اسلامی کانفرنس تنظیم کی اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں نہتے فلسطینیوں کے قتل عام کی شدید مذمت،

القدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینے کا امریکی اقدام فلسطینی عوام کے قانونی، تاریخی ، فطری اور قومی حقوق پر حملہ اور امن کے امکانات، بین الاقوامی امن اور سلامتی کیلئے جان بوجھ کر خطرات پیدا کرنے کی ایک کوشش ہے استنبول میں اسلامی تعاون کی تنظیم او آئی سی کے غیر معمولی سربراہی اجلاس کا مشترکہ اعلامیہ

ہفتہ مئی 13:17

اسلامی کانفرنس تنظیم کی اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں نہتے فلسطینیوں ..
استنبول ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 مئی2018ء) اسلامی کانفرنس تنظیم (او آئی سی) نے اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں نہتے فلسطینیوں کے قتل عام کی شدید مذمت کرتے ہوئے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ اسرائیلی مظالم کا نوٹس لے ، القدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینے کا امریکی اقدام فلسطینی عوام کے قانونی، تاریخی ، فطری اور قومی حقوق پر حملہ اور امن کے امکانات، بین الاقوامی امن اور سلامتی کیلئے جان بوجھ کر خطرات پیدا کرنے کی ایک کوشش ہے، القدس شریف کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے یا وہاں پر اپنے سفارتخانے منتقل کرنے والے ممالک کے خلاف مناسب سیاسی، اقتصادی اور دیگر نوعیت کے اقدامات کئے جائیں گے۔

یہ بات ترکی کے شہر استنبول میں اسلامی تعاون کی تنظیم او آئی سی کے غیر معمولی سربراہی اجلاس کے اختتام پر جاری کردہ مشترکہ اعلامیہ میں کہی گئی ہے۔

(جاری ہے)

مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیل کی بہیمانہ جارحیت اور القدس شریف میں امریکی سفارتخانہ کے غیر قانونی افتتاح سے پیدا ہونے والی صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے اسلامی تعاون کی تنظیم (او آئی سی) کے سربراہان حکومت ریاست و شاہان کا 17 واں غیر معمولی اجلاس ترکی کے صدر اور او آئی سی کے 13 ویں سیشن کے چیئرمین رجب طیب اردوان کی دعوت پر 18 مئی 2018ء کو استنبول میں منعقد ہوا۔

اجلاس میں ریاست فلسطین کے مقبوضہ علاقوں میں خطرناک صورتحال اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے شرکاء نے مسلم امہ کے اس طرح کے اہم مسئلے پر غیر معمولی اجلاس طلب کرنے پر رجب طیب اردوان کا شکریہ ادا کیا۔ اجلاس کے شرکاء نے 5 اور 6 مئی کو ڈھاکہ میں تنظیم کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں فلسطین اور القدس شریف کے حوالے سے قراردادوں کو سراہا ۔

شرکاء نے سعودی عرب کے شہر دہران میں عرب لیگ کے 29 ویں سربراہ اجلاس میں فلسطین کے حوالے سے قراردادوں اور سربراہ اجلاس کو ’’القدس سمٹ‘‘ کا نام دینے کے سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے اقدام کی تعریف کی۔ شرکاء نے زور دیا کہ او آئی سی کا بنیادی مقصد و منشاء القدس شریف کی تاریخی ، قانونی اور روحانی اہمیت کو تحفظ دینا اور اسرائیل کی جانب سے ہر طرح کی خلاف ورزیوں کی روک تھام کیلئے ضروری اقدامات کرنا اور اسرائیل کی نو آبادیاتی اور نسل پرستانہ پالیسیوں کے خلاف فلسطینی عوام کی حمایت کرنا ہے۔

