حکومت نے اپنے اتحادیوں کے تحفظات کو نظر انداز کردیا

فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم کرنے ، صوبائی اسمبلی میں نمائندگی دینے سے متعلق آئین میں ترمیم کا بل قومی اسمبلی میں پیش کرنے کا حتمی فیصلہ جے یو آئی ف اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے علاؤہ باقی تمام جماعتیں اس حوالے سے متفق ہوگئی ہیں

ہفتہ مئی 18:50

آسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 مئی2018ء) حکومت نے اپنے اتحادیوں جے یو آئی ف اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے تحفظات کو نظر انداز کرتے ہوئے فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم کرنے اور صوبائی اسمبلی میں نمائندگی دینے سے متعلق آئین میں ترمیم کا بل قومی اسمبلی میں پیش کرنے کا حتمی فیصلہ کرلیا ہے کیونکہ جے یو آئی ف اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے علاؤہ باقی تمام جماعتیں اس حوالے سے متفق ہوگئی ہیں زرایع کے مطابق آئینی ترمیم کے بل کو حتمی شکل دینے کے لیے چھٹی کے باوجود ہفتہ کو قومی اسمبلی میں پارلیمانی رہمنائوں کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں سپیکر چیمبر میں ہوا اجلاس میں فاٹا اصلاحاتی بل پر مشاورت کی گئی ایم کیو ایم اور جے یو آئی کے علاوہ دیگر تمام جماعتوں کے رہنما شریک ہوئے۔

(جاری ہے)

اجلاس میں شیر یں مزاری شاہ محمود قریشی،، شیری رحمن، آفتاب شیرپاؤ اور دیگر رہنما شریک ہوئیبیرسٹر طفراللہ اور وزارت قانون کے حکام نے مجوزہ بل پر بریفنگ دی۔اجلاس کے بعد آن لائنسے گفتگو میں جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر صاحب زادہ طارق اللہ نے بتایا کہ فاٹا اصلاحات پر اتفاق رائے پایا جاتا ہے، دو تین دن بعد بل قومی اسمبلی میں ٹیبل ہو جائے گا، وزیراعظم کے معاون خصوصی بیرسٹر ظفر اللہ نے بتایا کہ آج کا اجلاس تیاری کے حوالے سے تھا۔

باقاعدہ اجلاس پیر کو دوپہر ایک بجے متوقع ہے۔جس میں فاٹا اصلاحات کے بل۔کو حتمی شکل دی جائے گی اجلاس میں حکومتی اتحادی جے یو آئی ف اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے پارلیمانی لیڈر ز نے شرکت نہیں کی ان۔کا موقف ہے کہ فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم نہ کیا جائے فاٹا کی موجود ہ حیثیت ہی برقرار رکھی جائے کیونکہ آئین کے مطابق فاٹا کی الگ حیثیت ہے جو برقرار رہنی چاہیے جبکہ حکومت کا موقف ہے فاٹا کے لوگو ں اور اراکین پارلیمنٹ سے مشاورت کے بعد فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم کرنے کا فیصلہ کیاگیا ہے اور اکثر جماعتیں اس کی حامی ہیں واضح رہے کہ عسکری قیادت نے بھی اس حوالے سے فاٹا کے عوام۔کی خواہشات کو مد نظر رکھتے ہوئے فیصلہ کرنے کی تجویز دی تھی