مقبوضہ کشمیر : مولوی محمد فاروق ، خواجہ عبدالغنی لون کی برسیوں پر عید گاہ کی طرف مارچ روکنے کیلئے سرینگر میں پابندیاں نافذ

اتوار مئی 16:50

سرینگر ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 مئی2018ء) مقبوضہ کشمیر میں کٹھ پتلی انتظامیہ نے ممتاز آزادی پسند رہنمائوں میر واعظ مولوی محمد فاروق ، خواجہ عبدالغنی اور شہدائے حول(Hawal)کی برسی پر عید گاہ سرینگر کی طرف مارچ کو روکنے کیلئے شہر میں پابندیاں نافذ کر دی ہیں۔ 21مئی بروز پیر کو مزار شہداء کی طرف مارچ کی کال سید علی گیلانی ، میرواعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک پر مشتمل مشترکہ حریت قیادت نے دی ہے۔

کشمیر میڈیاسروس کے مطابق انتظامیہ نے مارچ اور بھارت مخالف مظاہروں کو روکنے کیلئے سرینگر کے ڈائون ٹائون علاقوں کے تمام داخلی اور خارجی راستے خار دار تاریں لگا کر سیل کر دیے ہیں۔ راجوری کدل اور ڈائون کے دیگر علاقوں میں ٹرانسپورٹ کی آمد ورفت بھی بند کر دی گئی ہے جبکہ راہگیروں کو بھی یہاں سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔

(جاری ہے)

راجوری کدل میں واقع میر واعظ منزل کو بھی مکمل طور پر سیل کر دیا گیا۔

یا د رہے کہ میر واعظ مولوی محمد فاروق کو 21مئی 1990 کو نامعلوم مسلح افراد نے سرینگر میں انکی رہائش گاہ پر گولی مار دی تھی جس سے وہ موقع پر ہی شہید ہو گئے تھے۔ بھارتی فوجیوں نے اسی دن سرینگر کے علاقے حول میں ان کے جنازے پر اندھا دھند فائرنگ کر کے 70سوگواروں کو قتل کر دیا تھا ۔خواجہ عبدالغنی لون کو 21مئی 2002 کو نامعلوم حملہ آوروں نے اس وقت شہید کر دیا تھاجب وہ مزار شہداء سرینگر میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کے بعد واپس آرہے تھے۔