رمضان میںتاجروں کی منافع خوری حکومت کی کمزوری کا ثبوت ہے، ڈاکٹر مرتضیٰ مغل

اتوار مئی 17:30

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 مئی2018ء) پاکستان اکانومی واچ کے صدر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا ہے کہ ہر سال کی طرح امسال بھی رمضان المبارک کے آتے ہی مختلف اشیاء کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ہو گیا ہے جو حکومت کی نا اہلی اور ملی بھگت کا ثبوت ہے۔ متعدد پھلوں سبزیوںاور دیگر اشیاء کی قیمتوں میں اسی فیصد سے ایک سوبیس فیصد تک اضافہ ملک میں قیمتوں کے کنٹرول کے نظام کی کمزوری کا ثبوت ہے جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے تاجروں نے عوام کی استحصال کی تمام حدیں پھلانگ لی ہیں مگر انکے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی جا رہی ہے۔

ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ تاجر وں کی بھاری اکثریت جائز منافع کمانے کے بجائے عوام کو لوٹنے کو ترجیح دیتی ہے جبکہ انھیں روکنے والا کوئی نہیں ہے۔

(جاری ہے)

مرکزی اور صوبائی حکومتیں کاروباری برادری کو لگام ٖڈال کر عوام کو مناسب نرخ پر اشیائے خورد و نوش فراہم کرنے کے بجائے رمضان پیکج اور سستے بارازوں پر انحصار کرتی ہیں جس سے گرانفروشی کا مسئلہ حل نہیں ہوتا بلکہ غیر معیاری اشیاء کی فروخت سے کرپشن کے مزید دروازے کھل جاتے ہیں۔

ذخیرہ اندوزاس مہینے میں مارکیٹ میں پانی مرضی سے اتار چڑھائو پیدا کر کے اربون روپے کماتے ہیں جبکہ ان کے خلاف کسی قسم کی کاروائی کا نہ ہوناحکومت کی ترجیحات کا ثبوت ہے جو کسی قیمت پر کاروباری برادری کو ناراض نہیں کرنا چاہتی ہے۔کبھی کبھار قیمتوں کی چیکنگ اور جرمانے وغیرہ عوام کو بے وقوف بنانے کیلئے رچائے جانے والے فوٹو سیشن ہوتے ہیں۔ حکومت کو چائیے کہ عوام کی خدمت کے بجائے منافع خوروں کی خدمت کا نعرہ لگائے اور ووٹ بھی انہی سے مانگے۔