پہلے 100 دن کے منصوبے پارٹی کے نظریات کی عکاسی کرتے ہیں، عمران خان

؛ہم نے ملک کو فلاحی ریاست بنانا ہے۔بیوروکریسی میں سیاسی مداخلت کو ختم کرنا ہے اور نچلے طبقے کو اوپر لانا ہے، پی ٹی آئی چئیرمین عمران خان کا تقریب سے خطاب

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان اتوار مئی 16:15

پہلے 100 دن کے منصوبے پارٹی کے نظریات کی عکاسی کرتے ہیں، عمران خان
اسلام آباد(اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔20 مئی 2018ء) پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان کا تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اقتدار میں آئیں تو اس وقت سب سے مشکل فیصلے کریں گے۔۔عمران خان نے ایک بار پھر سابق وزیراعظم نواز شریف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مجھے کیوں نکالا ہمارے معاشرے کی عکاسی کرتا ہے اربوں روپے چوری کر کے آپ کہتے ہی مجھے کیوں نکالا۔

مجھے کیوں نکالا کا مطلب ہے کہ میں اتنا طاقتور تھا مجھے کیوں نکالا۔ تمام پالیسیاں ایک چھوٹے سے طبقے کے لیے ہیں۔ پہلے 100 دن کے منصوبے پارٹی کے نظریات کی عکاسی کرتے ہیں۔ مدینہ منورہ کی ریاست ہمارے سامنے آئیڈیل ہے۔اگر کوئی ایک شخص مرتا ہے تو ریاست ذمہ دار ہوتی ہے۔۔عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ مدارس میں 25لاکھ بچے پڑھ رہے ہیں لیکن ان کا کبھی کسی نے نہیں سوچا۔

(جاری ہے)

کسی نے سوچا نہیں کہ دینی مدارس کے بچے انجینئر ڈاکٹرز کیوں نہیں بن سکتے۔ہم نے ملک کو فلاحی ریاست بنانا ہے۔بیوروکریسی میں سیاسی مداخلت کو ختم ہونا چاہئیے۔ اگر 2013ء میں حکومت مل جاتی تو شاہد ہم اتنا تیار نہ ہوتے جتنا اب ہیں۔اب ہمارے پاس حکومت چلانے کا تجربہ موجود ہے۔۔عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ نظام ٹھیک کرنے جائیں تو کرپٹ مافیا مذاحمت کرتا ہے۔

سزا و جزا ختم کر دیں تو ادارہ ختم ہو جاتا ہے۔ہم نے سول سروسز میں اصلاحات لانی ہیں۔اور سرکاری اداروں میں سزا و جزا کا نظام لانا ہو گا، کینسر اسپتال بنانا آسان نہیں تھا لیکن ہم نے بنا کر دکھایا۔اسپتالوں میں پہلی باراصلاحات کی کوشش تحریک انصاف نے کی۔ سو دن پلان کا مطلب ہے کہ پالیسیوں کو تبدیل کیا جائے۔ہمیں اپنے اداروں کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔ماضی میں پاکستان کی سول سروس دنیا کی بہترین سروس تھی۔۔پاکستان نے تو دنیا کے لیے مثال بننا تھا۔