سند ھ اسمبلی، حکومتی ارکان اور اپوزیشن کے درمیان ایک دوسرے پر الزام تراشی،

ہنگامہ آرائی اور شور شرابے کا سلسلہ جاری مسلم لیگ فنکشنل کی خاتون رکن نصرت سحر عباسی نے طیش میں آکر ڈپٹی اسپیکر شہلا رضا کو جوتا دکھا دیا نصرت سحر عباسی کو سبق سکھانے کیلئے لپکنے والی خواتین کو خواجہ اظہار الحسن اور پی ٹی آئی کے ثمر علی خان نے مداخلت کرکے روک لیا

ہفتہ مئی 18:21

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 مئی2018ء) سندھ اسمبلی کے بجٹ اجلاس میںہفتہ کو بھی سرکاری ارکان اور اپوزیشن کے درمیان ایک دوسرے پر الزام تراشی، ہنگامہ آرائی اور شور شرابے کا سلسلہ جاری رہا ، مسلم لیگ فنکشنل کی خاتون رکن نصرت سحر عباسی نے طیش میں آکر ڈپٹی اسپیکر شہلا رضا کو جوتا دیکھا دیا اور وہ ان کی نشست کے سامنے جاکر کافی دیر تک اپنا جوتا لہراتی رہیں،،پیپلز پارٹی کی کچھ خواتین نصرت سحر عباسی کو سبق سکھانے کے لئے ان کی طرف لپکیں تاہم قائد حزب اختلاف خواجہ اظہار الحسن اور پی ٹی آئی کے ثمر علی خان نے مداخلت کرکے معاملہ رفع دفع کرایا ، ایوان کی کارروائی کے دوران صوبائی وزراء کی جانب سے سابق وزیر اعظم نواز شریف ،پیر پگارا اور پیر صدر الدین شاہ راشدی پر بھی سخت تنقید کی گئی مالی سال 2018-19ء کے بجٹ پر عام بحث کے چھٹے روز حکومت اور اپوزیشن ارکان نے بجٹ پر اظہار خیال کرنے کے بجائے اپنازیادہ تر وقت ایک دوسرے پر الزام تراشی پر صرف کیا جس نے ایوان کے ماحول کو اور زیادہ کشیدہ کردیا۔

(جاری ہے)

ایوان میں کشیدگی کا سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب صوبائی وزیر ممتاز جاکھرانی نے مسلم لیگ فنکشنل کی خاتون رکن نصرت سحر عباسی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس ایوان میں موجود ایک خاتون کو ٹی وی پر آکر پیپلز پارٹی پر تنقید کرنے کا بہت شوق ہے۔ہفتہ کو سرکاری تعطیل کے باوجود جب سندھ اسمبلی کا بجٹ سیشن شروع ہوا توایم کیو ایم کے سید سرداراحمدنے کہا کہ بجٹ پر جوبحث ہونی چاہیے تھی وہ نہیں ہوئی ،،بجٹ تجاویز پر بھی عمل نہیں ہوتا انہوں نے کہا کہ سندھ ایگریکلچر ٹیکس بھی سندہ بورڈ آف روینیو کے حوالے کئے جائیں،اخراجات کم کرکے بجٹ خسارے سے بچاجاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ میں جوترقیاتی بجٹ رکھاجاتا ہے وہ پورا خرچ نہیں ہوتا۔اس سال کاترقیاتی بجٹ بھی خرچ نہیں ہوسکے گا جس کا مطلب ہے کہ ہم میں پورا فنڈز کرچ کرنے کی صلاحیت بھی نہیںہے۔انہوں نے کہا کہ وسیلہ حق پروگرام کی رقم کا کوئی حساب نہیںاس پروگرام کے تحت قرض لینے والوں نے رقم واپس نہیں کی ۔این ایف سی کا فنڈ غلط طریقے سے استعمال ہوتا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ فوڈ ڈیپارٹمنٹ کا آڈٹ کرایا جائے ،فصلوں کی خریداری میں ہر سال نقصان ہوتا ہے ،سرکاری سرمایہ کاری پر انکوائری ہونی چاہئے ،آڈٹ جنرل کی رپورٹ میں کرپشن کی نشاندہی کی گئی لیکن کوئی کارروائی نہیں ہوئی ،آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق 273 ارب روپے کی بے ضابطگیاں ہوئیں۔ مسلم لیگ (ن) کے سید امیرحیدرشاہ شیرازی نے کہا کہ تعلیم اور صحت تباہ ہو چکے ہیں۔

