چین اور امریکہ ایک دوسرے کے خلاف تجارتی محاز آرائی سے گریز پرمتفق

اتوار مئی 10:10

واشنگٹن ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 مئی2018ء) چین اور امریکہ کے درمیان واشنگٹن میں ہونے والے اقتصادی و تجارتی مذاکرات کے حوالے سے ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں فریقین نے ایک دوسرے کے خلاف تجارتی محازآرائی سے گریز کا عزم ظاہر کیا ہے۔ چین کے صدر شی جن پھنگ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایات کی روشنی میں چینی اور امریکی وفود کے درمیان تجارتی امور کے حوالے سے دو روز تک تعمیری بات چیت کی گئی۔

فریقین نے اتفاق کیا کہ امریکہ کے چین کے ساتھ مصنوعات کے حوالے سے تجارتی خسارے کو معقول حد تک کم کرنے کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں گے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ چین اپنے شہریوں کی ضروریات کو پورا کرنے اور اعلیٰ معیاری اقتصادی ترقی کوآگے بڑھانے کے لیے امریکی مصنوعات کی خریداری میں نمایاں اضافہ کرئے گا جس سے امریکہ کی اقتصادی ترقی اور روزگاری میں مدد مل سکے گی۔

(جاری ہے)

دونوں ممالک نے اتفاق کیا کہ بامعنی انداز سے امریکہ کی زرعی اور توانائی سے متعلق مصنوعات کی برآمدات میں اضافہ کیا جائے گا جبکہ امریکہ مزید مشاورت کے لیے ایک وفد چین بھیجے گا۔ فریقین نے تیار شدہ مصنوعات اور خدمات کی تجارت کو توسیع دینے سے متعلق بھی تبادلہ خیال کیا اور متعلقہ شعبہ جات میں تجارت میں اضافے کے لیے سازگار ماحول کے قیام پر اتفاق کیا گیا ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک املاک حقوق دانش کے تحفظ کو انتہائی اہمیت دیتے ہیں اور اس حوالے سے تعاون کے فروغ پر اتفاق کیا گیا ہے۔بیان کے مطابق چین پیٹنٹ لاء سمیت دیگر متعلقہ قوانین و ضوابط میں ترمیم کو فروغ دے گا۔ فریقین نے دو طرفہ سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی پر بھی اتفاق کیا جبکہ شفاف مسابقت کے لیے سازگار کاروباری ماحول کے قیام کا عزم ظاہر کیا گیا۔

دونوں ممالک نے اس حوالے سے اعلیٰ سطح کے روابط برقرار رکھنے اور ایک دوسرے کے اقتصادی و تجارتی خدشات کے فعال حل پر بھی اتفاق کیا۔مذکورہ مذاکرات میں چینی وفد کی قیادت صدر شی جن پھنگ کے خصوصی ایلیچی اور نائب وزیر اعظم لیو حہ نے کی جبکہ امریکی حکام میں وزیر خزانہ اسٹیون منچن ، وزیر تجارت ولبر راس اور تجارتے نمائندے رابرٹ لائٹ ہائزر شامل تھے۔