سندھ اسمبلی، سیاسی قیادت کونشانہ بنانے کے معاملے پر حکومتی اور اپوزیشن ارکان آپے سے باہر ہوگئے

مسلم لیگ فنکشنل کی رکن نصرت سحر عباسی نے ڈپٹی اسپیکر شہلا رضا کو جوتا دکھاد یا،ایوان سے باہر نکالنے اورایک دن کی پابندی کا حکم صادر

ہفتہ مئی 17:42

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 مئی2018ء) سندھ اسمبلی میں ایک دوسرے کی سیاسی قیادت کونشانہ بنانے کے معاملے پر حکومتی اور اپوزیشن ارکان آپے سے باہر ہوگئے۔مسلم لیگ فنکشنل کی رکن نصرت سحر عباسی نے ڈپٹی اسپیکر شہلا رضا کو جوتا دکھا یا تو وہ شدید برہم ہو گئیں اور انہیں ایوان سے باہر نکالنے اورایک دن کی پابندی کا حکم صادرکردیا۔ ڈپٹی اسپیکر شہلا رضا کی صدارت میں ہونے والے سندھ اسمبلی کے اجلاس میں حکومتی اوراپوزیشن ارکان نے اس وقت شورشرابا شروع کردیا جب صوبائی وزیر ممتاز جاکھرانی نے اپنی بجٹ تقریرمیں اپوزیشن کی دوخواتین ارکان مسلم لیگ فنکشنل کی رکن نصرت سحر عباسی اورسورٹھ تھیبو کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ یہ ایوان میں شور شرابا کرتی ہیں اور یہ نہیں بتاتیں کہ انہوں نے پیپلز پارٹی سے کتنے فائدے لیے۔

(جاری ہے)

ممتاز جاکھرانی نیالزام لگایا کہ نصرت سحر نے گیان چاند سے باردانے کی بوریاں لیں انہوں نے کہاکہ نصرت سحرعباسی اورسورٹھ تھیبوکے پاس ایک ایکڑزمین نہیں ہیں مگرانہوں نے باردانے کی دوہزاربوریاں کس کے لیے لیں، وہ پی پی کا کھا کر بھی الزام لگاتی ہیں۔ ممتاز جاکھرانی کے الزامات پر نصرت سحر عباسی شدید طیش میں آ گئیں اور ایوان میں بغیرمائیک شور شرابا شروع کر دیا، ڈپٹی اسپیکر شہلا رضا کی مداخلت اورلفظی گولہ باری پرایوان میں گرما گرمی بڑھ گئی شہلارضا کا کہنا تھا کہ آپ ہماری قیادت اورفریال تالپور سے متعلق اس طرح کے الفاظ استعمال کرتی ہیں لیکن اپنے اوپر بات آئی تو آپے سے باہرہوگئیں یہاں سسرالی باتیں نہیں چلیں گی یہ لوگ ضیاء الحق کی پیداوارہیں ۔

شہلا رضا کے جوابی حملے پر نصرت سحر عباسی غصے میں آ گئیں اور پاوں اوپر کر کے ڈپٹی اسپیکر کو جوتا دکھایا جس پر شہلا رضا بھی شدید برہم ہو گئیں اور ایوان میں موجود سارجنٹ ایٹ آرمزکو نصرت سحر کو اسمبلی سے باہر نکالنے کا حکم دیا مگرنصرت سحرعباسی ایوان میں موجود رہیں اورحکومتی رویے کے خلاف احتجاج کرتی رہیں۔اس دوران اپوزیشن لیڈر خواجہ اظہار نے معاملے میں مداخلت کی اور ڈپٹی اسپیکر کو ان کے نام سیمخاطب کیا تو شہلا رضا نے خواجہ اظہار الحسن کو بھی ڈانٹ دیا اور تنبیہ کرتیہوئے کہا کہ آپ میرا نام تمیز سے لیں شہلا شہلا نہ کریں۔

ڈپٹی اسپیکر شہلا رضا نے کہا کہ سچ سننے میں ن لیگی ارکان کو بہت تکلیف ہوتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سچ آہستہ آہستہ کاٹتا ہے، نون لیگ والے سچ سننے کو تیار نہیں ہیں ڈپٹی اسپیکرکا کہنا تھا کہ یہاں پرخاتون کارڈ کھیلا جارہا ہے اب ڈرامہ بازی نہیں چلے گی ۔صوبائی وزیرمنظوروسان نے اسمبلی میں پیش آنے والی صورتحال پرکہاکہ الیکشن میں کامیاب نہ ہونے والی قوتیں سندھ میں سیاستدانوں کے خلاف سازش کررہی ہیں۔

سندھ اسمبلی میں بجٹ بحث میں حصہ لینے والے حکومتی اوراپوزیشن ارکان گذشتہ تین روز سے پیرپگارا،، فریال تالپور،،پیرصدرالدین شاہ، مرتضی جتوئی ،،عمران خان اورایم کیو ایم کی قیادت کوتنقید کا نشانہ بنارہے تھے گذشتہ روزاسپیکرآغاسراج درانی کی جانب سے تنبیہہ کے باوجود بھی ارکان نے ہفتے کوبھی ایک دوسرے کی سیاسی قیادت کوتنقید کا نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھا ۔