بھارت میں پے درپے دھماکے، فوجیوں کی لاشوں کا ڈھیر لگ گیا

بھارتی ریاست چھتیس گڑھ میں مائوباغیوں کے دھماکے،چھ سیکیورٹی اہلکار ہلاک گشت کے دوران دھماکا خیز مواد کو آئی ای ڈی ڈیوائس کی مدد سے اڑایا،باغی ہمارااسلحہ بھی لئے گئے،بھارتی پولیس

اتوار مئی 15:40

بھارت میں پے درپے دھماکے، فوجیوں کی لاشوں کا ڈھیر لگ گیا
رائے پور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 مئی2018ء) بھارت کی ریاست چھتیس گڑھ میں بم دھماکے میں چھ پولیس اہلکار ہلاک اوردو زخمی ہوگئے۔ادھر پولیس حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ واقعے کے بعد ماؤ باغی پولیس اہلکاروں کا اسلحہ لے کر فرار ہوگئے۔۔بھارتی ٹی وی کے مطابق پولیس حکام کا کہنا تھا کہ دھماکا صبح 11 بجے ہوا جس میں پولیس کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا تھا جو چولنرکے علاقے سے کراندول جارہی تھی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ہلاک ہونے والوں میں چار اہلکاروں کا تعلق چھتیس گڑھ آرم فورس اور 2 کا تعلق دانتی والا کی ضلعی پولیس سے تھا۔جبکہ دھماکا خیز مواد کو آئی ای ڈی ڈیوائس کی مدد سے اڑایا گیا تھا۔ دھماکا اس وقت ہوا جب سیکیورٹی اہلکار سرچ آپریشن میں مصروف تھے۔ادھر پولیس حکام نے دعویٰ کیا کہ واقعے کے بعد ماؤ باغی پولیس اہلکاروں کا اسلحہ لے کر فرار ہوگئے۔

(جاری ہے)

خیال رہے کہ وسطی اور مشرقی ہندوستان کے جنگلات میں ماؤ باغیوں اور حکومت کے درمیان مسلح کشیدگی طویل عرصے سے جاری ہے۔یاد رہے کہ ماؤ باغی، جن کا کہنا ہے کہ وہ قبائلی افراد اور بے زمین کسانوں کے حقوق کیلئے جدوجہد کررہے ہیں، کے ممکنہ طور پر اخراجات بھتہ وصولی سے پورے ہوتے ہیں۔واضح رہے کہ ماؤ باغی بھارت کی کم سے کم 20 ریاستوں میں سرگرم ہیں، جن میں چھتیس گڑھ، اڑیسہ، بہار، جھارکھنڈ اور مہارشٹرا کی ریاستیں سر فہرست ہیں۔

ہندوستان میں 1960ء سے جاری ماؤ باغیوں کی بغاوت میں اب تک ہزاروں افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ناقدین نے حکومت کی جانب سے ماؤ باغیوں کے خلاف طاقت کے بے دریغ استعمال پر تنقید کرتے ہوئے تجویز دی ہے کہ اس تنازع کو بہتر حکمرانی اور خطے میں ترقی کے ذریعے حل کیا جاسکتا ہے