مسلم لیگ ن کے ساتھ ساتھ آزادکشمیر میں بھی پیپلز پارٹی کی وکٹیں گرنا شروع

سابق وزیر اعظم ممتاز راٹھور کے حقیقی بھتیجے اور الطاف راٹھور کے صاحبزادے شہاب راٹھور ایڈووکیٹ اور مسعود الرحمن شیرازی ایڈووکیٹ حلقہ حویلی کی درجنوں اہم شخصیات اپنے سینکڑوں ساتھیوں سمیت پی ٹی آئی کشمیر میں شامل

ہفتہ مئی 18:50

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 مئی2018ء) مسلم لیگ ن کے ساتھ ساتھ آزادکشمیر میں بھی پیپلز پارٹی کی وکٹیں گرنا شروع ہو گئیں۔ سابق وزیر اعظم ممتاز راٹھور کے حقیقی بھتیجے اور الطاف راٹھور کے صاحبزادے شہاب راٹھور ایڈووکیٹ اور مسعود الرحمن شیرازی ایڈووکیٹ حلقہ حویلی کی درجنوں اہم شخصیات اپنے سینکڑوں ساتھیوں سمیت پی ٹی آئی کشمیر میں شامل ہو گئے۔

اس بات کا اعلان انھوں نے آج یہاں پی ٹی آئی کشمیر کے مرکزی سیکریٹیریٹ اسلام آبادمیں بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کی موجودگی میں کیا۔اس موقع پر شمولیت اختیار کرنے والوں میںطارق راٹھور، راجہ عمران راٹھور،کلیم راٹھور، عابد راٹھور، سید حمودالرحمن، سید ضیاء الرحمن، سید حماد، سید دانش، بابر نذیر، سیدجمیل، طاہرراٹھور،ذیشان راٹھور، ذوالفقار راٹھور، سید کرامت حسین، راجہ محمد عظیم، عبدالباسط،شکیل عباسی، چوہدری مصطفی، متین اسلام فاروقی، شاہد محمود خان، زبیر احمد، راجہ فیصل، طفیل راٹھور، نور حسین خان اور دیگر شامل تھے۔

(جاری ہے)

آزاد کشمیر کے سابق وزیر اعظم و پی ٹی آئی کشمیر کے صدربیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے اس موقع پر پی ٹی آئی کشمیر میں شمولیت اختیار کرنے والوں کو خوش آمدید کرتے ہوئے کہا کہ آپ بالکل صحیح وقت میں پی ٹی آئی میں شامل ہوئے ہیںنہ صرف یہ کہ ہم نے پی ٹی آئی کشمیر کی آزاد کشمیر میں ممبر شپ شروع کی ہوئی ہے بلکہ عید کے فوراً بعد تنظیم سازی بھی مکمل کریں گے بلکہ آج سے ٹھیک بارہ روز بعد پاکستان میں مسلم لیگ ن کی حکومت ختم ہو نے والی ہے اور اسکے ساتھ ہی آزاد کشمیر سے اسکی لولی لنگڑی حکومت کا بھی خاتمہ ہو جائے گا کیونکہ یہ حکومت پاکستان میں ن لیگ کی حکومت کی بیساکھیوں کے سہارے چل رہی ہے۔

لیکن پاکستان میں مسلم لیگ ن کی حکومت کے خاتمے کے چند روز بعد یہ برائے نام حکومت بھی آزاد کشمیر سے ختم ہو جائے گی۔ کیونکہ اس دھاندلی کی پیداوار حکومت کے کوئی سر پائوں نہیں ہیں۔ لیکن چونکہ آزاد کشمیر میں مسلم لیگ ن کی حکومت نے عوامی مینڈیٹ بلڈوز کیا تھا ۔ لیکن اب پی ٹی آئی کے اقتدار کا سورج طلوع ہونے والا ہے اور لوگ تیزی سے پی ٹی آئی میں شامل ہو رہے ہیں۔

نواز شریف کے بیانیے کے بعد مسلم لیگ ن کا سیاسی دیوالیہ ہو چکا ہے جبکہ پیپلز پارٹی پہلے ہی اپنی کرپشن ، لوٹ ماراور مجرمانہ حرکتوں کی وجہ سے قصہء پارینہ بن چکی ہے۔ عوام اب با شعور ہو چکے ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ عمران خان کو وزیر اعظم دیکھنا چاہتے ہیں اور عمران خان کے وزیر اعظم بننے کے بعد ٹھنڈی سیاسی ہوائیں آزاد کشمیر میں بھی چلنا شروع ہو جائیں گی۔

آزاد کشمیرمیں بھی کڑا احتساب ہونے والا ہے میں نے بیوروکریٹس کی ہمیشہ عزت کی ہے لیکن اب نہیں میں متنبہ کرتا ہوں کہ انہیں جو عادتیں چوہدری مجید اور فاروق حیدر کی حکومتوں نے ڈالی ہیں ان سے باز آجائیں۔انہیں ایک ایک پائی کا حساب لیا جائے گا۔ جس سے وہ کسی صورت اب بچ نہیں سکیں گے۔ میں پی ٹی آئی کشمیر کے کارکنوں سے بھی کہوں گا کہ وہ اگر کوئی کام میرٹ سے ہٹ کو ہوتا دیکھیں تو وہ اسکی نشاندہی کریں بلکہ خود اس کا احتساب بھی کریں کیونکہ اب انکے احتساب کا وقت آچکا ہے۔

بیرسٹرسلطان محمود چوہدری نے کہا کہ میں شہاب راٹھور اور مسعود الرحمن اور انکے تمام ساتھیوں کا پی ٹی آئی کشمیر میں شمولیت پر مشکور ہوں اور انکی پی ٹی آئی کشمیر میں شمولیت سے پورے آزاد کشمیر بالخصوص حویلی اور مظفر آباد میں پی ٹی آئی کو خاصی تقویت ملے گی۔بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے کہا کہ میں آپ لوگوں سے کہوں گا کہ تیزی سے ممبر شپ مہم مکمل کریں تاکہ اسکے بعد انکی حیثیت اور مرتبے کے مطابق عہدے دئیے جا سکیںکیونکہ پہلے تنظیم جلد بازی میں بنائی گئی تھی اورجس طرح آزاد کشمیر کے الیکشن میں عوامی مینڈیٹ چرایا گیا تھا اس سے بھی اگرچہ کچھ لوگوں کو مایوسی ہوئی تھی لیکن اب جو پارٹی میں کام کرے گا اور متحرک ہو گا اور کمٹمنٹ دکھائے گا اسی کو عہدے دئیے جائیں گے۔

اب میں خود عہدے دونگا۔ اسلئے کام کرنے والے متحرک کارکن کسی کا سہارا لینے کی بجائے مجھ سے براہ راست رابطہ کریں میں اپنی روایت کے مطابق ہر حلقے میں افطار ڈنر کے موقع پر جلسوں سے خطاب کر رہا ہوں وہ خود پارٹی سیکریٹیریٹ میں آکر مجھ سے مل سکتے ہیں۔ ہم ملکر پی ٹی آئی کو آزاد کشمیر میں ناقابل تسخیر قوت بنا دیں گے۔جب ہم اقتدار میں آئیں گے تو پوری قوت سے آزاد کشمیر سے کرپشن،، تعصب اور اقرباء پروری کی سیاست کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دفن کر دیں گے اور آزاد کشمیر کو صحیح معنوں میں آزادی کا بیس کیمپ بنائیں گے۔اس موقع پر پی ٹی آئی کشمیر کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات سردار امتیاز خان بھی موجود تھے۔راٹھور