پاکستان نے شنگھائی تعاون تنظیم کے منشور کی ہمیشہ حمایت کی ہے

چین تنظیم کو بڑی اہمیت دیتا ہے ،پاکستان بطور رکن اب زیادہ فعال کردارادا کریگا تنظیم تمام رکن ممالک کو مستقبل میں مساوی قسمت کی برادری بنانا چاہتی ہے ،جنرل سیکرٹری ایس سی او

ہفتہ مئی 22:37

پاکستان نے شنگھائی تعاون تنظیم کے منشور کی  ہمیشہ حمایت کی ہے
بیجنگ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 مئی2018ء) چین شنگھائی تعاون تنظیم(ایس سی او) کو بڑی اہمیت دیتا ہے اور یہ توقع کرتا ہے کہ پاکستان شنگھائی کی روح کو فروغ دینے کیلئے فعال رکن کے طور پر اپنا کردارادا کریگا جس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان علاقائی امن ، سلامتی اور عوام کے طرز زندگی کو بہتر بنانے کو یقینی بنانے کیلئے کام کرے گا ۔۔چین کی وزارت خارجہ کے حکام نے شنگھائی تعاون تنظیم میں مکمل رکن کے طور پر پاکستان کی شمولیت کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان خطے کا ایک اہم ملک ہے اور وہ اس کے منشور کی مبصر کے طور پر بھی مکمل حمایت کرتا رہا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کانفرنس کی سطح کا اجلاس مشرقی چین کے ساحلی شہر کنگ ڈائو میں جون میں منعقد ہوگا اور چین کو یہ توقع ہے کہ اس میں عالمی مسائل سے مؤثر طور پر نمٹنے کیلئے تبادلہ خیال کیا جائے گا اور ہر شعبے سے متعلق عوامی مفادات کیلئے اقدامات پر تعاون کیا جائے گا ۔

(جاری ہے)

شنگھائی تعاون تنظیم 17سال کے بعد ایک مقبول اور جامع علاقائی تنظیم بن کر ابھری ہے ،یہ اس وقت 60فیصد یوریشین اور تقریباً دنیا کی آدھی آبادی اور 20فیصد کل بین الاقوامی پیداوار کی حامل ہے ۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ ہونے والی کانفرنس رکن ممالک کے مستقبل کومساوی قسمت کی برادری بنانے کیلئے علاقائی تنظیم میں نئی روح پھونک دے گی ۔علاقائی تعاون تنظیم کی اصل روح یہ ہے کہ علاقائی ممالک کے درمیان کنگ ڈائو کانفرنس کے دوران اعتماد اور استحکام پیدا کیا جائے اوررکن ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لایا جائے ۔شنگھائی تعاون تنظیم کبھی بھی عام سا سیکیورٹی گروپ نہیں رہا ۔

تنظیم نے ہمیشہ خود کو علاقائی ترقیاتی تنظیم کے طور پر پیش کیا ہے اور اس نے تجارت ،سرمایہ داری،صنعتی تعاون اور شہریوں کے تبادلے کو فروغ دینے کیلئے اہم کردارادا کیا ہے ۔ دریں اثناء چین نے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے فریم ورک میں تعاون تجویز کیا ہے ۔جس کے تحت بنیادی ڈھانچے ، مالیات ،عوام کے درمیان تبادلے اور ترقی کے کئی بڑے منصوبوں کے مواقع موجود ہیں ۔

شنگھائی تعاون تنظیم اور بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ دراصل ایک دوسرے کو تعاون اور مواقع فراہم کرتے ہیں ۔ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کا تصور قبل ازیں شنگھائی تعاون تنظیم میں موجود ہے اور اس پر مثبت پیش رفت جاری ہے ۔ ان خیالات کا اظہار چینی اکیڈمی آف سوشل سائنسز کے دانشور لی جیان من نے کیا ہے ۔شنگھائی تعاون تنظیم کے سیکرٹری جنرل رشید علی موف نے تنظیم کے بلاک کو مختلف قوت ،سیاسی نظام اور ثقافت کی حامل اقوام کیلئے پر امن بقائے باہمی قرار دیا ۔

انہوں نے کہا کہ گروپ کے اندر کوئی بھی کسی پر غلبہ نہیں رکھتا اور نہ ہی وہ جیتنے یا ہارنے پر یقین رکھتا ہے ۔انہوں نے کہا تمام معاہدے اور باہمی مشاورت کیساتھ ہوتے ہیں ۔شنگھائی کی روح یہی ہے کہ تمام رکن ممالک کو مساوی قسمت کی برادری بنایا جائے اور بات چیت کے ذریعے تمام معاملات طے کئے جائیں

متعلقہ عنوان :