سرگودھا ڈویژن میں 14 لاکھ ایکٹر سے زائد پر گندم کی کاشت کی کٹائی کا عمل مکمل

حکومت کی جانب سے 1300 فی 40کلوگرام ریٹ مقرر ہونے کے باوجود اوپن مارکیٹ میں مڈل مین کی1040 سے 1120 روپے میں خرید جاری ، حکومت کی ناقص پالیسی پر کاشتکار شدید پریشان اگلے سال گندم کاشت کرنے سے انکار

ہفتہ مئی 18:50

سرگودھا(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 مئی2018ء) سرگودھا ڈویژن میں 14 لاکھ ایکٹر سے زائد پر گندم کی کاشت کی گئی جس کی کٹائی کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے،،حکومت کی جانب سے 1300 فی 40کلوگرام ریٹ مقرر ہونے کے باوجود اوپن مارکیٹ میں مڈل مین کی1040 سے 1120 روپے میں خرید جاری ، حکومت کی ناقص پالیسی پر کاشتکار شدید پریشان اگلے سال گندم کاشت کرنے سے انکار،ذرائع کے مطابق سرگودھا ڈویژن میں14 لاکھ 84 ہزار ایکٹر اراضی پر گندم کاشت کی گئی تھی جس کی کٹائی کا عمل 95 فیصد تک مکمل کر لیا گیا ہے، ضلع سرگودھا میں 4 لاکھ 77 ہزار ایکٹر، ضلع خوشاب میں2 لاکھ 27 ہزار،ضلع میانوالی میں 3 لاکھ 82 ہزار اور ضلع بھکر میں 3 لاکھ 98 ہزار ایکٹر پر گندم کاشت کی گئی تھی،،پنجاب حکومت کی جانب سی57 ہزار کاشکاروں سے باردانہ کیلئے درخواستیں وصول کی گئی تھی ، حکومت کی ناقص پالیسی کے تحت 13 سو فی 40 کلو ریٹ مقرر کرنے کے باجود حکومتی احکامات کو ہوا میں اڑاتے ہوئے مڈل مین اور اوپن مارکیٹ میں گندم 1040 سے 1120 روپے میں کھلے عام فروخت ہو رہی ہے جس سے کاشتکار کو نقصان ہو رہاہے،گندم کی 100 کلو کی بوری حکومتی مراکز پر 3250 روپے میں خرید کی جا رہی ہے جبکہ اوپن مارکیٹ میں 2600 سے 2800 روپے تک خرید کی جا رہی ہے ضلع انتظامیہ کی عدم توجہی کے باعث سرگودھا کے کاشتکار اپنی گندم 650 روپے فی بوری کے حساب سے کم میں فروخت کرنے پر مجبور ہیں جس کا فائدہ دوکاندار کو یا مڈل مین کو پہنچ رہا ہے کاشتکاروں نے کہا ہے کہ حکومت کی ناقص پالیسی کے تحت وہ اپنی گندم کم قیمت پر فروخت کرنے پر مجبور ہیں کیونکہ گندم کی کاشت میں ان کی مہینوں کی محنت شامل ہیں اور نئی فصل کاشت کرنے کیلئے اس کی فروخت ضروری ہے حکومت کو چاہیں کہ وہ سرکاری گوداموں اور اوپن مارکیٹ کے ریٹ مقرر کریں اور کاشتکاروں کو مڈل میں سے بچائیں کاشتکاروں نے کہا کہ اگر یہ ہی حالات رہے تو وہ آئندہ سال گندم کی کاشت نہیں کریں گے ،

متعلقہ عنوان :