صوفیاء کرام کی تعلیمات کی ترویج سے دہشتگردی اور فرقہ واریت کا خاتمہ ہوسکتا ہے،ڈاکٹر غضنفر مہدی

انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ آف صوفی ازم اور شاہ اللہ دتہ اکیڈمی کے قیام سے سیحت کو فروغ ملے گا، عبدالرشید گوڈیل رکن قومی اسمبلی

ہفتہ مئی 16:51

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 مئی2018ء) متاز سکالر ڈاکٹر غضنفر مہدی چیئرمین انجمن تاریخ و آثار شناسی پاکستان نے کہا ہے کہ صوفیا ء کرام کی تعلیمات کی ترویج سے دہشتگردی اور فرقہ واریت کا خاتمہ ہو سکتان ہے انہوں نے یہ بات عظیم صوفی حضرت شاہ اللہ ڈتہ باکھری ؒ کے چار روزہ میلا کے اختتام پر منعقدہ ادبی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔

انہوں نے کہا کہ پانچ مغل بادشاہ بابر، جہانگیر ، ہمایوں، شاہ جہان اور اکبر حضرت شاہ اللہ دتہ کے مرید اور عقیدت مند رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حضرت شاہ اللہ دتہ بکھر سے پوٹھوہار آئے اور انکے کزن مخدوم نوح باکھری بکھر سے ہالہ سے سندھ تشریف لے گئے ۔۔ڈاکٹر غضنفر مہدی نے کہا کہ وفاقی حکومت اوراسلام آباد کی انتظامیہ کو چاہئے کہ آثاریات کی حالت درست کریں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا یہاں پر مارگلہ پاس سے سکندر اعظم بر صغیر میں آیا ۔بدھ مت کی بارہ غاروں میں سے صرف ایک غار باقی ہے ۔محمود غزنوی کی تعمیر کردہ ایک ہزار سالہ قدیم مسجد زمین بوس ہوچکی ہے انہوں نے اس موقع پر انٹر نیشنل انسٹیٹیوٹ آف صوفی ازم کے قیام کا اعلان کیاانہوں نے کہا کہ سید ذیشان علی نقوی کی سربراہی میں حضرت شاہ اللہ دتہ اکیڈمی قائم کی جائے گی جو انکے پیغام کی ترویج کرے گی۔

کانفرنس کے میزبان سید ذیشان علی نقوی ڈپٹی میئر نے کہا کہ سی ڈی اے نے سدا باغ کی آرائش کے لئے چار کروڑ روپے مختص کیے ہیں۔اس باغ میں وہ میدان بھی شامل ہے جہاں ٹیکسلا کے فرمانروا راجہ امبھی نے سکندر اعظم کو تلوار پیش کی تھی۔ سندھ سے آئے ہوئے رکن قومی اسمبلی عبدالرشید گوڈیل نے انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ آف صوفی ازم اور حضرت شاہ اللہ دتہ کے قیام کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس اہم تاریخی مقام کو وسعت دے کر سالانہ غیر ملکی سیاحوں کے ذریعے کروڑوں روپے کا ذرمبادلہ حاصل کر سکتے ہیں۔

ملک کے ممتاز فنکاروں بشری ماروی، نصیر احمد خواجہ، جابر عباس، سائیں اختر ، غلام عباس، غلام رضااور شکوکت ڈھول والا نے صوفیاء کرام کا عارفانہ کلام پیش کیا اور خوب داد وصول کی۔ تقریب میں ملک بھر سے آئے ہوئے پانچ ہزار سے زائد شخصیات نے شرکت کی۔جسکے اختتام پر سید ذیشان نقوی نے شرکاء کے اعزاز میں استقبالیہ دیا۔کانفرنس میں دو قرار دادیں منظور کیں ۔پہلی قرارداد میں کہا گیا حضرت شاہ اللہ دتہ کا ایک ہزار سالہ جشن سرکاری طور پر منایا جائے اور دوسری قرارداد میں کہا گیا کہ حضرت بری امام کے میلے کو دوبارہ شروع کیا جائے۔