بلوچستان اسمبلی اجلاس

آن گوئننگ اسکیمات اتنی ہیں کہ اگلی تین چار حکومتیں بھی انہیں پورا نہیں کرسکتیں حکومت نے جلد بازی میں بجٹ بنایا، پارلیمانی لیڈر سردار اسلم بزنجو اپوزیشن لیڈر کو حکومت سے نکال کر اپوزیشن میں بھیجا گیا ہے ورنہ وہ چھٹا بجٹ پیش کرنے کی بھی تیاری کر رہے تھے، پارلیمانی لیڈرانجینئر زمرک خان اچکزئی

ہفتہ مئی 19:10

کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 مئی2018ء) بلوچستان اسمبلی کا اجلاس ہفتہ کو ایک گھنٹے کی تاخیر سے اسپیکر راحیلہ حمید خان درانی کی صدارت میں شروع ہوا ۔اجلاس میں بجٹ پربحث میں حصہ لیتے ہوئے نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر سردار اسلم بزنجو نے کہا کہ 352ارب روپے کا بجٹ پیش کیا گیا ہے اسوقت بلوچستان کی آبادی کم و بیش 1کروڑ 22لاکھ ہے جبکہ صوبے میں اڑھائی لاکھ سرکاری ملازمین ہیں بجٹ میں 61ارب روپے کا خسارہ ہے اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے تو بجٹ میں ترقیاتی مد میں صرف 27ارب روپے ہیں بجٹ خسارہ بڑھتا جارہا ہے اور آن گوئننگ اسکیمات اتنی ہیں کہ اگلی تین چار حکومتیں بھی انہیں پورا نہیں کرسکتیں حکومت نے جلد بازی میں بجٹ بنایا ۔

انہوں نے کہا کہ صوبے میں ایسے حلقے بھی ہیں جنہیں اربوں روپے دیئے گئے جبکہ کئی حلقوں کو نظر انداز بھی کیا گیا ہم سے ترجیحات مانگی گئیں مگر پھر بھی انہیں نظرانداز کردیا گیا یہ عوامی نمائندوں کے ساتھ زیادتی ہے ۔

(جاری ہے)

عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈرانجینئر زمرک خان اچکزئی نے کہا کہ بجٹ حکومت کی جانب سے عوام پر سرمایہ کاری کا نام ہے جس میں لوگوں کو سہولیات دی جاتی ہیں ہر سال بجٹ بنتا ہے اور خسارہ ہوتا ہے 2013ء میں جب یہ اسمبلی بنی تو ہم 12ارکان اپوزیشن میں ہوتے تھے پانچ سال تک نیشنل پارٹی اور پشتونخواملی عوامی پارٹی نے اپوزیشن کا استحصال کیا 2013ء میں ہمیں کچھ بھی نہیں دیا گیاہم نے جمہوری طور پر احتجاج کیا جسکے بعد ہمیں 5کروڑ اور گزشتہ بجٹ میں8کروڑ اور اب 12کروڑ ملے ہیں 5سال تک بجٹ لینے والے آج اس بجٹ میں کیوں حصہ مانگ رہے ہیں ہمیں تو ریلیز بھی نہیں ملتی تھیں ہمارے تمام فنڈز سرنڈر اور لیپس ہوجاتے تھے اسکا حساب کون دیگا۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کو حکومت سے نکال کر اپوزیشن میں بھیجا گیا ہے ورنہ وہ چھٹا بجٹ پیش کرنے کی بھی تیاری کر رہے تھے وزیراعلیٰ اورانکی ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے کہ انہوں نے کم عرصے میں اچھا بجٹ بناکر پیش کیا اور ارکان اسمبلی کے ساتھ گزشتہ پانچ سال سے ہونے والے مظالم کا ازالہ کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ بجٹ میں نادار افراد کیلئے انشورنس اسکیم ،بے روزگاروں کیلئے انٹرن شپ اسکیم ،چیک ڈیم ‘کھیلوں اور لیپ ٹاپ اسکیمات جیسے منصوبے شامل ہیں اپوزیشن لیڈر اورانکے اتحادی بتائیں کہ انہوں نے پانچ سال میں بلوچستان کو کونسے میگا منصوبے دیئے اپوزیشن لیڈر نے دعویٰ کیا کہ ہم نے یونیورسٹیاں بنائی ہیں وہ یہ بتادیں کہ 2013ء کے بعد کونسی یونیورسٹی ایچ ای سی سے منظور شدہ اور رجسٹرڈ ہے کونسے ڈیم بنائے اور رابطہ سڑکیں بنائی گئیں کیا آج اعتراض کرنے والوں نے اپنے دور میں ایسے بجٹ دیئے جیسے آج کی حکومت نے دیااپنے وہ اپنے وقت کاریکارڈ دیں پھر ہم پر اعتراض کریں ۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر نے جو تقریر کی وہ بجٹ سے متعلق نہیں تھی انکے پاس اعدادو شمار نہیں تھے ہماری اسکیمات کو انہوں نے اپنے دور میں ناجائز طریقے سے روکا پانچ سال میں میرے حلقے میں صرف 8کلو میٹر روڈ بنے کل حکومت میں رہنے والے آج رو رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ پچھلے ادوار میں میرے حلقے میں جو ہسپتال بنے انہیں سیاسی بنیادوں پر فعال نہیں ہونے دیا گیااور آج وہ کھنڈرات کا منظرپیش کر رہے ہیں ایک حلقے میں 300ڈیم جس طرح بنائے گئے وہ ہمیں معلوم ہے ایک ضلع کو 8ارب روپے دینا کہاں کا انصاف ہے جو لوگ یہ دعوے کرتے ہیں کہ وفاقی بجٹ میں کچھ نہیں ملتا انہی جماعتوں کے سربراہ نواز شریف کے رائٹ اور لیفٹ ہینڈ ہیں سیاست میں اتحاد ہونا کوئی بری بات نہیںلیکن انہوں نے پانچ سال میں وفاق سے بلوچستان کوکیا دیا سی پیک سے بلوچستان کو کیا دلوایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں اس بجٹ سے اس لئے سروکار نہیں کیونکہ یہ آئندہ حکومت کیلئے بنایا گیا ہے وزیراعلیٰ ،پی اینڈ ڈی ،محکمہ خزانہ کو داد دیتا ہوں جنہوں نے کم وقت میں بہترین بجٹ بنایااجلاس کے دوران نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈرسردار اسلم بزنجو نے اعتراض کیا کہ مشیر خزانہ ایوان میں نہیں ہیں کیا وہ بیمار ہیں یا کوئی ایسی وجہ ہے کہ وہ نہیں آسکیں کیونکہ انہوں نے رخصت کی درخواست بھی نہیں دی جس کے جواب میں اسپیکر راحیلہ حمید خان درانی نے کہا کہ وزیراعلیٰ ایوان میں موجود ہے محکمہ انکے پاس ہے اس موقع پر اسپیکر نے سابق اسپیکر مطیع اللہ آغا کو ایوان میں آمد پر خوش آمدید کہا ۔

اجلاس میں جمعیت علماء اسلام کے رکن مفتی گلاب نے ایوان کی توجہ جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ کے سرپرست اعلیٰ مولانا حبیب اللہ مینگل کے قتل کی جانب مبذول کراتے ہوئے کہا کہ مولانا حبیب اللہ کا قتل قابل مذمت ہے اسپیکر نے کہا کہ یقینا یہ انتہائی افسوسناک واقعہ ہے ۔۔بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے جمعیت علماء اسلام کے رکن سردار عبدالرحمن کھیتران نے کہا کہ وہ وزیراعلیٰ کے مشکور ہیں جنہوں نے انکی تمام تر تجاویز پرعملدرآمد کیا ۔

انہوں نے کہا کہ جب 2013ء میں رکن اسمبلی بنا اورڈاکٹر مالک وزیراعلیٰ تھے انہوں نے اسوقت عندیہ دیا کہ بارکھان میں امن و اما ن کا مسئلہ درپیش ہے میں سمجھ گیا تھا کہ میرے ساتھ کیا کچھ ہونے والا ہے وہ دن ہے اور آج کا دن میں ضمیر کا قیدی ہوں میرے حلقے کے عوام جو میرے بچوں کی طرح ہیں میری رہائی کی دعائیں کرتے ہیں اور پانچ سال سے منتظر ہیں کہ میں کب اپنے حلقے میں آوں گا۔

