہنا چاہوں کہ جو کچھ اسرائیل کررہا وہ سفاکانہ عمل اور ریاستی دہشت گردی ہے۔

(جاری ہے)

قبل ازیں استنبول کے ینیکاپی کے علاقے میں ہزاروں شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے رجب طیب اردگان نے درجنوں فلسطینیوں کی اموات پر اقوام متحدہ اور امریکا پر سخت تنقید کی اور کہا کہ اسرائیل کے خلاف مسلم امہ کو فلسطینیوں کا ساتھ دینے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے مسلم اتحاد کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ واشنگٹن کے خلاف کھڑے ہونے میں اپنی قانونی حیثیت کھو چکا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر مسلم دنیا غزہ میں ہونے والے ظلم کے خلاف متحد ہو تو اسرائیلی جارحیت باقی نہیں رہے گی۔رجب طیب اردگان نے کہا کہ اقوام متحدہ پہلے ہی اپنی قانونی حیثیت کھوچکا ہے اور وہ امریکا کے خلاف کوئی موثر اقدام اٹھانے میں بھی ناکام ہوگیا ہے۔