پانچ سال میں بیرونی قرضوں میں پچاس فیصد سے زائد اضافہ تشویشناک ہے، شیخ عامر وحیدصدر اسلام آباد چیمبر

ہفتہ مئی 16:53

پانچ سال میں بیرونی قرضوں میں پچاس فیصد سے زائد اضافہ تشویشناک ہے، ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 مئی2018ء) اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر شیخ عامر وحید نے کہا کہ سٹیٹ بینک کی حالیہ رپورٹ کے مطابق مارچ 2018کے اختتام تک پاکستان کا بیرونی قرضہ بڑھ کر91.8ڈالر ارب ہو گیا ہے جو ملک کے مستقبل کیلئے تشویشناک ہے کیونکہ اس سے معیشت کیلئے متعدد مسائل پیدا ہوں گے اور قومی خزانے پر دبائو بڑھے گا لہذا انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ بیرونی قرضوں سے نجاب حاصل کرنے کیلئے فوری طور پر ایک جامع حکمت عملی وضع کرے تا کہ آنے والی نسلوں کو مزید مشکلات سے بچایا جا سکے۔

انہوںنے کہا کہ پچھلے تقریبا پانچ سالوں کے دوران پاکستان کے بیرونی قرضے میں پچاس فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ملک خطرناک طور پر قرضوں کے جال میں پھنستا جا رہا ہے۔

(جاری ہے)

شیخ عامر وحید نے کہا کہ پچھلی حکومت نے بھی ملک کا نظام چلانے کیلئے بیرونی قرضوں پر زیادہ انحصار کیا تھا اور توقع کی جاتی تھی کہ موجودہ حکومت اس نقصان دہ رجحان کی حوصلہ شکنی کرے گی اور ملک کو قرضوں کے جال سے نکالنے کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھائے گی لیکن موجودہ حکومت نے بیرونی قرضے میں مزید اضافہ کیا ہے جو معیشت کے مستقبل کیلئے اچھا نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالا تھا تو اس وقت پاکستان کا کل بیرونی قرضہ 60.9ارب ڈالر تھا جبکہ مارچ 2018تک یہ قرضہ بڑھ کر 91.8ارب ڈالر ہو گیا ہے اور اگر یہی رجحان جاری رہا تو جلد ہی ملک کا بیرونی قرضہ 100ڈالر سے تجاوز کر جائے گا جس سے قرضوں کی ادائیگی کی وجہ سے قومی خزانے پر مزیدبوجھ پڑے گا۔ آئی سی سی آئی کے صدر نے کہا کہ موجودہ حکومت نے اپنے دور میں 30.9 ارب ڈالر کا مزید بیرونی قرضہ حاصل کیا جس سے آنے والے وقت میں قرضوں کی ادائیگی کی وجہ سے عوام کو مزید تکالیف کا سامنا کرنا پڑے گا۔

انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ اپنی ترجیحات پر نظرثانی کرے اور ملک کا نظام چلانے کیلئے بیرونی قرضوں پر انحصار کم کرے کیونکہ قرضوںمیں اضافہ سے آنے والی نسلوں کیلئے زندگی مزید مشکل ہو گی اور غربت و بیروزگاری کے مسائل بھی بڑھ سکتے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ ان مسائل کی وجہ سے ملک کی معاشی ترقی بھی مزید متاثر ہو گی لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت قرضوں سے چھٹکارہ حاصل کرنے کیلئے سنجیدہ کوششیں کرے۔

اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سینئر نائب صدر محمد نوید ملک اور نائب صدر نثار مرزا نے کہا کہ قرضوں پر انحصار کرنے کی بجائے حکومت کاروباری سرگرمیوں و برآمدات کو فروغ دینے اور ٹیکس کی بنیاد کووسعت دینے پر زیادہ توجہ دے ۔ انہوں نے کہا کہ ملکی وسائل میں اضافہ کر کے ہی ملک بیرونی قرضوں سے نجات حاصل کر سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان مقاصد کے حصول کیلئے ضروری ہے کہ حکومت کاروباری اور برآمداتی شعبے کے اہم مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی کوشش کرے اور برآمدات کیلئے نئی مارکیٹیں تلاش کرنے کی کوششوں میں نجی شعبے کے ساتھ بھرپور تعاون کرے۔

انہوں نے کہا کہ برآمدات میں اضافہ ہونے سے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر بہتر ہوں گے اور ملک کو مزید قرضے حاصل کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہو گی لہذا انہوںنے اس بات پر زور دیا کہ حکومت نجی شعبے کو مزید مضبوط کرنے کی کوشش کرے تا کہ یہ شعبہ ریونیو اور برآمدات میں اضافہ کر کے ملک کو قرضوں سے چھٹکارہ دلانے میں اپنا مثبت کردار ادا کر سکے۔