افغان صوبے فراہ میںلڑائی، سیکڑوں تعلیمی ادارے بندکرنے کااعلان، شہری فرار

سیکورٹی فورسز نے پولیس ہیڈکوارٹر کی عمارت اور ایک جیل پرحملہ کرکے ساتھیوں کو چھڑانے کا طالبان کا منصوبہ ناکام بنادیا

اتوار مئی 13:10

کابل(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 مئی2018ء) افغانستان کے صوبے فراہ میں سلامتی کی صورت حال انتہائی مخدوش ہو چکی ہے۔ طالبان کی پسپائی اور پھر حملے کے بعد عام شہریوں نے محفوظ مقامات کی جانب منتقلی شروع کر دی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق افغانستان کے مغربی صوبے فراہ کی صوبائی حکومت نے سینکڑوں اسکولوں کو فوری طور پر بند کرنے کے احکامات جاری کردیئے ۔

اسکولوں کی بندش کی وجہ طالبان عسکریت پسندوں کی حکومتی فوج کے ساتھ شدید لڑائی کا سلسلہ ہے۔ طالبان شدت پسند فراہ صوبے کے اسی نام کے دارالحکومت پر غلبہ حاصل کرنے کی کوشش میں ہیں۔ اس صوبے میں گزشتہ کئی ماہ سے سلامتی کی صورت حال بہت زیادہ خراب ہو چکی ہے۔صوبائی حکومت کے اعلان کے مطابق بند کیے جانے والے تعلیمی اداروں کی تعداد 411 بتائی گئی ہے۔

(جاری ہے)

اس میں 379 پرائمری اسکول ہیں جبکہ 32 ہائر سیکنڈری اسکول ہیں۔ ان کے علاوہ اساتذہ کی تربیت کا ایک مرکز بھی بند کر دیا گیا ہے۔ ان اسکولوں کی بندش سے ایک لاکھ چالیس ہزار طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ تعلیمی اداروں کی بندش کا اعلان فراہ صوبے کے محکمہ تعلیم کی جانب سے کیا گیا۔پندرہ مئی کو طالبان فائٹرز نے فراہ صوبے کے دارالحکومت پر مختلف اطراف سے چڑھائی کی تھی۔

اس حملے کو حکومتی فوج نے پسپا کر دیا لیکن دو روز بعد عسکریت پسندوں نے ایک مرتبہ پھر حملہ شروع کیا تھا۔ اس حملے میں طالبان کا فوکس پولیس ہیڈکوارٹر کی عمارت اور ایک جیل کو توڑنا تھا۔ ذرائع کے مطابق اس جیل میں طالبان کے کئی قیدی مقید ہیں۔ ابھی تک دوسرے حملے کو پسپا کرنے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ صرف اتنا بتایا گیا ہے کہ شدید لڑائی جاری ہے۔