شرکاء نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں بالخصوص غزہ کی پٹی، جہاں نہتے فلسطینی مسلمان اپنے حقوق کیلئے پرامن احتجاج اور اسرائیلی غیر انسانی اور غیر قانونی قبضے کے خلاف پرامن احتجاج کا حق استعمال کررہے ہیں، میں اسرائیلی افواج کے مجرمانہ اقدامات کی بھرپور مذمت کی۔ شرکاء نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں بالخصوص حالیہ واقعات میں 60 نہتے فلسطینی شہریوں کی شہادت اور 2700 کے زخمی ہونے کا اسرائیل کو ذمہ دار ٹھہرایا اور قرار دیا کہ امریکی انتظامیہ کی پشت پناہی ، جس میں سلامتی کونسل میں اسرائیلی قبضے کیلئے اسے شیلڈ کی فراہمی شامل ہے، پر اسرائیلی فورسز اس طرح کے وحشیانہ جرائم کا ارتکاب کررہی ہے، اسرائیل نے ان جرائم کا ارتکاب امریکی انتظامیہ کے اسرائیل میں اپنے سفارتخانے کو مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے کے غیر قانونی فیصلے کے بعد کیا، جس نے فلسطینی شہریوں اور آبادی کے خلاف اسرائیلی حکومت کے لاپرواہی پر مبنی رویے کو مزید بڑھاوا دیا ہے۔

یہ اجلاس بین الاقوامی برادری بالخصوص اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیتا ہے کہ وہ فلسطین سے متعلق بین الاقوامی قانون اور نظم کے تحفظ کی ذمہ داریوں کو برقرار رکھے، بین الاقوامی برادری اور سلامتی کونسل قابض قوت اسرائیل کے جرائم پر اسے احستاب کے کٹہرے میں لانے کے اپنے قانونی او اخلاقی ذمہ داریوں پر عملدرآمد کرے اور اسرائیل کی جانب سے نہتے فلسطینیوں پر بے رحمانہ مظالم کے خاتمے اور فلسطینی عوام کو بین الاقوامی تحفظ دینے کی اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرے۔

مشترکہ اعلامیہ میں فلسطینی آبادی کے بین الاقوامی تحفظ بشمول بین الاقوامی تحفط فورس کی تعیناتی پر زور دیا گیا ہے ۔ اعلامیے میں او آئی سی کے جنرل سیکٹریٹ سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ غزہ کی پٹی میں نہتے اور پرامن فلسطینی مظاہرین پر اسرائیلی افواج کے بہیمانہ مظالم کی تحقیقات کا جائزہ لینے کیلئے ماہرین کی آزادانہ کمیٹی کے قیام کیلئے جلد از جلد اقدامات کرے۔

مشترکہ اعلامیے میں غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف حالیہ مظالم کی تحقیقات کیلئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل ، جنرل اسمبلی ، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل، انسانی حقوق کونسل، انسانی حقوق کیلئے اقوام متحدہ کے خصوصی مندوب اور دیگر متعلقہ اداروں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ بین الاقوامی تحقیقاتی کمیٹی کے قیام کیلئے ضروری اقدامات کرے۔ یہ کمیٹی مقررہ مخصوص نظام الاوقات میں حقائق جانچے گی تاکہ اسرائیلی مظالم کا شکار ہونے والے فلسطینیوں کو انصاف فراہم ہو سکے اور طاقت کے بے رحمانہ استعمال کرنے والے اسرائیلی عہدیداروں کا محاسبہ کیا جاسکے۔

مشترکہ اعلامیے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل جنرل اسمبلی اور انسانی حقوق کونسل پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اس ضمن میں اپنی ذمہ دارویوں کو پورا کرے اور اس ایشو کو جنرل اسمبلی ، سلامتی کونسل اور انسانی حقوق کونسل کے ایجنڈے پر فوری طور پر لانے کیلئے تمام ممالک کو مدعو کرے۔ مشترکہ اعلامیے میں سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن کویت کے کردار کی تعریف کی گئی ہے جس نے 15 مئی کو سلامتی کونسل میں اس مسئلے پر کونسل کے ہنگامی اجلاس طلب کرنے کی درخواست پیش کی تھی۔

