بھارتی وزیر اعظم کے دورہ مقبوضہ کشمیر کیخلاف کشمیریوں کی مکمل ہڑتال ، کاروبارزندزی مفلوج

لالچوک کی طرف مارچ کو روکنے کیلئے سرینگر میں کرفیو جیسی پابندیاں نافذ ، موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسز معطل میرواعظ عمر فاروق سمیت متعدد حریت رہنما گرفتار ، دیگر کو انکے گھروں میں نظر بندکردیا گیا

ہفتہ مئی 18:50

سرینگر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 مئی2018ء) مقبوضہ وادی میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے دورے کیخلاف کشمیری عوام کی جانب سے مکمل ہڑتال کی گئی جس سے کاروبار زندزی مفلوج رہا جبکہ ریاستی انتظامیہ نے لوگوں کو سرینگر کے تاریخی لالچوک کی طرف احتجاجی مارچ سے روکنے کیلئے شہر میں کرفیو جیسی پابندیاں نافذ کر دیں، موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسز معطل کر د ی گئی ، جبکہ میرواعظ عمر فاروق سمیت متعدد حریت رہنمائوں کو گرفتار اور دیگر کو انکے گھروں میں نظر بندکردیا گیا تھا ۔

تفصیلات کے مطابق مارچ کی کال سیدعلی گیلانی ، میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک پر مشتمل مشترکہ حریت قیادت نے دے رکھی تھی ۔ بھارت کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے سرینگر کے لالچوک میں ہی ایک عوامی اجتماع سے اپنی تقریر کے دوران کشمیریوں کو انکا ناقابل تنسیخ حق، حق خود ارادیت دینے کا وعدہ کیا تھا۔

(جاری ہے)

حریت رہنمائوںاورتنظیموں کی اپیل پر مودی کے دورے کے موقع پر مکمل ہڑتال کی گئیتمام دکانیں اور کاروباری مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر ٹریفک معطل رہی ،جس سے کاروبارزندزی مفلوج ہو کر رہ گیا اس موقع پر لوگوں نے اپنے گھروں کی چھتوں اور دیگر مقامات پر سیاہ جھنڈے بھی لہرائے ۔

ریاستی انتظامیہ نے مارچ کو روکنے کیلئے لالچوک کی طرف جانے والے تمام راستے سیل کر دیے اورسرنگر اور دیگر تمام بڑے قصبوں میں بڑی تعداد میں بھارتی فوجی اور پولیس اہلکار تعینات کر دیے گئے تھے ۔دریں اثناء بھارتی پولیس نے حریت فورم کے چیئرمین میر واعظ عمر فاروق کو سرینگر میںلالچوک کی طرف مارچ کی قیادت سے روکنے کیلئے گرفتار کر لیا۔ میر واعظ عمر فاروق کو اسوقت گرفتار کیا گیا جب وہ گھر میں اپنی نظر بندی کی پرواہ نہ کرتے ہوئے مارچ کے لیے گھر سے باہر آئے۔

گھر کے باہر موجود بھارتی پولیس اہلکاروں نے انہیں گرفتار کر کے شہرکے نگین تھانے میں منتقل کر دیا۔ پولیس نے میر واعظ فورم کے رہنما ہلال احمد وار کو بھی مائسمہ سرینگر سے مارچ کی کوشش کے دوان گرفتار کر لیا۔ انہیں کوٹھی باغ تھانے میں نظر بند کیا گیا۔۔بھارتی پولیس نے جموںوکشمیر لبریشن فرنٹ کے رہنمائوں شیخ عبدالرشید، بشیر احمد کشمیر اور دیگر کو متعدد کارکنوں کے ہمراہ اس وقت گرفتار کر لیا جب وہ پابندیوں کے باوجود بڈشاہ چوک پہنچے اور لالچوک کی طرف مارچ کی کوشش کی۔

انتظامیہ نے سید علی گیلانی،، ، محمد یاسین ملک، محمد اشرف صحرائی، غلام احمد گلزار محمد یوسف نقاش ، محمد اشرف لایہ ،بلال صدیقی، مختار احمد وازہ، ظفر اکبر بٹ، جاوید احمد میر اور دیگر حریت رہنمائوں کو مارچ کی قیادت سے روکنے کیلئے گھروں اور تھانوںمیں نظر بندکر رکھا ہے۔ انتظامیہ نے پوری مقبوضہ وادی میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی ہیں جبکہ طلباء کو احتجاجی مظاہروں اور لالچوک کی طرف مارچ سے روکنے کے لیے تعلیمی ادارے بھی بند رکھنے کااعلان کیا گیا ہے۔

حریت قیادت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے مقبوضہ علاقے کے مجوزہ دورے کا مقصد عالمی برادری کو یہ جھوٹا تاثر دینا ہے کہ کشمیری عوام بھارت کے ساتھ خوش ہیں حالانکہ بھارت نے مقبوضہ علاقے کو جہنم زار بنارکھا ہے۔انہوں نے مودی کے دورے کے موقع پر ریاستی انتظامیہ کی جانب سے کرفیو کے نفاذ ،گرفتاریوں اور دیگر پابندیوں کی بھی مذمت کی ہے اور کہا کہ بھارت ایسے اوچھے ہتھکنڈوں سے کشمیریوں کی آواز کو نہیں دباسکے گا ۔ ۔