عدالتی فیصلے کے باعث نجی تعلیمی ادارے مالی بحران کاشکارہوگئے

منتخب نمائندوں نے بحران پر ریگولیٹری اتھارٹی کااجلاس بلانے کیلئے درخواست جمع کرادی،نجی تعلیمی اداروں کوہراساں نہ کرنیکا مطالبہ پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ سر آنکھوں پرمگرحالیہ عدالتی فیصلے سے نجی تعلیمی ادارے بندہوناشروع ہونگے،سید انس تکریم ،فضل اللہ

ہفتہ مئی 19:48

پشاور۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 مئی2018ء) پرائیویٹ سکولزریگولیٹری اتھارٹی کے منتخب نمائندوں نے موجودہ بحران پر ریگولیٹری اتھارٹی کااجلاس بلانے کی درخواست ایم ڈی کے پاس جمع کرادی۔ پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ جس میں گرمی کی آدھی فیس کی وصولی ،تین فیصد سے زیادہ فیس میں اضافہ نہ کرنا اور بہن بھائی کا ادھا فیس لینا شامل ہے، نے نجی شعبے کو شدید بحران کا شکار کیا ہے۔

منتخب نمائندوں سید انس تکریم کاکاخیل اور فضل اللہ دائودزئی کے مطابق اتھارٹی میں بھرتی افسران قواعدوضوابط کے بغیر قاعدے قانون کو بالا ئے طاق رکھ کے نجی شعبہ کو ہراسان کر رہے ہیںاور بغیر لکھے ہوئے اعتراض ،تحقیق کے اور صفائی کا موقع دیئے بغیر کارروائی کر رہے ہیں ان سب باتوں اور کارروائیوں سے ایسا لگ رہا ہے جیسے آئین معلق ، بنیادی حقوق ختم اور تعلیمی ادارہ چلانا ناقابل معافی جرم ہو۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہاکہ پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ سر آنکھوں پرمگر ایک نجی ادارے کو چلانے کے اوسطً ماہانہ 80 فیصد خرچہ ہوتا55 سے 60 فیصد تنخواہ11سی12 فیصد کرایہ ,پانچ فیصدتزئن وآرائش ،ایک فیصدبلوں ،امتحان ،فرنیچراورریفریشمنٹ ، سب ملا کر80 فیصد خرچہ بنتا ہے بقایا 20 فیصد میں ٹیکسیسز بھی دینے ہوتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ حالیہ فیصلے کی رو سے ماہانہ10سی12فیصد خرچہ میں اضافہ ہوگا جبکہ سالانہ10 فیصد کرایہ میں اضافہ اور10سی12 فیصد انکریمنٹ بھی لگا ناہوتاہے جو عملی طور پر اداروں کو نو پروفٹ پر لے آئینگے اور ادارے بند ہونا شروع ہونگے ۔

15ہزارسے زیادہ اداری80 لاکھ طلبا اورسات لاکھ اساتذہ کا معاملہ ہے اتھارٹی کو تمام اعداد و شمار ہائیکورٹ کو جمع کر کے نظرثانی کی درخواست کرنی چاہئے اور ہائی کورٹ سے التجاہے کہ اس میں کمیشن مقرر کر کے اعدادوشمار کنفرم کر کے نظر ثانی کی جائے اور ریگولیٹری اتھارٹی کو اپنے قانون، قاعدوں اور ضا بطوں کا سختی سے پابند بنایا جائے۔