آنیوالے عام انتخابات کیلئے چکوال کی قومی و صوبائی اسمبلی کی نشستوں کیلئے ن لیگ اور تحریک انصاف کڑے مقابلے کا امکان

ہفتہ مئی 21:41

چکوال(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 مئی2018ء) آنے والے عام انتخابات کیلئے ضلع چکوال کی دو قومی اور چار صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان تحریک انصاف میں مضبوط سے مضبوط امیدوار میدان میں اتارنے کی حکمت عملی تیار کر لی ہے۔ معلوم ہو اہے کہ مسلم لیگ ن میں 2013کے تمام چھ کامیاب ہونے والے امیدواروں کو ہی برقرار رکھا جائے گا مگر بہرحال ان امیدواروں کو انتخابی عمل سے گزرنا ہوگا۔

حلقہ این ای64میں میجر طاہر اقبال، حلقہ این ای65میں سردار ممتاز ٹمن، پی پی21پر چوہدری سلطان حیدر علی، پی پی22پر ملک تنویر اسلم سیتھی، پی پی23پر سردار ذوالفقار علی خان دلہہ اور پی پی24پر ملک شہریار اعوان کے برقرار رہنے کا امکان ہے۔دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف کا تمام تر انحصار سردار غلام عباس پر دکھائی دیتا ہے ،9جنوری 2018 کے ضمنی الیکشن کے نتائج نے پاکستان تحریک انصاف کی کمزوریوں کی نشاندہی کر دی تھی اور مسلم لیگ ن یہ ضمنی الیکشن تیس ہزار کے مارجن سے فتح یاب ہوئی مگر اس مارجن میں سردار غلام عباس کا کلیدی کردار تھا۔

(جاری ہے)

اب سردار غلام عباس مسلم لیگ ن سے علیحدہ ہوکر فی الحال آزاد ہیں اور تمام بدلتی ہوئی صورتحال کا قریبی جائزہ لے رہے ہیں۔ 2013کے الیکشن میں آزاد امیدوار کی حیثیت سے میدان میں اتر کر ناکام تجربہ کر چکے ہیں اور یقینی طو ر پر2018میں اسے دوہرانا پسند نہیں کریں گے۔ پاکستان تحریک انصاف ہی ضلع چکوال میں وہ واحد جماعت ہے جو سردار غلام عباس کیساتھ مل کر خود بھی اور سردار عباس کو بھی سرخرو کرسکتی ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی بھی بھرپور طریقے سے ضلع چکوال کے انتخابی میدان میں اترنے کی صف بندی کررہی ہے اور رمضان المبارک کے دوران بلاول بھٹو زرداری کا دورہ چکوال اس حوالے سے بڑا اہم ہوگا۔ ضلع چکوال میں مذہبی ووٹ ہمیشہ فیصلہ کن کردار ادا کرتا ہے۔ متحدہ مجلس عمل بھی تیاری میں ہے جبکہ تحریک لبیک یارسول اللہ کو بھی خلائی مخلوق کی آشیرباد حاصل ہے۔ بہرحال صورتحال بڑی دلچسپ ہے مقابلہ بہرحال پی ٹی آئی اور مسلم لیگ ن کے ہی درمیان ہے۔