سندھ کا سب سے زیادہ متنازعہ منصوبہ ذوالفقار آباد کیلئے بھی 10 کروڑ کا بجٹ میںرکھے گئے ہیں۔ٹھٹھہ کے بہت سے اسپتال این جی اوز کے حوالے کردیئے گئے ہیں،ٹھٹھہ میں جعلی ادویات رکھی گئی ہیں کوئی سنے کو تیار نہیں۔ سمندر زمین کھاتا جا رہا ہے حکومت نے کوئی انتظامات نہیں کئے۔ پیپلز پارٹی کے فیاض بٹ نے اپنی تقریر میں کہا کہ ایوان ن میںمودی کے یار بھی بیٹھے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف چور ہیں ان پرٓآرٹیکل چھ لگنا چاہیے ،فیاض بٹ کی تقریر پر ن لیگ کے ارکان نے احتجاج کرتے ہوئے کافی شور شرابہ کیا اور ان کی جانب سخت احتجاج بھی کیا گیا۔وزیر بہبود آبادی ممتاز جکھرانی نے اپنی تقریر میں کہا کہ کراچی میں ترقیاتی کام ہورہے ہیں تو انکو تکلیف ہے ،،عمران خان نے مشرف کا ساتھی بن کر ریفرنڈم میں ساتھ دیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان جب بنا تو سندھ نے یہاں آنے والوں کو بہت کچھ دیا ہے ،،ذوالفقار بھٹو ایک سندھی تھا جس نے متفقہ آئین دیا ۔انہوں نے کہا کہ اس اسمبلی کی ایک خاتون کو میڈیا میں آنے کا بڑا شوق ہے،پیر صدرالدین شاہ بتائیں انہوں نے کیا کیا،فنکشنل لیگ والوں کا پیر دبئی بھاگ جاتاہے،ان لوگوں کوشکست ہوگی اسی لئے ابھی سے رونا پیٹنا شروع کردیا ہے ،جی ڈی اے گلی ڈنڈا الائنس ہے 2018ء زیادہ دور نہیںپیپلزپارٹی ملک بھر سے سوئپ کرے گی ۔

انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو ہمارا وزیراعظم ہوگا ،پپو پارٹی ہماری نہیں بلکہ پیر پگارا کی پارٹی ہے ۔ممتازجکھرانی نے نصرت سحر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ انکو کوئی شرم حیا نہیں ۔جس پر قائد حزب اختلاف خواجہ اظہار ایک خاتون ممبر کی ذات پر حملہ کیا گیا خاتون سے متعلق ریمارکس کاروائی سے حذف کیے جائیں ۔اس موقع پر ڈپٹی اسپیکرشہلارضا نے پیپلز پارٹی کے ارکان کو ہدایت کی کہ وہ اپوزیشن کے اعتراض کابھرپور جواب دیں کیونکہ انکے پاس کہنے کو کچھ نہیں رہا یہ اسی طرح کرینگے ۔

ڈپٹی اسپیکر نے نصرت سحر عباسی کے حوالے سے کہا کہ بجٹ انہوں نے پڑھا نہیں ہے یہ شور کرینگی ،مریضوں کی آخری وقت میں کیا کیفیت ہوتی ہے پتہ ہی شہلا رضا کے ریمارکس پر اپوزیشن ارکان نے بہت زیادہ احتجاج اور شور شرابہ کیا تو انہوں نے اپوزیشن ارکان کو تنبیہ کی کہ میں سارجنٹ ایٹ آرمز کو زحمت دے سکتی ہوں،یہ ڈرامے بند کریں آپکو وارننگ دے رہی ہوں ۔

اس موقع پرشہلارضا نے نصرت سحر عباسی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ مجھے جوتے دکھا رہی ہیں، نصرت سحر عباسی اپنے جوتے ہاتھ میں لیکر ڈپٹی اسپیکر کی نشست کے سامنے پہنچ گئی تھیں اور وہاں جاکر لہرارہی تھیں، شہلارضا نے کہا کہ یہ ڈرامے بند کریں آپکو وارننگ دے رہی ہوں،خاتون کارڈ یہاں پر بہت کھیلا جاچکاہے ۔ڈپٹی اسپیکر شہلا رضا اور کے مابین جھڑپ کے دوران خاصا شور شرابہ ہوتا رہا ۔

