لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ شاہد عزیز کے مارے جانے کی اطلاعات، اہل خانہ کی جانب سے تصدیق کرنے سے گریز

شاہدعزیزپاک افغان سرحد پرمارے گئے،شاہد عزیز2 سال قبل اسلام آباد سے لاپتا ہوگئے تھے۔ میڈیا رپورٹس میں دعوی

muhammad ali محمد علی ہفتہ مئی 20:24

لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ شاہد عزیز کے مارے جانے کی اطلاعات، اہل خانہ کی ..
لاہور(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔19مئی 2018ء) : اسلام آباد میں لاپتا لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ شاہد عزیز کی مارے جانے کی اطلاعات کی تصدیق ہیں ہو سکی۔ میڈیا ذرائع کا دعوی ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ شاہد عزیزپاک افغان سرحد پرمارے گئے، شاہد عزیز 2سال قبل اسلام آباد سے لاپتا ہوگئے تھے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اسلام آباد میں لاپتا ہونے والے لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ شاہد عزیز پاک افغان سرحد پرمارے گئے ہیں۔

ان کے پاک افغان سرحد پرمارے جانے کی اطلاعات ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل ر شاہد عزیزایک سال سے زائد عرصے سے لاپتا تھے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ شاہد عزیزنے دوسال قبل اسلام آباد کی ایک یونیورسٹی میں شعبہ اسلامیات میں داخلہ لیا تھا۔

(جاری ہے)

اسلام آباد میں یونیورسٹی میں زیرتعلیم ہونے کے دوران ہی وہ لاپتا ہوگئے تھے۔

لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈشاہد عزیز نے یہ خاموشی کہاں تک کے عنوان سے کتاب بھی لکھی تھی۔شاہد عزیز نے اپنی کتاب ’خاموشی کہاں تک ‘میں امریکی جنگ کا حصہ بننے پر تنقید کی تھی۔لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ شاہد عزیزچیئرمین نیب کے عہدے پربھی تعینات رہ چکے ہیں۔لیفٹیننٹ جنرل شاہد عزیز نے پاک فوج میں 1966سے 2005ء تک خدمات سرانجام دیں ۔ شاہد عزیز نے پاک بھارت جنگوں 1971ء اور کارگل جنگ 1999ء میں بھی حصہ لیا تھا۔

دو سال قبل جب اسلام آباد سے لاپتا ہوئے توان کے پراسرار غائب ہونے کا مقدمہ بھی درج کروایا گیا۔ تاہم سکیورٹی ادارے ان کو بازیاب کروانے کیلئے متحرک تھے۔ جبکہ آج میڈیا نے دعوی کیا ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ شاہد عزیزپاک افغان سرحد پرمارے گئے ہیں۔ تاہم لیفٹیننٹ جنرل ر شاہد عزیز کی موت کے بارے میں معلوم نہیں ہوسکا کہ انہیں پاک افغان سرحد پرکیسے پہنچایا گیا اور وہاں لے جاکر کیونکرقتل کیا گیا ہے ۔

جبکہ لیفٹیننٹ جنرل ر شاہد عزیز کے اہل خانہ نے بھی ان کی موت کی تصدیق کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ اس صورتحال میں اب یہ یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ لیفٹیننٹ جنرل ر شاہد عزیز کی موت واقع ہوگئی ہے۔

متعلقہ عنوان :