مقبوضہ کشمیر: لالچوک کی طرف مارچ کو روکنے کیلئے سرینگر میں پابندیاںنافذ

بھارتی وزیر اعظم کے دورے کے خلاف مکمل ہڑتال

ہفتہ مئی 16:11

سرینگر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 مئی2018ء) مقبوضہ کشمیرمیںکٹھ پتلی انتظامیہ نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے مقبوضہ علاقے کے دورے کے خلاف لوگوں کو سرینگر کے تاریخی لالچوک کی طرف احتجاجی مارچ سے روکنے کیلئے آج شہر میں کرفیو جیسی پابندیاں نافذ کر دی ہیں ۔ مارچ کی کال سیدعلی گیلانی ، میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک پر مشتمل مشترکہ حریت قیادت نے دی ہے ۔

بھارت کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے سرینگر کے لالچوک میں ہی ایک عوامی اجتماع سے اپنی تقریر کے دوران کشمیریوں کو انکا ناقابل تنسیخ حق، حق خود ارادیت دینے کا وعدہ کیا تھا۔حریت رہنمائوںاورتنظیموں نے لوگوںسے اپیل کی ہے کہ وہ اس موقع پر اپنے گھروں کی چھتوں اور دیگر مقامات پر سیاہ جھنڈے بھی لہرائیں۔

(جاری ہے)

کٹھ پتلی انتظامیہ نے مارچ کو روکنے کیلئے لالچوک کی طرف جانے والے تمام راستے سیل کر دیے ہیں اورسرنگر اور دیگر تمام بڑے قصبوں میں بڑی تعداد میں بھارتی فوجی اور پولیس اہلکار تعینات کر دیے ہیں ۔

انتظامیہ نے سید علی گیلانی،، میر واعظ عمر فاروق،، محمد یاسین ملک، محمد اشرف صحرائی، محمد یوسف نقاش ، بلال صدیقی، مختار احمد وازہ، ظفر اکبر بٹ، جاوید احمد میر اور دیگر حریت رہنمائوں کو مارچ کی قیادت سے روکنے کیلئے گھروں اور تھانوںمیں نظر بندکر رکھا ہے۔ انتظامیہ نے پوری مقبوضہ وادی میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی ہیں جبکہ طلباء کو احتجاجی مظاہروں اور لالچوک کی طرف مارچ سے روکنے کے لیے تعلیمی ادارے بھی بند رکھنے کااعلان کیا ہے۔

حریت قیادت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے مقبوضہ علاقے کے مجوزہ دورے کا مقصد عالمی برادری کو یہ جھوٹا تاثر دینا ہے کہ کشمیری عوام بھارت کے ساتھ خوش ہیں حالانکہ بھارت نے مقبوضہ علاقے کو جہنم زار بنارکھا ہے۔دریں اثنامشترکہ حریت قیادت کی کال پر ہی نریندر مودی کے دورے کے خلاف آج پورے مقبوضہ علاقے میں مکمل ہڑتال ہے ۔ تمام دکانیں اور کاروباری مراکز بند ہیں جبکہ سڑکوں پر ٹریفک معطل ہے۔