ڈپٹی اسپیکر نے کہا کہ پانچ دن سے ایوان میں بہت ڈرامے بازی ہورہی ہے۔انہوں نے جوتے دکھانے اور نامناسب طرز عمل اختیار کرنے پرنصرت سحر عباسی کو اسمبلی سے باہر نکالجانے کا حکم جاری کردیا۔اپوزیشن کے احتجاج کے دوران شہلا رضا نے کہا کہ سب وکیل بن کر کھڑے ہوجاتے ہیں یہاں جوتا دکھایا جاتارہا کسی نے کچھ نہیں کہا،آپ خون کو خون سے نہیں دھوسکتیں۔

جس پر قائد حزب اختلاف خواجہ اظہار نے کہا کہ اگر غلط بات ہوئی تو اپوزیشن کو بھی مذمت کرنی چاہیے تاہم یہ بھی مناسب بات نہیں ہے کہ ڈپٹی اسپیکر اپنی جماعت کی خواتین کو یہ کہہں کہ سب ملکر اپوزیشن کوجواب دیں یہ طریقہ غلط ہے ۔۔شہلا رضا نے کہا کہ انکو مسائل ہیں پورا ایوان دیکھتا ہے شہلارضانے کہا کہ اگر یہ جوتا دکھائیں تو میں کہوں گی یہ ایوان میں آنے کے قابل نہیں ۔

پیپلز پارٹی کی شہناز انصاری ، کلثوم چانڈیو نصرت سحر سے لڑنے اٴْن کی نشست پر پہنچ گئیں تاہم خواجہ اظہار اور ثمر علی خان نے بیچ بچائو کراکے انہیں واپس ان کی نشستوں پر بھیجا۔صوبائی وزیر صنعت منظور وسان نے کہا کہسیاستدانوں کو لڑاکر بدنام کرنے کی سازش ہورہی ہے پنجاب اور بلوچستان اسمبلی میں بھی یہی ہوا ہے وزیرثقافت سندھ سردار شاہ نے کہا کہ جب ایوان میں ہنگامہ ارائی ہوتی ہے تو اخبار میں سرخی لگتی ہے کہ ایوان مچھلی بازار بن گیا ،ڈر ہے کہ کل مچھیرے یہاں اکر جمع ہوکر کہیں کہ ہماری توہین نہ کرو سردار شاہ نے کہا کہ پوائنٹ اسکورنگ کے لیے کچھ بھی کہا جاسکتا ہے ۔

کل نامعلوم افراد کی طرف سے گفتگو ہوئی ۔انہوں نے کہا کہ ہم اردو کی کرامات کے عاشق ہیں ہم اردو بولنے والوں کے ساتھ عزت واحترام کے ساتھ پیش آئے ہیںسردار شاہ نے کہا کہ پکا قلعہ حیدرآِباد میروں تالپوروں کا بنایاہوا تھا پکا قلعہ میں ٹی وی فرج بیچ کر اسلحہ خریدنے کی تقریر کی گئی ،،جی ایم سید نے پاکستان کے قیام کی قرارداد پاس کیہم جی ایم سید کی پاکستان توڑنے کی بات کے خلاف ہیں ،،جی ایم سید کہتے تھے کہ پاکستان توڑنے کے منصوبے میں پیپلزپارٹی رکاوٹ ہے۔

انہوں نے کہا سندھ پرامن لوگوں کی سرزمین ہے 5 ہزار سال برس پرانے موہن جو دڑو کے آثار سے کوئی ہتھیار نہیں ملا،یہ پستول۔کی گولیاں ہم نے بعد میں دیکھی ہیں۔صوبائی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات سعید غنی نے کلفٹن کے اسکولوں میں ٹوائیلٹس کا کام رکوانے کا اعتراف کر تے ہوئے کہا کہ یہ کام میں نے رکوایا ہے کیونکہ پی ٹی آئی نے اسکولوں کے کام کو سیاسی بنانے کی کوشش کررہی تھی۔

