ٹیکساس فائرنگ ،ْ

یقین نہیں آرہا کہ سبیکا چلی گئی ،ْ والدعزیز شیخ کراچی کی رہائشی 17 سالہ سبیکا اسکالر شپ پروگرام کے تحت امریکا پڑھنے گئی تھی ،ْرپورٹ دنیا میں کہیں بھی دہشت گردی نہیں ہونی چاہیے ،ْ میڈیا سے گفتگو 9 جون کو وطن واپسی پر اپنی بہن کے استقبال کی بھرپور تیاری کر رکھی تھی ،ْبھائی کی گفتگو

ہفتہ مئی 16:25

ٹیکساس فائرنگ ،ْ
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 مئی2018ء) امریکہ کی ریاست ٹیکساس کے ایک ہائی اسکول میں فائرنگ سے جاں بحق ہونے والی کراچی کی سبیکا عزیز شیخ کو 22 روز بعد (9 جون) کو وطن واپس پہنچنا تھا۔سبیکا عزیز شیخ امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے کینیڈی لوگریوتھ ایکسچینج اینڈ اسٹڈی اسکالر شپ پروگرام کے تحت گزشتہ برس 21 اگست کو 10 ماہ کے لیے امریکا گئی تھیں اور 9 جون کو انہیں وطن واپس آنا تھا۔

وہ ٹیکساس کے شہر سانتافی کے ایک ہائی اسکول میں زیر تعلیم تھیں، جہاں جمعہ اٹھارہ مئی کو اسکول کے ہی ایک طالب علم کی فائرنگ سے وہ چل بسیں۔سبیکا کے اہل خانہ اپنی بیٹی کی المناک موت پر غم سے نڈھال ہیں اور کراچی میں واقع ان کی رہائش گاہ پر تعزیت کیلئے آنے والوں کا سلسلہ جاری رہا۔ سبیکا کے والد عزیز شیخ نے کہا کہ سبیکا کے والد عبدالعزیز کو یقین ہی نہیں آ رہا کہ ان کی بیٹی سبیکا اس دنیا سے چلی گئی۔

(جاری ہے)

انہوں نے بتایا کہ سبیکا عزیز بہت ذہین اور فرماں بردار اور ان کی 3 بیٹیوں میں سے سب سے بڑی تھی، جو ملک کیلئے کام کرنا چاہتی تھی۔انہوں نے بتایا کہ امریکی پروگرام کے لیے 6 ہزار طلبہ میں سے 75 کو منتخب کیا گیا، جن میں سبیکا بھی شامل تھی۔عبدالعزیز نے بتایا کہ انہیں فائرنگ کی اطلاع گزشتہ روز افطار کے بعد ملی، انہوں نے رابطہ کرنے کی کوشش کی تاہم سبیکا نے فون نہیں اٹھایا۔

انہوں نے بتایا کہ سبیکا کی میت جلد پاکستان لانے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس حوالے سے امریکا میں پاکستانی سفارتخانے کے حکام سے رابطے میں ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں کہیں بھی دہشت گردی نہیں ہونی چاہیے۔سبیکا کے چھوٹے بھائی کا کہنا ہے کہ انہوں نے 9 جون کو وطن واپسی پر اپنی بہن کے استقبال کی بھرپور تیاری کر رکھی تھی۔بہن کی موت پر بھرائی ہوئی آواز میں انہوں نے کہا کہ سبیکا سب سے پیار کرتی تھی اور اس کی ہر چیز یادگار ہے۔سبیکا کے کزن طلحہ نے بتایا کہ وہ پڑھائی میں دوسروں کی مدد کیا کرتی تھی۔