مشترکہ اعلامیے میں فلسطین کے مسئلے کو اجاگر کرنے کیلئے بین الاقوامی اور علاقائی تنظیموں بشمول عرب لیگ، یورپی یونین اور افریقی یونین کے ساتھ رابطوں اور کام کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا ہے۔ کانفرنس میں شریک تمام ممالک نے فلسطینی کاز کی مرکزیت، مسلم امہ کیلئے فلسطین اور القدس شریف کی اہمیت اور فلسطینی عوام کیلئے ہر قسم کی اصولی حمایت کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

رکن ممالک نے 4 جون 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست جس کا دارالخلافہ القدس شریف ہو گا، کے قیام اور فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ مشترکہ اعلامیے میں امریکی صدر کے اس فیصلے کو مسترد کیاگیا ہے جس میں القدس کو اسرائیل،، جو ایک جارح ریاست ہے ،کا نام نہاد دارالخلافہ قرار دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ امریکہ کا یہ اقدام فلسطینی عوام کے قانونی، تاریخی ، فطری اور قومی حقوق پر حملہ اور امن کے امکانات اوربین الاقوامی امن اور سلامتی کیلئے جان بوجھ کر خطرات پیدا کرنے کی ایک کوشش ہے۔

مشترکہ اعلامیے میں القدس شریف میں امریکی سفارتخانے کے افتتاح کی مذمت کی گئی ہے اور اسے مسلم امہ ، فلسطینی قومی حقوق اور انسانی حقوق کے بین الاقوامی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ بین الاقوامی نظم بشمول اقوام متحدہ پر ایک حملہ ہے جس کے نتیجے میں اسرائیل کو فلسطینی عوام کے خلاف غیر قانونی اور مجرمانہ اقدامات میں اضافے کا موقع ملے گا۔

یہ اجلاس القدس شریف کو فلسطین کا مستقل دارالحکومت قرار دینے کے عزم کا اعادہ کرتا ہے، القدس شریف میں امریکی سفارتخانے کے افتتاح سے نہ تو مقبوضہ شہر کی قانونی حیثیت تبدیل ہوئی ہے نہ ہی اس کا اسرائیل کے ساتھ غیر قانونی الحاق ہو سکتا ہے۔ مشترکہ اعلامیے میں اردون کے شاہ عبداللہ اور مراکش کے شاہ محمد دوئم کی جانب سے القدس شریف کے تحفظ ، بحالی اور بہتری کیلئے اقدامات کی حمایت کی گئی ہے۔

مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ کوئی بھی ریاست جو امریکی انتظامیہ کی طرح اقدام کرے گی وہ بین الاقوامی قانون اور نظم کو کمزور کرنے کی کوشش کرے گی۔ اجلاس اس عزم کا اعادہ کرتا ہے کہ اس طرح کی شرمناک اقدامات کا مناسب جواب دیا جائے گا۔ دیگر ممالک کو اپنے سفارتخانے امریکہ کی طرح القدس میں منتقل کرنے سے روکنے کیلئے تمام ضروری اقدامات کو یقینی بنایا جائے گا۔

کانفرنس کے مشترکہ اعلامیہ میں گوئٹے مالا کی مذمت کی گئی ہے جس نے امریکہ کے نقش قدم پر القدس میں اپنا سفارتخانہ منتقل کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ القدس شریف کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے یا وہاں پر اپنے سفارتخانے منتقل کرنے والے ممالک کے خلاف مناسب سیاسی، اقتصادی اور دیگر نوعیت کے اقدامات کئے جائیں گے۔ اس سلسلے میں جنرل سیکٹریٹ سے مناسب تجاویز تیار کرنے کیلئے کہا گیا ہے ۔

