اسرائیل نے اردنی سرحد پرمیزائل حملوں سے بچائو میں مددگار باڑ مکمل کرلی

ایسی حفاظتی باڑوں کے قیام سے اسرائیل میں غیرریاستی عناصرکو داخل ہونے سے روکنے میںمددملے گی ،نیتن یاھو

ہفتہ مئی 12:40

مقبوضہ بیت المقدس(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 مئی2018ء) اسرائیلی فوج کے ایک سینئر عہدیدار نے کہا ہے کہ اسرائیل نے اردن کی سرحد سے متصل علاقے میں نئی دفاعی باڑ کا کام مکمل کرلیا ہے۔ یہ دفاعی باڑ اگرچہ ایلات کے علاقے میں قائم کردہ رامون ہوائی اڈے کے گرد بنائی گئی ہے مگر اس کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ باڑ صہیونی ریاست کو میزائل حملوں سے بچانے میں بھی مدد کرے گی۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اسرائیلی فوج کے ایک سینئر عہدیدار نے بیان میں بتایا کہ ملک کی مشرقی سرحد یعنی اردن کی سرحد پر دفاعی باڑ کی تعمیر مکمل کرلی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی پڑوسی ملکوں کے ساتھ نسبتا پرامن سمجھی جانے والی سرحد اردن ہی سے متصل ہے۔ اس باڑ اور اس کے اندر رامون ہوائی اڈے پر چند سال قبل اسرائیل نے کام شروع کیا تھا۔

(جاری ہے)

یہ ہوائی اڈا وادی تمناع کے مقام پر تعمیر کیا گیا ہے۔بعض مقامات پر یہ دفاعی باڑ 26 میٹر سطح زمین سے اونچی ہے۔ اس میں جدید ترین مواصلاتی آلات، راڈر اور کیمرے نصب ہیں جو سرحد پار سے کسی بھی قسم کے خطرے کے بارے میں آگاہی میں مدد کریں گے۔ اسرائیلی فوج کی انجینیرنگ کور کی زیر نگرانی بنائے جانے والی اس باڑ پر 17 ملین ڈالر کی رقم خرچ کی گئی ہے۔

اردن کی سرحد پر یہ باڑ 34 کلومیٹر کے علاقے پر مکمل کی گئی ہے۔ چھ میٹر بلند باڑ میں سے تین میٹر مکمل طور پر کنکریٹ کی دیوار ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ہوائی اڈے اور باڑ کا مجموعی تخمینہ 82 ملین ڈالر لگایا گیا ہے۔ توقع ہے کہ ہوائی اڈے کو آئندہ سال آپریشنل کردیا جائے گا۔اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے اسی طرح کی باڑ مصر کی سرحد پر تعمیر کرنے کا بھی اعلان کیا ۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسی حفاظتی باڑوں کے قیام سے دہشت گرد تنظیموں کی سرحد پار سے نقل وحرکت اور غیر قانونی تارکین وطن کی اسرائیل میں داخلے کی راہ روکنے میں مدد ملے گی۔ہوائی اڈے اور اس کے رن وے کے لیے 3600 مربع میٹر کی جگہ مختص کی گئی ہے۔ اس ہوائی اڈے پر بڑے حجم کے طیارے بھی لینڈ کر سکیں گے۔ اسرائیلی حکام کے انداوزں کے مطابق رامون ہوائی اڈے سے سالانہ 18 لاکھ افراد فضائی سفر کریں گے۔