غریب آدمی الیکشن نہیں لڑ سکے گا :ء میں ملک کے مہنگے ترین الیکشن میں80فیصد عوام کے لئے نمائندگی حاصل کرنے کے تمام دروازے بند کردئیے گئے

کسی بھی امیدوار کو قومی اسمبلی کی نشست پر الیکشن لڑنے کیلئی30ہزار روپے فیس جمع کروا کر کاغذات نامزدگی حاصل کرنا ہوں گے جبکہ صوبائی اسمبلی کے امیدوار کیلئے کاغذات نامزدگی کی فیس20ہزار روپے مقرر کردی گئی

ہفتہ مئی 18:50

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 مئی2018ء) غریب آدمی الیکشن نہیں لڑ سکے گا،2018ء میں ملک کے مہنگے ترین الیکشن میں80فیصد عوام کے لئے نمائندگی حاصل کرنے کے تمام دروازے بند کردئیے گئے،کسی بھی امیدوار کو قومی اسمبلی کی نشست پر الیکشن لڑنے کیلئی30ہزار روپے فیس جمع کروا کر کاغذات نامزدگی حاصل کرنا ہوں گے جبکہ صوبائی اسمبلی کے امیدوار کیلئے کاغذات نامزدگی کی فیس20ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔

قومی اور صوبائی نشستوں پر امیدواروں کے لئے انتخابی مہم پر اخراجات کی حد بھی مقرر کردی گئی ہے جبکہ انتخابات میں ضمانت ضبط ہونے کا طریقہ کار بھی تبدیل کردیاگیا ہے۔۔الیکشن کمیشن نے اپنے تازہ فیصلوں کی منظوری لینے کیلئے سمری تیار کرلی ہے جو جلد صدر مملکت کو بھجوا دی جائے گی۔

(جاری ہے)

الیکشن کمیشن کی تیار کردہ سمری میں شرط رکھی گئی ہے ک کسی بھی امیدوار کو یہ یقین ہونا چاہئے کہ وہ اس حلقے میں درج کل ووٹوں کا ایک چوتھائی ضرور حاصل کرلے گا۔

نتائج آنے پر اگر حاصل کردہ ووٹ ایک چوتھائی سے کم ہوئے تو امیدوار کی زرضمانت ضبط کرلی جائے گی،اس سے قبل ووٹ کی کم سے کم حد ساڑھے بارہ فیصد طے تھی۔ماضی میں قومی اسمبلی کے امیدوار کے لئے کاغذات نامزدگی فیس صرف4ہزار روپے مقرر تھی جبکہ صوبائی اسمبلی کے امیدوار کیلئے یہ فیس2000 روپے طے تھی اب اس فیس میں کئی سو گنا اضافہ کرکے بالترتیب 30ہزار روپے اور20 ہزار روپے مقرر کردی گئی ہے۔

الیکشن کمیشن کے سمری ڈرافٹ کے مطابق آئندہ انتخابی اخراجات کے حوالے سے قومی اسمبلی کا امیدوار40لاکھ روپے جبکہ صوبائی اسمبلی کا امیدوار20 لاکھ روپے تک انتخابی اخراجات کرسکے گا۔نئے قواعد وضوابط کی رو سے الیکشن کمیشن انتخابی عمل کے لئے عدلیہ سے ہٹ کر کسی دوسرے سرکاری محکموں سے افسران واہلکاران بھی تعینات کرسکتا ہے جبکہ انتخابی اخراجات کی سخت مانیٹرنگ کے لئے ریٹرننگ افسران کو اپنی مرضی سے مانیٹرنگ ٹیمیں تشکیل دینے کا اختیار بھی دیدیاگیا ہے۔

ریٹرننگ آفیسرز اپنے من پسند افراد کی فہرست الیکشن کمیشن کو بھجوائیں گے۔۔الیکشن 2018ء کی حتمی تاریخ کے تعین کیلئے تین مختلف تاریخوں کی سمری صدر مملکت کو بھجوائی جائے گی۔آئین کے مطابق پرانی اسمبلی کی مدت ختم ہونے کی60 روز میں انتخابات کرانے لازمی ہیں تاہم اس مرتبہ عید کی تین تعطیلات کے باعث یہ حد57 دن رہ گئی ہے۔سمری رواں ہفتے صدر مملکت کو منظوری کیلئے بھجوائی جائے گی۔