مشترکہ اعلامیے میں تمام رکن ممالک سے کہا گیا ہے کہ وہ تمام دستیاب قانونی اور سفارتی مواقع کا استعمال کرتے ہوئے فلسطینیوں کے قومی حقوق کے تحفظ میں اپنا کردار ادا کرے اور امریکہ اور دیگر کسی بھی فریق کی جانب سے غیر قانونی اقدامات کی مذمت کریں۔ مشترکہ اعلامیے میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ وہ ممالک جو بین الاقوامی عہدوں کیلئے اپنے امیدواروں کے لئے حمایت چاہتے ہیں، کا جائزہ ریاست فلسطین بالخصوص مقبوضہ بیت المقدس کی کاز کیلئے ان ممالک کے کردار کی روشنی میں طے کیا جائے گا۔

مشترکہ اعلامیے میں او آئی سی کے رکن ممالک سے کہا گیا ہے کہ وہ مشترکہ کاز کیلئے عالمی فورمز پر او آئی سی کی طرف سے پیش کردہ قراردادوں کی حمایت کرے۔ رکن ممالک، او آئی سی جنرل سیکٹریٹ ، او آئی سی کے دیگر اداروں اور خصوصی محکموں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ القدس کو اسرائیلی دارالحکومت قرار دینے یا امریکہ کی طرف سے القدس شریف میں اپنا سفارتخانہ منتقل کرنے کے اقدام کی حمایت کرنے والے ممالک ، حکام ، ارکان پارلیمان، کمپنیوں اور شخصیات کے خلاف اقتصادی پابندیوں کے حوالے سے ضروری اقدامات کو یقینی بنائیں، رکن ممالک اور بین الاقوامی برادری سے اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ اور پابندی کا مطالبہ کیا گیا ہے، ان افراد اور اداروں کے خلاف اقدامات کا مطالبہ کیا گیا ہے جو اسرائیلی غیر قانونی قبضے سے فائدہ حاصل کررہے ہیں۔

مشترکہ اعلامیے میں فلسطینی عوام کے تمام جائز بنیادی حقوق کو یقینی بنانے اور فلسطینی عوام کو اسرائیلی جارحیت سے تحفظ دلانے کیلئے تمام سیاسی ، اخلاقی اور سفارتی ذرائع کو بروئے کار لانے سے اتفاق ظاہر کیا گیا ہے۔ مشترکہ اعلامیے میں امریکہ پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اسرائیل کے نوآبادیاتی قبضے کے خلاف موقف لے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق جامع امن کے قیام کیلئے غیر جانبداری کے ساتھ اپنا کردارادا کرے۔

مشترکہ اعلامیے میں القدس شریف کے اسلامی اور مسیحی تشخص کو برقرار رکھنے کیلئے تمام ضروری وسائل مہیا کرنے اور اس ضمن میں یونیسکو اور دیگر اداروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا ہے۔ مشترکہ اعلامیے میں اسرائیل کی جانب سے مسجد اقصیٰ کمپائونڈ کی تاریخی حیثیت اور القدس میں دیگر مذاہب کے مقامات کو تبدیل کرنے اور اسرائیلی دہشتگرد گروپوں سے تعلق رکھنے والے آباد کاروں کو روزانہ کی بنیاد پر مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کی اسرائیلی کوششوں کی مذمت کی گئی ہے۔

مشترکہ اعلامیے میں فلسطینی پناہ گزینوں کیلئے اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی ( یو این آر ڈبلیو ای) کے اہم کردار کا اعتراف کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ ایجنسی 53 لاکھ فلسطینیوں کو خدمات کی فراہمی میں اپنا اہم کردار ادا کررہی ہے۔ اعلامیے میں رکن ممالک سے یو این آر ڈبلیو اے کیلئے امداد میں اضافے کیلئے درخواست کی گئی ہے تاکہ ادارے کو بجٹ برقرار رکھنے میں مشکل نہ ہو۔ اعلامیے میں فلسطین کیلئے ڈویلپمنٹ وقف فنڈ کے قیام کا خیر مقدم کیا گیا ہے۔ اعلامیے میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد نمبر 194ء کے تحت تمام فلسطینی پناہ گزینوں کی اپنے علاقوں میں واپسی کی حمایت کی گئی ہے۔