امریکا کا شام میں سلامی گروپوں کے زیر کنٹرول علاقوں سے اپنی امداد واپس لینے کا فیصلہ

ٹرمپ امریکی انتظامیہ کروڑوں ڈالروں کی کمی کرے گی جن کی امریکاکی جانب سے سپورٹ کی جا رہی تھی،امریکی ذمہ داران کی گفتگو

ہفتہ مئی 16:59

واشنگٹن(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 مئی2018ء) باخبر امریکی ذمّہ داران نے بتایا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ شمال مغربی شام میں اسلامی گروپوں کے زیر کنٹرول علاقوں سے اپنی کمک اور امداد واپس لینے کا ارادہ رکھتی ہے۔ امریکی انتظامیہ اب اپنی توجہ اٴْن علاقوں کی تعمیرِ نو پر مرکوز کرنا چاہتی ہے جو امریکا کے زیر قیادت فورسز نے ملک کے شمال مغرب میں داعش تنظیم سے واپس لیے تھے۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر امریکی ذمہ داران نے بتایاکہ امریکی انتظامیہ اٴْن مختلف سرگرمیوں کے سلسلے میں کروڑوں ڈالروں کی کمی کرے گی جن کی واشنگٹن کی جانب سے سپورٹ کی جا رہی تھی۔ ان سرگرمیوں میں پر تشدد انتہا پسندی پر روک لگانا، آزاد تنظیموں اور خود مختار ذرائع ابلاغ کو سپورٹ کرنا اور تعلیم کی سپورٹ شامل تھی۔

(جاری ہے)

مذکورہ نیوز نیٹ ورک کے مطابق یہ فیصلہ صدر گزشتہ چند ہفتوں کے دوران صدر ٹرمپ کے اٴْس مطالبے کے بعد کیا گیا جس میں انہوں نے شام کے لیے امریکا کی ہر قسم کی امداد کا جائزہ لینے کو کہا تھا۔

انہوں نے کیا کہ شام کے شمال مغربی علاقے میں طویل المیعاد بنیادوں پر امریکا کی امدادات کو بڑی حد تک غیر مؤثر شمار کیا جا رہا ہے۔دوسری جانب امریکی ذمہ داران نے برطانوی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ شمال مغربی شام میں اِدلب صوبے کے حوالے سے انسانی امداد ہر گز متاثر نہیں ہو گی۔ یہ شامی اراضی کا سب سے بڑا رقبہ ہے جو مسلح اپوزیشن گروپوں کے کنٹرول میں ہے۔ادھر امریکی وزارت خارجہ کے ایک ذمّے دار کا کہنا تھا کہ شمال مغربی شام میں امریکی امداد کے پروگراموں میں ترمیم کی گئی ہے جس کا مقصد اس علاقے میں ترجیحات کے لیے ممکنہ اضافی سپورٹ پیش کرنا ہے۔ ایک دوسرے ذمّے دار کا کہنا ہے کہ انتظامیہ اس امداد کو ان علاقوں میں منتقل کرنا چاہتی ہے جہاں امریکا کا زیادہ بڑا کنٹرول ہے۔