بلوچستان میں روایت شکنی کے مرتکب جعلی مینڈیٹ کے ذریعے اسمبلی تک رسائی حاصل کرنے والے لوگ اپنے پانچ سالہ دور اقتدار کی ناکامیوں کو چھپانے کی خاطر آنے والی نسلوں کیلئے باوقار زندگی گزارنے کا راستہ روک رہے ہیں،نوابزادہ میر حاجی لشکری خان رئیسانی

ہفتہ مئی 18:40

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 مئی2018ء) بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی کمیٹی کے رکن نوابزادہ میرحاجی لشکری خان رئیسانی نے گزشتہ روز صوبے کے بڑے ((جرگہ)) صوبائی اسمبلی کے اراکین کی معتبر اجتماع میں ہنگامہ آرائی ،تلخ کلامی اور ایک دوسرے کو دھکے دیکر ،سپیکر ڈائس کا گھیرائو کرکے مطالبات زر کی کاپیاں پھاڑ کر چیئر پرسن پر پھینکنے کے واقعات کو سیاسی جماعت کی بلوچستان سے دشمنی قرار دیتے ہوئے صوبائی اسمبلی کے باوقار ادارے کا وقار مجروح کرنے کی مذمت کی۔

اپنے مذمتی بیان میں نوابزادہ لشکری رئیسانی نے کہا کہ بلوچستان میں روایت شکنی کے مرتکب جعلی مینڈیٹ کے ذریعے اسمبلی تک رسائی حاصل کرنے والے لوگ اپنے پانچ سالہ دور اقتدار کی ناکامیوں کو چھپانے کی خاطر آنے والی نسلوں کیلئے باوقار زندگی گزارنے کا راستہ روک رہے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ صوبائی اسمبلی کے اجلاس کی صدارت کرنے والی خواتین رکن اسمبلی پر کاغذ کے ٹکڑے پھینک کرانکی تذلیل کرنے والے اراکین صوبے کی عظیم روایات سے نابلد ہیں۔

مذکورہ جماعت کے اراکین نے پانچ سالوں تک اقتدار میں رہنے کے باجوداپنی سابقہ ناکامیوں کو چھپانے کے لیے اخلاق سے گری حرکت کی ہے ایسے لوگ تاریخ میں سیاسی مجرم کے طور پر گردانے جائیں گے۔انہوںنے کہا ہے کہ بلوچستان میں ایک افراتفری کی کیفیت پائی جاتی ہے۔ سینیٹ انتخابات سے قبل ملک بھر میں بلوچستان کو بدنام کیا گیا ایسے میں صدیوں سے اپنے روایات کی امین سرزمین کے باوقار ایوان جس کی عظیم روایات رہی ہیںسیاسی جماعت کے اراکین کی جانب سے اس کی روایت شکنی کرکے بلوچستان کی خدمت نہیں بلکہ صوبے سے دشمنی کی گئی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان میں جرگہ اور معتبر اجتماعات کو بہت زیادہ احترام اور اسکے ممبران کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے مگر آج بلوچستان کے جرگہ(( صوبائی اسمبلی )کے اراکین کی حرکت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بلوچستان کے عظم معتبر روایات سے ناواقف ڈرامہ باز اسمبلی میں آکر بیٹھ تو گئے ہیںتاہم وہ باقاعدہ طور پر صوبائی اسمبلی میں اپنے صوبے اوراپنے ووٹر کی نمائندگی کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے۔