میڈیاکے شعبہ سے وابستہ ماہرین کا سماجی رابطوں کی ویب سائیٹس کیلئے ادارتی نگرانی سمیت ملکی اوربین الاقوامی قوانین کے اطلاق پرزور

اتوار مئی 17:50

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 مئی2018ء) میڈیاکے شعبہ سے وابستہ ماہرین نے سماجی رابطوں کی ویب سائیٹس پرجعلی اورغلط معلومات وخبروں اورکسی گروپ یا معاشرے کے خلاف پراپیگنڈے کی روک تھام کیلئے ادارتی (ایڈیٹورئیل) نگرانی سمیت ملکی اوربین الاقوامی قوانین کے اطلاق پرزوردیاہے۔بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے شعبہ میڈیا اینڈکمیونیکیشن سٹڈیز کے پروفیسرڈاکٹرظفراقبال نے اے پی پی کوبتایاکہ دورجدید میں شہریوں کو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پراپیگنڈا کے اثرات سے بچانے میں ریاست کی ذمہ داریاں کئی گنا بڑھ چکی ہیں، اس کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ شہریوں کو منفی طرزعمل سے بچایا جائے کیونکہ منفی طرزعمل سے گہرے سماجی اثرات مرتب ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ شہریوں کے اذہان کوانتہاپسندی اورریڈیکلائزیشن کے اثرات سے بچانا ریاست کی ذمہ داری ہونی چاہئیے، ہمیں سوشل میڈیا سے آنیوالی معلومات ، اطلاعات اوراثرات کی نگرانی کیلئے تجزیاتی مراکزکے قیام پرتوجہ مرکوزکرنی ہوگی۔

(جاری ہے)

پروفیسرڈاکٹرظفراقبال نے بتایاکہ سوشل میڈیا پرصارفین کی پوسٹوں سے ان کے جذبات اوراحساسات ماپنے کیلئے جدید ترین تیکنکی حربوں کواستعمال میں لاناہوگا،اسی سے رویوں میں مثبت اورمنفی تبدیلیوں کااندازہ لگانے میں مدد ملیگی۔

انہوں نے کہاکہ دنیاء بھر میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے استعمال میں اضافہ ہواہے اورایک اندازے کے مطابق پاکستان میں سوشل میڈیاصارفین کی تعداد 50ملین سے تجاوزکرچکی ہے، ان صارفین میں نفرت اورتعصب پھیلانے والے افراد بھی شامل ہیں جن کی نگرانی کرنا اوران کے پراپیگنڈے کا توڑ ضروری ہے، ایک طرف اگر سوشل میڈیا کو خبروں اورمعلومات کی ترسیل کیلئے استعمال میں لایا جاتاہے تو دوسری طرف ان معلومات کوپراپیگنڈا، نفرت اورتعصب کی خاطر استعمال میں لانے کی مثالیں موجود ہیں، اس صورتحال کے تناظرمیں ہمیں محتاط طرزعمل کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

متعلقہ عنوان :