ماہرین زراعت کی کپاس کے کھیتوں سے جڑی بوٹیوں کی فوری خاتمہ کی ہدایت

اتوار مئی 13:30

فیصل آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 مئی2018ء) : ماہرین زراعت نے کپاس کے کھیتوں سے اٹ سٹ ،لمب ، مدھانہ گھاس ، جنگلی چولائی ، لہلی ، قلفہ، ہزار دانی،ڈیلا جیسی جڑی بوٹیوں کے فوری خاتمہ کی ہدایت کی ہے اور کہاہے کہ موجودہ حالات میں جبکہ پہلے ہی کپاس کی پیداوار میں تیزی سے کمی واقع ہو رہی ہے اگر جڑی بوٹیوں کا بروقت تدارک نہ کیاگیا تو کپاس کی پیداوار مزید کم ہو جائے گی جس سے جہاں دھاگے اور کپڑے سمیت دیگر کاٹن مصنوعات کا بحران پیداہوگا وہیں ملک کاٹن مصنوعات کی برآمدات کے ذریعے قیمتی زرمبادلہ کے حصول سے بھی محروم رہ جائے گا۔

(جاری ہے)

ایک ملاقات کے دوران انہوںنے بتایاکہ پاکستان دنیا بھر میں کپاس پیداکرنے والے ممالک میں چوتھے نمبر پر ہے جبکہ ملکی مجموعی پیداوار کا 80 فیصد حصہ پنجاب سے حاصل کیا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایاکہ گزشتہ سال پنجاب میں 60لاکھ ایکڑ رقبہ پر کپاس کی کاشت کا ہدف مقرر کیاگیاتھا جس سے 22 سے 23من فی ایکڑ پھٹی اور 7 سے 8من روئی سمیت ایک کروڑ گانٹھ کپاس کی پیداوار حاصل ہوئی ۔ انہوںنے کہاکہ اگر جڑی بوٹیوں کا فوری تدارک نہ کیاگیا تو رواں سال کیلئے مقرر کردہ کپاس کی کاشت اور پیداوار کے اہداف پورے نہ کئے جاسکیں گے۔