جرمنی بن لادن کے محافظ کومشروط طورپر تیونس کے حوالے کرنے کوتیار

جرمنی کو لادن کے محافظ پر تشددکا خدشہ،تیونس کی پروپیگنڈے کی تردید،قانون کے مطابق سلوک کرنے کا وعدہ

اتوار مئی 12:40

تیونس سٹی/برلن(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 مئی2018ء) جرمنی کی حکومت نے تیونس کی جانب سے گرفتاری اور تشدد نہ کرنے کی یقین دہانی کے بعد تیونسی نڑاد القاعدہ رکن اور اسامہ بن لادن کے ذاتی باڈی گاڈ کو تیونس کے حوالے کرنے کا اعلان کیا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق جرمن حکام نے کہاکہ تیونس کی طرف سے یقین دہائی کرائی گئی ہے کہ وہ بن لادن کے محافظ کو گرفتار کریں اور نہ ہی اس کے ساتھ کسی قسم کا ناروا سلوک کیا جائے گا۔

جرمن وزیر داخلہ ھورسٹ زیھوفر نے ایمی گریشن حکام سے کہا کہ وہ اسامہ بن لادن کے محافظ اور مبینہ شدت پسندسامی کی تیونس حوالگی کے انتطامات کو جلد از جلد حتمی شکل دیں۔ بن لادن کے 41 سالہ محافظ کے جرمن سرزمین پر بدستور موجود رہنے پر عوام کی طرف سے سخت برہمی کا اظہار کیا گیا تھا۔

(جاری ہے)

شہریوں کا کہنا تھا کہ اسامہ بن لادن کا سیکیورٹی گارڈ جرمنی کی سلامتی کے لیے خطرہ ہوسکتا ہے۔

خیال رہے کہ جرمنی کی حکومت 2006ء سے بن لادن کے سابق محافظ کو ملک بدر کرنے کی کوششیں کرتی چلی آ رہی ہے۔ القاعدہ رکن کو تیونس کے حوالے کرنے کی بات چیت کی گئی تھی مگر جرمن حکومت کو ڈر ہے کہ تیونس حوالگی کے بعد بن لادن کے محافظ کو گرفتار کرکے اسے اذیتیں دی جائیں گی۔دوسری جانب تیونس حکام نے جرمنی کے اس خدشے کو سختی سے رد کیا ہے۔ تیونسی حکومت کا کہناتھا کہ جرمن عدلیہ کی طرف سے تیونس میں قیدیوں پر تشدد کے حوالے سے خواہ مخواہ پروپیگنڈہ کیا جا رہاہے۔

تیونس ایک جمہوری ملک ہے جہاں انسانی اقدار کا احترام کیا جاتا ہے۔تیونس کے وزیر برائے انسانی حقوق مہدی بن غریبہ کا کہنا تھا کہ ان کے ملک میں جیلوں میں قیدیوں پر تشدد نہیں کیا جاتا۔ ان کا کہنا تھا کہ تیونس ایک جمہوری ملک ہے جو انسانی حقوق کا احترام کرتا اور قانون کے مطابق قیدیوں سے سلوک کرتا ہے۔