سابق پاکستانی کپتان ٹیسٹ میچز سے ٹاس کے خاتمے کے مخالف

ہفتہ مئی 16:23

سابق پاکستانی کپتان ٹیسٹ میچز سے ٹاس کے خاتمے کے مخالف
لاہور(ا ردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔19مئی 2018 ء) سابق قومی کپتان آصف اقبال کا کہنا ہے کہ وہ ٹیسٹ میچز سے ٹاس ختم کرنے کی تجویز کے حق میں نہیں کیونکہ دورہ کرنےوالی ہر ٹیم خود بھی ٹورز کی میزبانی کرتی ہے اور تب اسے بھی یہی ہوم ایڈوانٹیج حاصل ہوتا ہے۔ ایک گفتگو کے دوران آصف اقبال کا کہنا تھا کہ آئی سی سی ٹیسٹ کرکٹ سے ٹاس کے اہم پہلو کو کھرچ پھینکنے سے کوئی اچھا عمل نہیں کر رہی کیونکہ دنیا میں بہترین ٹیم بننے کیلئے لازمی ہوتا ہے کہ ملک کے ساتھ بیرون ملک بھی کامیابیاں حاصل کی جائیں جس میں بیرون ملک فتوحات خاص اہمیت رکھتی ہیں۔

74 سالہ سابق بیٹسمین کا کہنا تھا کہ ٹاس کی کسی کرکٹ میچ میں اہمیت سدا سے بلند درجہ سمجھی جاتی ہے جسے ختم کرنے سے وہ چیلنج بھی ختم ہوجائے گا کہ فاتح کپتان نے ٹاس جیت کر کتنا درست فیصلہ کیا تھا۔

(جاری ہے)

ان کا کہنا تھا کہ مختلف ممالک کی کنڈیشنز سے واقفیت بہت زیادہ اہمیت رکھتی ہے لیکن اس کیلئے ٹاس کو ختم کردینا درست نہیں کہ ہوم ٹیم اپنی مرضی کی وکٹیں تیار کرتی ہے۔

آصف اقبال کا کہنا تھا کہ ٹیم کا درست انتخاب،پہلے بیٹنگ یا باﺅلنگ کا فیصلہ اور وکٹ کو پڑھنے کے ساتھ ہی موسم کے اثرات کسی میچ میں سرپرائز ہوتے ہیں اور ٹاس کا خاتمہ اس حیرانگی کے پہلو کو بھی اپنے ساتھ بہا کر لے جائے گا اور ٹیسٹ میچز ایک معمول کا کام بن کر رہ جائیں گے جن میں دلچسپی کا پہلو نہ ہونے کے برابر رہ جائے گا جو اس طرز کی کرکٹ کیلئے تازیانہ ہوگا جسے اپنی مقبولیت کو برقرار رکھنا پہلے ہی مشکل ہو رہا ہے۔

سابق بھارتی کپتان بشن سنگھ بیدی نے اس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ کیا کوئی ڈیڑھ صدی پرانی روایت بدلنے کے بارے میں سوچ بھی سکتا ہے۔ میرے پاس اس کے اظہار کیلیے الفاظ ہی نہیں ہیں۔ ایک اور بھارتی کپتان دلیپ وینگسارکر نے بار بار پلیئنگ کنڈیشنز میں تبدیلیوں پر بے زاری کااظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پچ کی تیاری میں ہوم ٹیم کی مداخلت کا مسئلہ ہے تو کیوریٹرز کا غیرجانبدار پینل تشکیل دینا زیادہ مناسب ہوگا۔ اس کیلئے ٹاس کی روایت ختم کرنے کی کیا ضروت ہے۔