ایون فیلڈ ریفرنس کرپشن کیسں،شریف خاندان سے 29صفحات پر مشتمل سوالنامہ میں 127 سوالات کئے گئے

ہفتہ مئی 21:12

ایون فیلڈ ریفرنس کرپشن کیسں،شریف خاندان سے  29صفحات پر مشتمل سوالنامہ ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 مئی2018ء) سابق نااہل وزیر اعظم نواز شریف اور شریف فیملی کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کرپشن کیسں نواز شریف ، مریم نواز اور کیپٹن صفدر کو دئیے گئے سوالنامہ کی کاپی آن لائن کو موصول ہوگئی ہے ۔سوالنامہ 29صفحات پر مشتمل جس میں نواز شریف اور انکے خاندان سے 127 سوالات کئے گئے ہیں۔احتساب عدالت کے فاضل جج محمد بشیر خان کی جانب سے تحریری کئے گئے سوالات کے مطابق سپریم کورٹ میں اپنے دفاع میں پیش کی گئی دستاویزات کے حوالے سے کیا کہیں گی جے آئی ٹی میں اپنے دفاع میں پیش کی گئی دستاویزات کے بارے میں کیا جواب ہی آپ پر الزام ہے آپ کی جائیداد اور اثاثوں میں مطابقت نہیں اس حوالے سے آپ کے پاس دفاع میں کچھ ہی آپ پر الزام ہے یہ جائیدادیں پبلک آفس ہولڈ کرتے ہوئے کرپشن کے پیسے سے بنائیں آپ کے پاس دفاع میں کچھ ثبوت ہیں الزام ہے کہ آپ نے جے آئی ٹی کے سامنے جعلی دستاویزات پیش کیں عدالت کا مریم نواز سے سوال سوالات میں عدالت نے تمام ملزمان سے درست تاریخ پیدائش بھی پوچھ لیں۔

(جاری ہے)

عدالتی سوال نامے میں نواز شریف سے عوامی عہدوں سے متعلق بھی سوال شامل کیا گیا ہے۔سوالات کے سابق نااہل وزیر اعظم کی صاحبزادی مریم نواز سے پوچھا گیا ہے الزام ہے آپ کی طرف سے جمع کرائی گئی ٹرسٹ ڈیڈ جعلی تھی عدالت نے تینوں ملزمان سے کئی مشترکہ سوال بھی پوچھیرابرٹ ریڈلے کی گواہی پر آپ کیا موقف ہے عدالت نے واجد ضیائ کے بیان سے متعلق بھی سوالات پوچھیالزام ہے کہ گلف سٹیل ملز کے 25فیصد شیئرز کی فروخت کے معاہدہ کا وجود نہیں واجد ضیائ کے شواہد کے مطابق قطری خطوط افسانہ تھے، آپ کیا کہتے ہیں آپ اپنے دفاع میں کچھ کہنا چاہتے ہیں آپ اپنے دفاع میں گواہ پیش کرنا چاہتے ہیں کیا یہ بات درست ہے کہ آپ ان عوامی عہدوں پر تعینات رہی الزام ہے کہ آپ نیلسن اور نیسکول کی ملکیتی جائیداد کے بے نامی دار ہیں، کیا کہیں گی الزام ہے کہ ندن فلیٹس 1993 سے آپ کے قبضے میں ہیں، کیا یہ بات درست ہی واضع رہے شریف فیملی کے وکلائ کو سوال نامہ کی کاپی فراہم کر دی گئی۔

جن پر گویا ان کے قانونی مشیر خواجہ حارث کی جانب سے اعتراضات بھی اٹھا ئے گئے ہیں۔لیکن آن لائن کے سوال پر سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا یہ جعلی کیس ہے اس لئے میں کہتا ہوں کہ ان کو لائیو دیکھا یا جائے اب دیکھنا یہ ہے عدالت کو بھی یہی جواب دیا جاتاہے اورعدالت کو یہ بھی بتانا ہو گا کہ اگر یہ ریفرنس جعلی اور بے بنیاد ہے تو پھر صاحبزادے حسن اور حسین نواز ان کرپشن کیسز کا سامنا کرنے سے کیوں خوف زدہ ہیں ۔۔۔ وحید ڈوگر