کراس ایل او سی ٹریول اینڈ ٹریڈ اٹھارٹی آزاد کشمیر نے انٹرا کشمیر ٹریڈرز پر نیا بم گرانے کی تیاریاں شروع کر دیں

حقیقی ایل او سی تاجروں کو رجسٹریشن فیس کے نام پر 5لاکھ روپے ‘ایل او سی کراسنگ پوائنٹس پر کلیئرنگ ایجنٹس کے طور پر کام کرنے والے افراد کو ایک لاکھ روپے سیکورٹی فیس یکم جون تک جمع کروانے کی ہدایت

ہفتہ مئی 22:25

چکوٹھی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 مئی2018ء) دو طرفہ تجارت کراس ایل او سی ٹریول اینڈ ٹریڈ اٹھارٹی آزاد کشمیر نے انٹرا کشمیر ٹریڈرز پر نیا بم گرانے کی تیاریاں شروع کر دیں حقیقی ایل او سی تاجروں کو رجسٹریشن فیس کے نام پر مبلغ پانچ لاکھ روپے جمع کروانے جبکہ ایل او سی کراسنگ پوائنٹس پر کلیئرنگ ایجنٹس کے طور پر کام کرنے والے افراد کو ایک لاکھ روپے سیکورٹی فیس یکم جون تک جمع کروانے کی ہدایت کر دی گئی۔

(جاری ہے)

تفصیلات کے مطابق کراس ایل او سی ٹریول اینڈ ٹریڈ اٹھارٹی آزاد کشمیر کے ڈائریکٹر جنرل طاہر حمید ملک کی جانب سے جاری کردہ حکم نامہ نمبرٹی اینڈ ٹی اے 281-85کے مطابق ایل او سی تجارت کر نے والے کشمیری تاجر مبلغ دس ہزار روپے ناقابل واپسی کے عوض ٹاٹا آفس مظفرآباد سے ایک فارم وصول کرنے کے بعد مبلغ پانچ لاکھ روپے بطور سیکورٹی ٹاٹا آفس میں جمع کروائیں گے جبکہ ایل او سی پر بطور کلیئرنگ ایجنٹ کام کر نے والے رجسٹریشن فارم مبلغ پانچ ہزار ناقابل واپسی کے عوض وصول کر کے ایک لاکھ روپے بطور سیکورٹی کے ساتھ ٹاٹا آفس میںیکم جون 2018ء تک دیگر کاغذی کارروائی مکمل کر کے جمع کروانے کے پابند ہوں گے کوائف مکمل نہ کر نے والے تاجروں کو ایل او سی تجارت سے فارغ کر دیا جائے گا اور وہ کسی بھی قسم کی تجارت کے اہل نہیں ہوں گے نئے حکم نامہ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ انٹرا کشمیر ٹریڈرز ٹاٹا کی آزاد کشمیر میں قائم کردہ منڈی سے مال خرید کر مقبوضہ کشمیر بھیجنے اور مقبوضہ کشمیر سے آنے والے مالوں کو ٹاٹا کی منڈی میں ان لوڈ کر نے کے پابند ہوں گے ٹریول اینڈ ٹریڈ اٹھارٹی جو ماہانہ چکوٹھی اور تیتری نوٹ کراسنگ پوائنٹ سے تاجروں سے انوائس فیس کے نام پر ایک کروڑ روپے مالیت سے زائد رقم وصول کرتی ہے نے ایل او سی ٹریڈرز کو مشکلات سے نکالنے کے بجائے نئے حکم نامہ کے زریعے مزید مسائل کا شکار کر نا شروع کر رکھا ہے ڈائریکٹر جنرل ٹریول اینڈ ٹریڈ اتھارٹی آزاد کشمیر طاہر حمید ملک اور ڈائریکٹر ٹاٹا محمد شاہد مقبوضہ کشمیر سے آنے والے مالوں کی پاکستان کی حدود میں داخل ہوتے ہی کسٹم پاکستان کی جانب سے پکڑ دھکڑ کا مسئلہ حل کروانے میں ناکامی کے بعد ایل او سی ٹریڈرز کو مزید مشکلات سے دو چار کر دیا ہے دونوں کراسنگ پوائنٹ کے ایل او سی ٹریڈرز کی اکثریت نے بغیر مشاورت سے جاری ٹا ٹا کے نئے حکم نامہ کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹا ٹا ماہانہ ایک کروڑ سے زائد رقم تاجروں سے انوائس فیس کے نام پر وصول کر رہا ہے اس کے بدلے میں ایل او سی ٹریڈرز کے ٹرکوں کو پاکستان کی حدود میں داخل ہوتے ہی کسٹم کے ذمہ داران پکڑ کر ضبط کر لیتے ہیں اور تاجروں کے خلاف سمگلنگ کا مقدمہ درج کرتے ہیں ٹا ٹا پہلے اپنی کارکردگی دکھائے پھر وہ تاجروں سے سیکورٹی فیس کے نام پر رقم وصول کرے ٹا ٹا کی نئی پالیسی حقیقی کشمیری تاجروں کا معاشی قتل اور لاہور،،،دہلی،،فیصل آباد ،امرتسر کے بڑے تاجروں کو فائدہ پہنچانے کی ایک کو شش ہے جسے ایل او سی ٹریڈرز مسترد کرتے ہیں اگر ٹا ٹا کی اس پالیسی کا ذمہ داران نے نوٹس نہ لیا تو تاجر عدالت جانے اور شدید ترین احتجاج سے گریز نہیں کریں گے اور اس دوران حالات کی خرابی کی ذمہ داری متعلقہ ذمہ داران پر عائد ہو گی