انہوں نے کہا کہ کراچی میں حکومت سندھ نے ریکارڈ ترقیاتی کام کروائے ہیںشاہراہ فیصل پر انڈر پاس نیشنل ہائی وے پر فلائی اوور،یونیورسٹی روڈ کی دوبارہ تعمیر کی گئی ،صحت کے شعبے میں سندھ حکومت نے جوکام کئے ہیں ان کی مثال باقی صوبوں میں نہیں ملتی۔ماضی میں اوطاقوں کے لئے اسکول بناکر دیئے گئے۔سعید غنی نے کہا کہ ایک جج سے یہ یہ بات منسوب کرکے مشہور کی گئی کہ ایک گھرڈائن بھی چھوڑتی ہے ،یہ جھوٹ ہے کہ نوے ارب لاڑکانہ کودیئے گئے لاڑکانہ کوزیادہ سے زیادہ اٹھائیس ارب دیئے گئے۔

ایک ایم پی اے نے اسکول ٹھیک کرنے کے نام پر پی ٹی آئی کے ھینڈبل تقسیم کئے گئے۔سعیدغنی نے کہا کہ 42 ہزار اسکولوں میں سے 9 ہزار اسکولوں میں80 فیصد داخلے ہیں۔33 ہزار اسکولوں میں صرف 20 فیصد بچوں نے داخلے لیے ،،کراچی میں کلفٹن ، شاہراہ فیصل،طارق روڈ یونی ورسٹی روڈ بنائے گئے ۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن ثابت کرے کے لاڑکانہ کے لئے نوے ارب روپے مختص ہوئے تو میں سیاست چھوڑ دوں گالاڑکانہ میں دس برسوں میں 28 سے 30 ارب روپے کے فنڈ خرچ ہوئے تھرپارکر میں 70 ارب روپے خرچ ہوئیانہوں نے کہا کہ کراچی کے 4 اضلاع میں 4 بڑے جدید قبرستان بنائے جائیں گے نئے قبرستان آبادیوں سے دور ہوں گے جنکے لئے میت گاڑیاں بھی ہوں گی۔

انہوں نے کہا کہ فریال تالپور کے خلاف نیب پر کوئی مقدمہ نہیں جبکہ پیر پگارا کے خلاف نیب تحقیقات کر رہا ہے ۔۔مردم شماری پر سندھ حکومت نے مختلف فورم۔پر آواز اٹھائی ،،ایم کیو ایم نے کراچی کے لئے 25 ارب مانگ لئے لیکن مردم شماری پر بات نہیں کی۔سعید غنی۔۔ایم کیوایم کبھی صوبے کی بات کرتی ہے کبھی کہاجاتا ہے کہ یہ دھرتی ہماری ماں ہے اس کی تقسیم نہیں چاہتے پہلے یہ آپس میں توطہ کرلیں کہ یہ چاہتے کیا ہیں جام صادق اور لیاقت جتوئی کے وقت اردو بولنے والے وزیراعلی کا مطالبہ کیوں نہیں کیا گیا حالانکہ اس وقت ایم کیوایم بہتر پوزیشن میں تھی۔

انہوں نے کہا کہ کراچی میں واقعی مہاجر جاگ گیا ہے مہاجروں نے انکے جلسے کو مسترد کردیا ،آدھا گراؤنڈ بھی یہ لوگ نہیں بھر سکے ،لکھ لو الیکشن سے قبل یہ سب ایک ہونگے ،پی آئی بی، بہادرآباد اور پی ایس پی اور بھی پتہ نہیں کون کون ہوگا مگر اسکے باوجود عوام انہیں آئندہ الیکشن میں شکست دینگے سعید غنی نے کہا کہ یہ دنیا کا واحد شہر ہے جہاں ہاتھوں سے گٹر کی لائنیں بند کی جاتی ہیں ،یہ واحد شہر ہے جہاں ہندو اور کرسچن بھی زکواة اور فطرہ دیتے تھے خدا کا شکر ہے کہ اب اس شہر کیں امن ہے 2007 میں ایم کیوایم کی مرضی کے بغیر چڑیا پر نہیں مارسکتی تھی .۔

