روایتی ورسمی اعلانات سے فلسطین کا دفاع نہیں کیا جاسکتا ‘ ایم آر پی

رسمی بیانات و اعلانات ظالموں کو ظلم کیلئے مزید مہلت ووقت فراہم کرنا ہیں ‘ محمدعرفان سولنگی ْاو آئی سی اجلاس اعلامیہ ثبوت ہے کہ مسلم قیادت فلسطین و القدس کیلئے کچھ نہیں کرنا چاہتی !

ہفتہ مئی 18:50

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 مئی2018ء) اسلامی ریاستوں کو اسرائیلی ‘ امریکی اور بھارتی شر سے محفوظ رکھنے اور دنیا میں بسنے والے مسلمانوں کا تحفظ کرنے کیلئے جس اتحاد ‘یکجہتی ‘ خلوص ‘ ایثار ‘ ہمت ‘ جرأت اور استقامت کی ضرورت ہے اسلامی ممالک کی قیادت اس سے محروم و بے بہرہ اور حرص ‘ حسد ‘ ہوس‘ لالچ ‘ منافقت ‘ مفاد پرستی اور ابن الوقتی کے خمیر میں گندھی دکھائی دے رہی ہے یہی وجہ ہے کہ ترکی کے دارالحکومت استنبول میں طیب اردگان کی صدارت میں ہونے والے او آئی سی کے ہنگامی اجلاس میں بھی فلسطین میں جاری اسرائیلی مظالم کو روکنے اور قبلہ اول کو اسرائیلی تسلط سے نجات دلانے کیلئے واضح حکمت عملی وضع کرنے کی بجائے رسمی و روایتی بیانات و اعلانات سے کام چلانے کی کوشش کی گئی اور طیب اردگان کی کاوش کو سراہنے کیساتھ فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم کو جنگی جرائم‘‘امریکی سفارتخانے کی غزہ منتقلی کو مجرمانہ اقدام ‘ اقوام متحدہ و عالمی قوانین کی خلاف ورزی اور مسلم اُمہ کیخلاف اشتعال انگیزی و دشمنی دینے اور القدس کی تاریخی و قانونی حیثیت کیلئے ہر ممکن اقدام اٹھانے کی روایت دہرانے کی سو اکچھ نہیں کیا گیاجبکہ حالات جس نہج پر پہنچ چکے ہیں اسے دیکھتے ہوئے یہ لگتا ہے کہ رسمی بیانات ‘ مطالبات اور اعلانات کی حیثیت وقت کے ضیاع اور ظالم قوتوں کو ظلم کیلئے مزید مہلت فراہم کرنے کے مترادف ہے اسلئے مگر مچھ کے آنسوؤں کی روایت سے باہر نکل مسلم ریاستوں اور مسلمانوں کے تحفظ و دفاع کیلئے کچھ کرنے کی ضرورت ہے مگر افسوس کہ اوآئی سی کے اجلاس کے اعلامیہ و اعلانات سے پتا چل رہا ہے کہ اسلامی ممالک کے سربراہان اپنی روایتی مفاد پرستی سے ہٹ کر عالم اسلام کیلئے کچھ کرنے کیلئے تیار و آمادہ نہیں ہیں !