عالمی کمپنیوں اور بنکوں کے ایران سے لین دین بند کرنے کے اعلانات جاری

یکم جولائی 2018ء سے ایران کے ساتھ ہرطرح کا لین دین بند کر دیں گے،جرمن بنک کا اعلان

ہفتہ مئی 12:40

واشنگٹن(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 مئی2018ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ طے پائے اس کے متنازع جوہری پروگرام کے سمجھوتے سے علیحدگی کے اعلان کے بعد عالمی کمپنیوں کی طرف سے ایران کیساتھ لین دین بند کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔امریکی صدر کے اعلان کے ایک ہفتے کے دوران کئی عالمی کمپنیوں اور مالیاتی اداروں نے ایران کے ساتھ لین دین ختم کرنے اور سرمایہ کاری واپس لینے کے اعلانات کیے ہیں۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق فرانکفرٹ شہر میں واقع جرمنی کے ڈی زڈ (ڈی زیڈ ) بنک نے اعلان کیاکہ وہ یکم جولائی 2018ء سے ایران کے ساتھ ہرطرح کا لین دین بند کر دے گا۔دوسری عالمی کمپنیوں جن میں عالمی کنٹینر شپنک کمپنی اے ابی مولر میرسک نام سر فہرست ہے نے ایران کے ساتھ تجارتی روابط ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

(جاری ہے)

کمپنی کے چیف ایگزیکٹو سورین سکو کاکہنا تھا کہ امریکی صدر کے ایران کے جوہری پروگرام سیعلاحدگی کے اعلان کے بعد کمپنی کا ایران کے ساتھ لین دین جاری رکھنا ممکن نہیں رہا ہے۔

کمپنی کے امریکا میں بھی مفادات ہیں۔ اس لیے ہم امریکی فیصلے پر عمل درآمد کرتے ہوئے تہران سے اپنے تجارتی اور کاروباری روابط ختم کرنے جا رہے ہیں۔اس سے قبل فرانس کی آئل کمپنی ’ٹوٹل‘ نے بھی عالمی پابندیوں سے بچنے کے لیے ایران سے تجارتی تعلقات ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