پاکستان کو فلاحی ریاست بنائیں گے ،ْ ہمارا نظریہ مدینہ کی ریاست کا نظریہ ہو گا ،ْسو روزہ پلان پر ہر صورت عمل کروں گا چاہے میری حکومت چلی جائے، عمران خان نے اپنی حکومت کا 100 دن کا مجوزہ پلان پیش کر دیا

13 میں حکومت میں آ جاتے تو شاید اس قدر تیار نہ ہوتے جس طرح اب ہیں، ہمارے پاس حکومت چلانے کا 5 سال کا تجربہ ہے ،ْ ہم نے بہت کچھ سیکھا ہے ،ْ سب سے پہلے بیورو کریسی کو سیاست سے پاک کرنا ہو گا ،ْکیا مدارس میں پڑھنے والے بچے ڈاکٹرز اور انجینئرز نہیں بن سکتی ،ْسی پیک سے بھی زیادہ سمندر پار پاکستانی ہمارے لیے فائدہ مند ہو سکتے ہیں ،ْ سو روزہ پلان پر ہر صورت عمل کروں گا چاہے میری حکومت چلی جائے ،ْتحریک انصاف کے چئیرمین کا تقریب سے خطاب کراچی میں روزانہ 10 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہورہی ہے ،ْ شہری بوند بوند پانی کو ترس رہے ہیں ،ْشہر میں کوئی کچرا اٹھانے والا نہیں ہے ،ْشاہ محمود کراچی میں شہری حکومت کو بااختیار کریں گے ،ْصوبائی دارالحکومت کے اداراوں کو سیاست سے پاک کیا جائے گا ،ْتقریب سے خطاب فاٹا کا احساس عمران خان سے زیادہ کسی کو نہیں ،ْ حکومت میں آتے ہی فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم کریں گے ،ْوائس چیئر مین پی ٹی آئی صحت اور تعلیم کے شعبے میں انقلاب برپا کرنے کیلئے تحریک انصاف کی سوچ کو عملی جامہ پہنانے کیلئے اقدامات کیے جائینگے ،ْپرویز خٹک چھوٹی صنعتوں کو پیروں پر کھڑا کر کے نوکریاں پیدا کی جائیں گی ،ْ 5سالوں میں ایک کروڑ نئی نوکریاں پیدا کریں گے ،ْ اسد عمر وزیر اعظم ہاؤسنگ اسکیم کے تحت 50 لاکھ گھر بنائے جائیں گے، ہاؤسنگ اور ٹورازم کو فروغ دینے سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے ،ْخطاب اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی روشنی میں مسئلہ کشمیر کے کی منصوبہ بندی کیلئے کام کا آغاز کیا جائے گا ،ْ شیریں مزاری غیر ملکی سرمایہ کاری کے ذریعے ملکی معیشت کے احیاء کیلئے سیاسی ،ْاقتصادی سفارتکاری کو ترجیحاً بروئے کار لایا جائے گا ،ْخطاب کسانوں کی مالی امداد اور وسائل تک رسائی میں اضافہ کیا جائیگا ،ْ مالیاتی اداروں کے تعاون سے کسانوں کیلئے باسہولت اورسستے قرضوں کا انتظام کیا جائے گا ،ْجہانگیر ترین

اتوار مئی 18:30

پاکستان کو فلاحی ریاست بنائیں گے ،ْ ہمارا نظریہ مدینہ کی ریاست کا نظریہ ..
․c اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 مئی2018ء) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اپنی حکومت کا 100 دن کا مجوزہ پلان پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ 100 روزہ پلان کا مقصد پالیسیوں کو تبدیل کرنا ہے ،ْ پاکستان کو فلاحی ریاست بنائیں گے ،ْ ہمارا نظریہ مدینہ کی ریاست کا نظریہ ہو گا ،ْ2013 میں حکومت میں آ جاتے تو شاید اس قدر تیار نہ ہوتے جس طرح اب ہیں، ہمارے پاس حکومت چلانے کا 5 سال کا تجربہ ہے ،ْ ہم نے بہت کچھ سیکھا ہے ،ْ مجھے کیوں نکالا کا مطلب ہے کہ میں اتنا طاقتور ہوں کہ مجھے کیسے نکالا ،ْسب سے پہلے بیورو کریسی کو سیاست سے پاک کرنا ہو گا ،ْکیا مدارس میں پڑھنے والے بچے ڈاکٹرز اور انجینئرز نہیں بن سکتی ،ْسی پیک سے بھی زیادہ سمندر پار پاکستانی ہمارے لیے فائدہ مند ہو سکتے ہیں ،ْ ن لیگ والے کہتے ہیں کہ کے پی کے میں ایک ارب درخت نہیں لگائے، انہیں شرم آنی چاہیے،سو روزہ پلان پر ہر صورت عمل کروں گا چاہیے میری حکومت چلی جائے۔

