مصر،انسانی اعضا کے مکروہ دھندے میں ڈاکٹرز ملوث

ڈاکٹرزغریب شہریوں سے اعضا خرید کر انسانی اعضا کے عالمی تاجروں کے ہاتھ فروخت کرتے تھے،حکام

ہفتہ مئی 22:37

قاہرہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 مئی2018ء) مصر میں انسانی اعضا کی تجارت کے مکروہ دھندے میں ڈاکٹرز کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے،،غریب شہریوں سے اعضا خرید کر انسانی اعضا کے عالمی تاجروں کے ہاتھ فروخت کرتے تھے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق مصر کی پولیس نے ملک میں انسانی اعضا کے غیر قانونی خریدو فروخت کے مکروہ دھندے میں ملوث ایک گروپ کو گرفتار کیا ہے۔

گروپ میں نام نہاد ڈاکٹر بھی ملوث ہیں جو غریب شہریوں سے ان کے اعضا خرید کر اسے انسانی اعضا کے عالمی تاجروں کے ہاتھ فروخت کرتے تھے۔قاہرہ پولیس نے شہر سیانسانی اعضا کے دھندے کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔ گرفتار سماج دشمن عناصر نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی اور یا مالی تعاون کی پیش کش کر کے ان کے اعضا ان سے خریدتیاور انہیں آگے فروخت کرتے تھے۔

(جاری ہے)

پولیس کا کہنا ہے کہ میدان رمسیس کے مقام پر دو افراد کو دیکھا گیا جو کم آمدنی والے نواجوانوں کو اپنے اعضا رقم کے بدلے فروخت کرنے کے لیے ان کے ساتھ بہا تا کر رہے تھے۔ملزمان میں سے ایک کا تعلق اسکندریہ سے ہے جس کی عمر اکیس سال بتائی جاتی ہے جب کہ دوسرے کا تعلق السلام شہر سے ہے اور وہ غیر قانونی اسلحہ کے الزام میں دو سال قید کی سزا کاٹ چکا ہے۔ایک اور ملزم کا کہنا ہے کہ اس نے ایک مقامی ڈاکٹر کے کہنے پر لوگوں سے ان کے اعضا کی خریداری کے لیے بات چیت کی۔ انسانی اعضا کی تجارت کے دھندے میں جس ڈاکٹر کا نام سامنے آیا ہیوہ مصرکے اسپتالوں میں گردوں کی پیوند کاری کا کام کرتا ہے۔