ن لیگ کے ٹکٹ ہولڈر امیدواروں سے کاغذ پر نواز شریف سے متعلق کیا اقرارنامہ لیا جا رہا ہے؟ معروف صحافی نے بتا دیا

ن لیگ کے ٹکٹ ہولڈر امیدواروں سے لیے گئے اقرا نامہ میں لکھا گیا ہے کہ قائد ن لیگ اور صدر ن لیگ کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتا/کرتی ہوں، پارٹی ٹکٹ ملنے یا نا ملنے کی صورت میں پارٹی ڈسپلن کا پابند رہوں گا/گی

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان ہفتہ مئی 12:49

ن لیگ کے ٹکٹ ہولڈر امیدواروں سے کاغذ پر نواز شریف سے متعلق کیا اقرارنامہ ..
لاہور(اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔19مئی 2018ء) پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار جو پارٹی ٹکٹ کے لیے درخواست جمع کروا رہے ہیں ان سے ایک ایک اقرار نامہ لیا جا رہا ہے۔درخواست جمع کروانے والے امیدواروں سے ایک اقرار نامہ لیا جا رہا ہے۔جس میں لکھا گیا ہے کہ ’ میں پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد محمد نواز شریف اور صدر محمد شہباز شریف کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتا/کرتی ہوں۔

اور حلفا اقرار کرتا/کرتی ہوں کہ میں پارٹی ٹکٹ ملنے یا نا ملنے کی صورت میں پارٹی ڈسپلن کا پابند رہوں گا۔۔پاکستان مسلم لیگ ن کی مرکزی قیادت اور صوبائی قیادت کے احکامات اور ہدایات پر مکمل طور پر عمل کرتے ہوئے جماعتی سرگرمیوں میں اپنا بھر پور کردار ادا کرنے کے ساتھ ساتھ مسلم لیگ ن کی کامیابی کے لئے بھرپور کوشش کروں گا/گی۔

(جاری ہے)

اسی متعلق تبصرہ کرتے ہوئے معروف صحافی حبیب اکرم کا کہنا تھا کہ پارٹی سے ٹکٹ لینے والوں سے وفاداری کا حلف لیا جا رہا ہے تا ہم میرے خیال سے یہ کوئی بڑا قانونی ایشو نہیں بنے گا۔

کوئی بھی شخص کسی کے ساتھ بھی وفاداری کا حلف لے سکتا ہے۔اگر ایشو بننا ہوتا ہوتا تو تب بنتا جب وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے نواز شریف کو اپنا وزیراعظم کہا تھا۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی تو کئی بار اسمبلی کے فلور اور اپنی کئی پریس کانفرس میں پہلے ہی نواز شریف کو اپنا وزیراعظم کہتے ہیں۔اور جب اسمبلی میں حلف برداری کی تقریب تھی تب بھی وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نواز شریف کی تصویر ساتھ لے کر گئے تھے۔

اور شاہد خاقان عباسی کے ڈیسک پر نواز شریف کی تصویر لگی ہوئی تھی۔اس لیے مجھے نہیں لگتا کہ اب درخواستوں میں شامل یہ وفاداری کے حلف نامے کا نقطہ کوئی بڑا مسئلہ بنے گا۔یاد رہے کہ اس وقت پاکستان مسلم لیگ ن قائد ن لیگ نواز شریف کے ممبئ حملوں سے متعلق دئیے گئے متنازعہ انٹرویو کے بعد مزید مشکلات کا شکار ہو گئی ہے۔اس سے پہلے بھی نواز شریف کے بیانیے کی وجہ سے کئی پارٹی رہنماؤں نے ن لیگ کو خیر آباد کہہ دیا تھا۔تاہم اب ن لیگ اپنے امیدواروں سے وفاداری کے حلف نامے لے رہی ہے۔کہ وہ قائد ن لیگ اور صدر ن لیگ پر مکمل اعتماد کرے گی۔