(جاری ہے)

اتوار کو اسلام آباد مقامی ہوٹل میں تحریک انصاف کی جانب سے تقریب کا اہتمام کیا گیا ہے جس میں پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان،، جہانگیر ترین،، اسد عمر اور شاہ محمود قریشی سمیت دیگر پارٹی قائدین شریک ہوئے۔چیئرمین تحریک انصاف کا تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہماری حکومت کے ابتدائی 100 روزہ پارٹی کی عکاسی کریں گے کہ پارٹی کس راستے پر گامزن ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کو فلاحی ریاست بنائیں گے اور ہمارا نظریہ مدینہ کی ریاست کا نظریہ ہو گا۔۔عمران خان نے کہا کہ ایک منصوبہ انسان بناتا ہے اور ایک اللہ اور کامیاب ہمیشہ اللہ کا منصوبہ ہوتا ہے۔انہوںنے کہاکہ اگر ہم 2013 میں حکومت میں آ جاتے تو شاید اس قدر تیار نہ ہوتے جس طرح اب ہیں، ہمارے پاس اب حکومت چلانے کا 5 سال کا تجربہ ہے اور ہم نے اس سے بہت کچھ سیکھا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اربوں روپے چوری کر کے کہتے ہیں کہ مجھے کیوں نکالا، یہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ معاشرہ کتنی پستی میں چلا گیا ہے، مجھے کیوں نکالا کا مطلب ہے کہ میں اتنا طاقتور ہوں کہ مجھے کیسے نکالا۔چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ 100 دن پلان کا مقصد ہے کہ پالیسیوں کو تبدیل کریں، حکومت نے ملک کو اتنا مقروض کر دیا ہے اور قرضہ اتارنے کی صلاحیت بھی ختم کر دی۔

انہوںنے کہاکہ مدارس میں 25 لاکھ بچے پڑھ رہے ہیں لیکن ان کا کسی نے نہیں سوچا کہ وہ بھی ہمارے ہی بچے ہیں، کیا مدارس میں پڑھنے والے بچے ڈاکٹرز اور انجینئرز نہیں بن سکتی عمران خان نے کہا کہ ہم نے اداروں کو طاقتور بنانا ہے، کسی بھی ادارے میں سزا و جزا ختم ہو جائے تو ادارہ تباہ ہو جاتا ہے۔۔عمران خان نے کہا کہ کرپٹ نظام سے فائدہ اٹھانے والے مافیاز ہر ادارے میں بیٹھے ہوئے ہیں لیکن ہم نے نچلے طبقے کو اوپر لانا ہے اور اس کے لیے سب سے پہلے بیورو کریسی کو سیاست سے پاک کرنا ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ ہم اداروں میں میرٹ کا نظام لائیں گے، سول سروسز میں اصلاحات کریں گے اور گورننس کا نظام ٹھیک کریں گے۔چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ سی پیک ایک زبردست موقع ہے لیکن سی پیک سے بھی زیادہ سمندر پار پاکستانی ہمارے لیے فائدہ مند ہو سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے ہمارا نظام اوور سیز پاکستانیوں کو سرمایہ کاری کی اجازت نہیں دیتا۔

عمران خان نے مسلم لیگ ن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ن لیگ والے کہتے ہیں کہ کے پی کے میں ایک ارب درخت نہیں لگائے، انہیں شرم آنی چاہیے، عالمی اداروں نے بھی تسلیم کیا کہ خیبر پختونخوا میں ایک ارب درخت لگائے گئے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب میں بڑے بڑے جنگلات ختم کر دئیے گئے، چھانگا مانگا سے 80 فیصد درخت ختم کر دیے گئے، میانوالی کے جنگلات پر بھی قبضہ کر لیا گیا، راجن پور کے جنگلات پر بھی قبضہ کر لیا گیا۔