اردو بولنے والے بلاول بھٹو کی طرف دیکھ رہے ہیں پیپلزپارٹی انکے ارمانوں پر اوس ڈالنے جارہی ہے اسی لئے بہت سوں کو تکلیف ہے لیکن یہ بات یاد رکھی جائے کہ پیپلزپارٹی کراچی کی سب سے بڑی جماعت ہوگی۔ صوبائی وزیر تعلیم جام مہتاب ڈاہر نے کہا کہ ایک گائوں میں 18 اسکول بنائے گئے تھر میں ایک گاوں میں 23اسکول بنائے گئے انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ گندہمارے گلے میں ڈالنا چاہتے ہیں لیکن ہم انہیں ایسا نہیں کرنے دیں گے۔

2010 میں اسکولوں کی بارشوں سے نقصان پہنچا تھا۔۔سندھ میں 42 ہزار اسکول میںہیں۔ 1700اسکولوں کو بنیادی سہولیات فراہم کی ہیںچارکمروں کے 4000 اسکول کو بنیادی سہولیات فراہم کی جارہی ہے،4000ہزار اسکولوں کو صاف پانی فراہم جون تک کر دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے اپنے دور حکومت میں ریکارڈ سطح پر نئے اسکول اور کالجز قائم کئے ہیںپیپلزپارٹی نے اپنے دور میں صوبے بھر میں سینتالیس نئے کالجز بنائے ،پہلا میری ٹائم کیڈٹ کالج سندھ میں شروع ہونے والا ہے ۔

پانچ اضلاع میں کیڈٹ کالج بھی جلد شروع ہونگے مہتاب اکبر راشدی نے بہت تنقید کی انہوں نے کہا کہ جب انکے پاس اختیار تھا تو وہ اپنی کوئی کامیابی بتادیں ۔۔ایم کیوایم کے رکن فیصل سبزواری نے کہا کہ حزب اقتدار کے دوست شاید بھول گئے کہ روزے میں اگر جھوٹ بولیں گے تو روزہ خطرے میں پڑجائے گا۔شہری سندھ کو پیپلزپارٹی کی دوسری متواتر حکومت نے یکسر نظر انداز کیا ،تمام اختیارات اور پندرہ سو ارب کے بجٹ کے باوجود شہری سندھ کی حالت نہیں بدلی ،شہری سندھ کو بھی موہن کو دوڑو بنانے کی کوشش کی گئی ۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے بڑے پیپلزپارٹی یعنی بھٹو صاحب کے نعرے کے پیچھے تھے دیہی سندھ کو آپ نے بنانے کے بجائے اٴْجاڑا ہے اور آپ لوگ متعصب کے ساتھ ساتھ بدعنوان بھی ہیں انہوں نے کہا کہ متعصب، نااہل اور بدعنوان حکومت کے پاس اختیارات بھی ہوں تو پھر وہی ہوتا ہے جو حال اس وقت سندھ کا ہواہے ،فیصل سبزواری وزیر تعلیم کی میں قدر کرتا ہوں مگر نوکریاں بیچنا، ایک وقت میں چھ چھ سیکریٹریز بدلنا سب بدعنوانی کی وجہ سے ہواآپ وفاقی حکومت سے کہتے ہیں کہ سندھ کو نظر انداز کیا جارہا ہے دوسری جانب آپ خود کراچی سمیت شہری علاقوں کو نظر انداز کرتے ہیں،نیا صوبائی فنانس کمیشن آپ نہیں دے سکے کراچی کی آبادی ڈیڑھ کروڑ کم اور گم ہوگئی اپ خوش اور خاموش ہیں آپکی قیادت راو انوار کو بہادر بچہ کہتی ہے زمینوں کے بڑے بڑے اسکینڈلز میں یہ سہولتکار ہے راو انوار کی اپنی نجی جیل میں کتنے لوگ قید ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی اگر بھٹو اور بے نظیر والی پارٹی ہوتی توسندھ کا یہ حال نہ ہوتا ۔جب لوگوں کو حقوق نہیں دینگے تو الگ انتظامی یونٹ کی آوازیں اٹھیں گی سندھ کی ساری انتظامی تقسم ہوگئی تو سب خاموش رہے انہوں نے کہا کہ ملکی آئین کے تحت صوبے کے قیام کی خواہش غداری نہیں ،،غداری اور کفر کے سر ٹیفکیٹ بانٹنا بند کیے جائیں۔