بھارت نے نواز شریف کو بہتریں آپشن اور عمران خان کو کڑوی گولی قرار دے دیا

نواز شریف ہمارے لیے اچھا انتخاب ہیں ، ہم ممبئی حملوں سے متعلق بیان کے بعد نواز شریف کے لیے خیر مقدمی اقدامات اٹھانا چاہتے تھے لیکن پھر ہم رک گئے،بھارتی سیکرٹری خارجہ وجے کیشو گھوکلے

Syed Fakhir Abbas سید فاخر عباس ہفتہ مئی 19:03

بھارت نے نواز شریف کو بہتریں آپشن اور عمران خان کو کڑوی گولی قرار دے ..
لاہور (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار-19مئی 2018ء) ::بھارت نے نواز شریف کو بہتریں آپشن اور عمران خان کو کڑوی گولی قرار دے دیا۔۔بھارتی سیکرٹری خارجہ وجے کیشو گھوکلے نے انکشاف کیا ہے کہ نواز شریف ہمارے لیے اچھا انتخاب ہیں معلوم نہیں ہم عمران خان کے ساتھ کیسے چل سکیں گے ،انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ ہم ممبئی حملوں سے متعلق بیان کے بعد نواز شریف کے لیے خیر مقدمی اقدامات اٹھانا چاہتے تھے لیکن پھر ہم رک گئے کیونکہ یہ چیز انکے مخالفین کو فائدہ دے سکتی تھی۔

تفصیلات کے مطابق سابق نواز وزیر نواز شریف ، ممبئی حملوں سے متعلق متنازعہ بیان دینے کے بعد خبروں ی زینت بنے ہوئے ہیں ۔ایک جانب پاکستان میں ایک بڑا حلقہ نواز شریف کے موقف کا حامی نظر نہیں آتا تو دوسری جانب بھارتی میڈیا اور سیاستدان سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے بیان کو اپنی بہت بڑی سفارتی کامیابی قرار دے رہے ہیں اور سابق وزیر اعظم کے بیان کو اقوام متحدہ سمیت دیگر فورمز پر پاکستان کے خلاف ثبوت بنا کر پیش کر رہے ہیں۔

(جاری ہے)

اس حوالے سے بھارتی حکام کی جانب سے نواز شریف کو بہتریں آپشن اور عمران خان کو کڑوی گولی قرار دیا جارہا ہے۔۔بھارتی سیکرٹری خارجہ وجے کیشو گھوکلے نے انکشاف کیا ہے کہ نواز شریف ہمارے لیے اچھا انتخاب ہیں ، ہمیں نہیں معلوم کہ ہم عمران خان کے ساتھ کیسے چل سکیں گے۔وزیر اعظم نریندر مودی کی روسی صدر پوٹن سے ملاقات کے بارے میں بھارتی اخبارات کے ایڈیٹرز کو بریفنگ دیتے ہوئے بھارتی سیکرٹری خارجہ وجے کیشو گھوکلے کا کہنا تھا کہ بھارتی وزیر خارجہ نے سرکاری سطح پر نواز شریف کے بیان کا خیر مقدم کرنے کا فیصلہ کیا تھا مگر پھر ہمیں لگا کہ نواز شریف کے بیان کا خیر مقدم کرنا انہیں مشکلات سے دوچار کر دے گا اور انکے سیاسی مخالفین ہمارے اس اقدام کو نواز شریف کے خلاف استعمال کریں گے۔

انکا مزید کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی جب تک اقتدار سے باہر ہوتی ہے تب تک وہ خود جمہوریت اور بھارت کی دوست ظاہر کرتی ہے لیکن جیسے ہی وہ اقتدار میں آتی ہے ٹریک بدل کر فوج کے ساتھ ہو جاتی ہے۔