انہوں نے کہا کہ میں نواب ثناء اللہ زہری کا بھی مشکور ہوں جنہوں نے میرا ساتھ دیا اور بجٹ میں مجھے اسکیمات دیں پشتونخواملی عوامی پارٹی کے عام انتخابات میں امیدوار جس نے صرف ایک ووٹ حاصل کیا تھا کو 8کروڑ روپے دیئے گئے جبکہ ایک اور شخص جوکہ صرف کونسلر ہے اور تعلق نیشنل پارٹی سے ہے کو 75کروڑ روپے دیئے گئے ۔انہوں نے کہا کہ نیشنل پارٹی کے وزیر صحت نے میرے حلقے کو ایک بھی ایمبولینس نہیں دی جب سے نئی حکومت آئی ہے مجھے 2ایمبولینسیں مل چکی ہیں جس پر محکمہ صحت کے حکام کا شکر گزار ہوں۔

انہوں نے کہا کہ ساڑھے چار سال اقتدار میں رہنے والے آج رو رہے ہیںموجودہ بجٹ میں پانچ سال سے نظر انداز حلقوں کو ترجیح دی جارہی ہے مساوات کا دعویٰ کرنے والوں نے خ.د زیادتیاں کرتے ہوئے میرے حلقے میں ایک سکول تک نہیں کھلنے دیا بلوچستان مختلف قوموں پر مشتمل گلدستہ ہے یہاں قوم پرستی کا دعویٰ کرنے والوں نے تربت اور دوبندی کے علاوہ کسی حلقے کو کچھ نہیں دیاقوم پرستی دوحلقے نہیں بلکہ پورے بلوچستان کی بلا امتیاز خدمت کا نام ہے ۔

انہوں نے کہا کہ میرے حلقے میں آج بھی وہ علاقے موجود ہیں جس میں جانور اورانسان ایک ہی تالاب سے پانی پیتے ہیں گزشتہ پانچ بجٹ قوم پرستی کی نظر ہوگئے جبکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں چھٹے بجٹ میں موقع دیا کہ عوام کی خدمت کرسکیں آج وہ لوگ رو رہے ہیں جنہوں نے ساٹھ ساٹھ کروڑ کی آن گوئنگ اسکیمات لیں ۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ اورانکی ٹیم متوازن بجٹ بنانے پر مبارکباد کی مستحق ہے۔

رکن صوبائی اسمبلی مولوی معاذ اللہ نے کہاکہ قوم پرستی کے نام پر بلوچ اور پشتون روایات کوپامال کیا گیا ہر قبیلہ یہاں روایات رکھتا ہے پشتونخوامیپ نے جس طرح پشتون صوبے کا دعویٰ کیا اوراپنے دوراقتدار میں پشتون علاقوں سے تعلق رکھنے والے اپوزیشن ارکان کو گزشتہ پانچ بجٹ میں مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا جس کے خلاف ہم نے جمہوری انداز میں ایوان کے اندر اور باہر احتجاج کیا مگر جس طرح پشتونخوامیپ کے ارکان نے چیئرپرسن کے ساتھ بدتمیزی اور ایوان میں ہنگامہ آرائی کی اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ جب یہ اپوزیشن میں چلے گئے توانہوں نے تمام روایات کو پامال کیا ۔

انہوں نے کہا کہ اگر اسوقت کی اپوزیشن کو برابری کی بنیادپر فنڈز دیئے جاتے تو آج یہ صورتحال پیدا نہ ہوتی آج جب انکے ساتھ کچھ ہوا تو انکو احتجاج کے علاوہ اور کوئی راستہ نظر نہیں آرہا ۔انہوں نے کہا کہ ہمارے تعلق بھی انہی پشتون علاقوں سے ہے جو یہ لوگ دعویٰ کر ر ہے ہیں کہ ہم پشتونوں کے حقوق کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں موجودہ اپوزیشن لیڈر کے کہنے پر موسیٰ خیل کو نظر انداز کیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ بلوچستان روایات کے لحاظ سے ایک منفرد مقام رکھتا ہے کاش یہ روایات کی پاسداری کرتے تو آج انکو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