جنوبی بحیرہ چین کے متنازع جزیرے پر چینی بمبار طیاروں کی لینڈنگ

متنازع علاقے میں چین کی بڑھتی ہوئی فوجی نقل و حرکت سے خطے میں کشیدگی بڑھے گی اور وہ غیرمستحکم ہوگا،امریکی ردعمل

اتوار مئی 13:10

واشنگٹن /بیجنگ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 مئی2018ء) چینی فضائیہ نے کہا ہے کہ اس کے بمبار طیاروں کو پہلی بار جنوبی بحیرہ چین میں بھجوایا ہے جس کی وجہ امریکہ کا اس خطے کے حوالے سے نیا انتباہ ہے۔دور تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت کا حامل بمبارایچ چھ کے ان طیاروں میں شامل ہے جنھوں نے جزیروں پر مشقیں کیں تاکہ چین کی تمام علاقوں تک رسائی کی صلاحیت کو بہتر بنایا جا سکے۔

چینی میڈیا کے مطابق بیجنگ کے دفاعی حکام نے یہ نہیں بتایا کہ ان بمبار طیاروں کو کہاں اتارا گیا ہے تاہم یہ کہا ہے کہ ان کی ٹریننگ میں مصنوعی سمندری اہداف کو نشانہ بنانا شامل تھا۔ایچ چھ کے ایک پائلٹ جی ڈاکنگ کا بیان میں حکام کی جانب سے جاری بیان میں شامل کیا گیا جس میں وہ کہتے ہیں کہ یہ ٹریننگ اصل جنگ میں ہماری ہمت کو تیز اور ہماری صلاحیتوں کو بڑھانے کا باعث ہے۔

(جاری ہے)

یہ سمندر اہم تجارتی گزرگاہ ہے اور جس پر چھ ممالک اپنے حق کا دعویٰ کرتے ہیں۔یاد رہے کہ چین جنوبی بحیرہ چین پر اپنی ملکیت کا دعوی کرتا ہے اور اس کا بعض ایسے جزیروں پر بھی دعوی ہے جن پر کئی دوسرے ملک بھی ملکیت کا دعویٰ کرتے ہیں۔۔چین پر الزام ہے کہ وہ اس کے وسیع حصے پر اپنے حق کے دعوے کو ثابت کرنے کے لیے وہاں فوجی نقل و حرکت کرتا ہے۔یہ نئی پیش رفت خطے میں کشیدگی کو بڑھا سکتی ہے۔ادھر پینٹاگون کے ترجمان نے اپنے ردعمل میں کہاکہ امریکہ ہند، بحرالکاہل کو آزاد کرنے اور کھلوانے کے ارادے پر قائم رہے گا۔لیفٹننٹ کرنل کرسٹوفر لوگان کا کہنا تھا کہ متنازع علاقے میں چین کی بڑھتی ہوئی فوجی نقل و حرکت سے خطے میں کشیدگی بڑھے گی اور وہ غیرمستحکم ہوگا۔

متعلقہ عنوان :