گزشتہ بجٹ کی طرح حکومت اس بجٹ میں بھی اپوزیشن کے عوامی مینڈیٹ کے قتل عام کو تیار ہے‘بجٹ کے موقع پر اپوزیشن کے ساتھ جھوٹا وعدہ کرنے والے صادق اور آمین کہاں ہیں

تحریک انصاف آزاد کشمیر کے قانون ساز اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر عبدالماجد خان کی صحافیوںسے گفتگو

ہفتہ مئی 22:27

مظفرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 مئی2018ء) تحریک انصاف آزاد کشمیر کے قانون ساز اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر عبدالماجد خان نے کہا ہے کہ گزشتہ بجٹ کی طرح حکومت اس بجٹ میں بھی اپوزیشن کے عوامی مینڈیٹ کے قتل عام کو تیار ہے۔۔بجٹ کے موقع پر اپوزیشن کے ساتھ جھوٹا وعدہ کرنے والے صادق اور آمین کہاں ہیں آمدہ بجٹ میں وزیرعظم اور اے سی ایس ڈویلپمنٹ نے صرف حکومتی اراکین کی خوشنودی کی سکیمیں اور اور منصوبہ جات تیار کئے ہیں اے سی ایس ڈویلپمنٹ اپنی کرسی بچانے کیلئے تمام قواعد وضوابط تہہ وبالہ کر رہے ہیں ماضی میں جس بات کو ناجائز کہتے تھے اب کیسے جائز ہو رہی ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے صحافیوںسے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔عبدالماجد خان نے کہا کہ موجودہ حکومت نے مہاجرین کی پاکستان اور مہاجرین 1989کو ایک مرتبہ پھر موجودہ بجٹ میں نظر انداز کر دیا ہے اور اُن کا کوئی حق نہیں سمجھا گیا،،اسمبلی کے اندر موجود ن لیگی مہاجرین ممبران اسمبلی کی خاموشی اُن کی کمزوری سمجھی جائے وہ کس منہ کے ساتھ اپنے حلقہ جات میں جائیں گے اور اپنے ووٹرز کو کیا بتائیں گے کہ اُن کے ساتھ وہ کیا سلوک کریں گے،اس وقت پارلیمانی پارٹی کے اندر مہاجرین ایم ایل ایز کو کوئی لفٹ نہیں کروائی جا رہی جس سے مہاجر مقیم پاکستان کے حقوق شدید پامال ہو رہے ہیں۔

(جاری ہے)

عبدالماجد خان نے کہا کہ یہ بجٹ پیش کرنے والے یہ بتائیں کہ انہوں نے نارمل میزانیہ میں ایک روپے کا بھی اضافہ نہیں کروا سکے ابھی تک اس بجٹ میں اضافہ نہ ہونے کی وجہ سے شدید مشکلات موجود ہیں،موجودہ حکومت مکمل طور پر گڈگورننس کے دعووں میں بری طرح فیل ہو چکی ہے ابھی ملازمین کی ترقیابیوں کا ہی معاملہ دیکھ لیں اور خصوصاً چیف سیکرٹری کو اس طرف توجہ دینا ہو گی کہ 5سے 6سال کی سروس کرنے والے گریڈ 19میں کیسے پہنچ گئے اور بطور لیکچرر اُن کی سروس دوسرے کیڈر میں کس طرح شمار ہوئی یہ معاملہ صرف چند لوگوں کو نوازنے کیلئے وزیراعظم نے کیا ہے اس کو اسمبلی میں اٹھائوں گا۔

عبدالماجد خان نے کہا کہ اے کے آر ایس پی کا بیڑاہ غرق کر دیا گیا ہے اسی طرح نہ ہی ابھی تک 55ارب روپے واپس آئے اور نہ ہی دارالحکومت کا ایم سی ڈی پی مکمل ہوا اوراس بجٹ سے شاہ سلطان برج کو نکال کر لوگوں کے زخموں پر نمک پاشی کی گئی ہے،انہوں نے کہا کہ ہم اس بجٹ کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں اور اس بجٹ پر اسمبلی کے اندر اور باہر بھرپور احتجاج کریں گے کہ جس میں اپوزیشن حلقوں کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ حکومت بڑے دعوے کرتی تھی کہ ہم آئینی ترامیم لائیں گے یہ بتائیں کہ وہ آئینی ترامیمی پیکج کہاں ہے کہ جس کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر کے عوام کو الیکشن میں بیو قوف بنانے کی کوشش کی گئی۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کا چہرہ کھل کر عوام کے سامنے آچکا ہے اوراب ان کو گھر بھیجنے کا وقت بھی قریب آرہا ہے۔