مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی وزیر اعظم کے دورے کے خلاف یوم سیاہ منایاگیا

لالچوک مارچ کو روکنے کیلئے سرینگر میں سخت پابندیاں عائد کی گئیں

ہفتہ مئی 17:54

سرینگر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 مئی2018ء) مقبوضہ کشمیر میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے دورے کے خلاف آج یوم سیاہ منایا گیا اورمکمل ہڑتال کی گئی ۔کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق تمام دکانیں اور کاروباری ادارے بند جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت معطل رہی۔ ہڑتال کی کال سید علی گیلانی ، میرواعظ عمرفاروق اور محمد یاسین ملک پر مشتمل مشترکہ حریت قیادت نے دی تھی ۔

انہوں نے لوگوں پر زوردیا تھا کہ وہ بھارتی وزیر اعظم کے دورے کے خلاف اپنا احتجاج درج کرانے کے لیے سرینگر کے تاریخی لالچوک کی طر ف مارچ کریں۔ تاہم کٹھ پتلی انتظامیہ نے مارچ کو روکنے کے لیے سرینگر میں سخت پابندیاں نافذ کردیں اور حریت رہنمائوں کو نظربند کردیا۔ سرینگر شہر اور مقبوضہ علاقے کے دیگر قصبے سنسان نظرآرہے تھے اور کئی مقامات پر لوگوں نے اپنے مکانوں کی چھتوں اور اہم مقامات پرسیاہ پرچم لہرائے۔

(جاری ہے)

بھارتی پولیس نے میرواعظ عمرفاروق اور کئی دیگر حریت رہنمائوں بشمول ہلال احمد وار، شیخ عبدالرشیداور بشیر احمد کشمیری کو اس وقت گرفتارکرلیا جب انہوںنے پابندیوں کی پروا کئے بغیرمارچ کی کوشش کی ۔ کٹھ پتلی انتظامیہ نے حریت رہنمائوں سید علی گیلانی ، محمد اشرف صحرائی ، محمد یاسین ملک، غلام احمد گلزار، محمد یوسف نقاش، بلال صدیقی، مختار احمد وازہ، ظفر اکبر بٹ، جاوید احمد میراور محمد اشرف لایا کو گھروں، تھانوں یاجیلوںمیں نظربند رکھا۔

انتظامیہ نے لالچوک کی طرف جانے والی تمام سڑکوں کو بند کردیااور سرینگر اور مقبوضہ علاقے کے دیگر تمام بڑے قصبوں میں بھارتی فوجی اور پولیس اہلکاروں کی بڑی تعداد تعینات کردی تھی ۔ کٹھ پتلی انتظامیہ نے علاقے میں موبائل اورا نٹرنیٹ سروسز بھی معطل کردیں اور تمام تعلیمی ادارے بند کرنے کا حکم جاری کیاتھا۔ سخت پابندیوں کے باوجود حریت رہنمائوں شبیر احمد ڈار، امتیاز احمد ریشی اور غلام نبی وسیم نے بھارتی وزیر اعظم کے دورے کے خلاف سرینگر کے ڈائون ٹائون علاقے میں ایک احتجاجی مظاہرے کی قیادت کی۔

مظاہرین نے ہاتھوں میں سیاہ پرچم اٹھا رکھے تھے۔ دریں اثناء بھارتی فوجیوں نے ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائی میں آج ضلع کپواڑہ میں ہندواڑہ کے علاقے برنجل ولگام میں ایک اور کشمیری نوجوان کو شہید کردیا ۔ اس شہادت سے گزشتہ روز سے علاقے میں شہید ہونے والے نوجوانوں کی تعداد بڑھ کر چار ہوگئی ہے۔ بھارتی وزیر اعظم کے دورہ مقبوضہ کشمیر کے خلاف کل جماعتی حریت کانفرنس آزادکشمیر شاخ کے رہنمائوں نے اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن کے سامنے سیاہ پرچم ہاتھوں تھام کر احتجاجی دھرنا دیاجبکہ پاسبان حریت جموں وکشمیر اور انٹرنیشنل فورم فار جسٹس اینڈ ہیومن رائٹس جموں وکشمیر نے مظفر آباد میں احتجاجی مظاہرے کئے۔