انہوںنے کہا کہ نواز شریف جہاں بھی جاتے ہیں کہتے ہیں کہ میں نے یہ موٹر وے بنا دی وہ موٹر وے بنا دی تو کیا موٹر وے بنانا ہی کامیابی ہے، موٹر وے تو کسی کو بھی پیسے دیں وہ بنا دے گا۔چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ اگر آپ قوم بنا دیں تو موٹر وے لوگ خود بنا دیں گے۔۔عمران خان نے کہاکہ اس ملک میں صرف 8 لاکھ لوگ ٹیکس دیتے ہیں ،ْساری مراعات صرف ایک مخصوص طبقے کیلئے ہیں انہوںنے کہاکہ آپ کو برطانیہ میں کتا بھوکا نہیں ملے گا۔

عمران خان نے کہا کہ تحریک انصاف نچلے درجے کے طبقے کو اوپر لیکر آئے گی ۔ عمران خان نے کہاکہ سرکاری ہسپتالوں کو ٹھیک کرنے جائے تو وہاں کرپٹ مافیا بیٹھا ہوا ہے ،ْوہ ما فیا ہسپتالوں کی حالت زار کو ٹھیک نہیں ہونے دیتا ،ْشوکت خانم سے جو تجربہ ملا آج بہترین ہسپتال بنا سکتا ہوں ،ْانہی ڈاکٹرز کو خیبرپختونخوا کے ہسپتالوں کو ٹھیک کرنے کے لیے لے گیا ،ْہر فیلڈ میں آپ کے پاس ماہرین موجود ہیںانہوںنے کہاکہ ماہرین تب آتے ہیں جب وہ سمجھیں نظام انہیں کام کرنے دے گا۔

عمران خان نے کہاکہ ڈاکٹروں کے خلاف کاروائی شروع کی تو انہوں نے اسٹے آرڈر لے لیے ہمارا سسٹم گل سڑ چکا ہے ،ْان حالات میں کیسے کوئی ادارہ کام کرسکتا ہے ،ْسرکاری ہسپتال سزا و جزا کے بغیر کام نہیں کرسکتا ،ْہسپتالوں میں پہلی بار ہم نے اصلاحات لانے کی کوشش کیں ،ْہر سرکاری ادارے میں یہ مسائل ہیںانہوںنے کہاکہ جب تک آپ کا ڈلیوری سسٹم ٹھیک نہیں ہے جو بھی منشور لے آؤ کامیاب نہیں ہوسکتے انہوںنے کہاکہ 1960 میں پاکستان نے سب سے ذیادہ ترقی کی ،ْاس دور میں پاکستان کی سول سروس غیر سیاسی تھی ،ْگروتھ ریٹ اس وقت سب سے زیادہ تھا ،ْ1995 کے بعد سول سروس سیاسی ہوگئی ۔

چیئر مین تحریک انصاف نے کہا کہ زراعت اور پانی پاکستان کے لیے بہت ضروری ہیں ،ْصنعت کو دیر لگتی ہے ،ْزراعت میں آپ جلدی سے بہتری لاسکتے ہیں ،ْزیادہ غربت دیہی علاقوں میں ہے انہوںنے کہاکہ سو روزہ پلان پر ہر صورت عمل کروں گا چاہیے میری حکومت چلی جائے ۔ عمران خان نے کہاکہ کراچی میں اتنا زیادہ درجہ حرادت کبھی نہیں دیکھا ،ْ گلوبل وارمنگ کی زد میں پاکستان آنے والا ہے ،ْپاکستان میں تیزی سے موسمیاتی تبدیلی کی طرف جا رہا ہے ،ْیہ ایک ایمرجسنی کی صورتحال اختیار کر چکی ہے ،ْاس مسلئے کا واحد حل صرف درخت اگانا ہے ۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کراچی میں روزانہ 10 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہورہی ہے اور شہری بوند بوند پانی کو ترس رہے ہیں جب کہ کراچی میں کوئی کچرا اٹھانے والا نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ کراچی میں قبضہ مافیا کیخلاف کریک ڈاؤن کا ارادہ رکھتے ہیں اور شہر میں ہاؤسنگ اسکیم کے تحت سستے گھر دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ کراچی میں شہری حکومت کو بااختیار کریں گے اور کراچی کے اداراوں کو سیاست سے پاک کیا جائے گا۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ فاٹا کا احساس عمران خان سے زیادہ کسی کو نہیں لہذا حکومت میں آتے ہی فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم کریں گے اور انگریز کے کالے قانون ایف سی آر کو فی الفور ختم کریں گے۔انہوںنے کہاکہ فاٹا کے عوام کیلیے روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں گے اور فاٹا کے لوگوں کو خیبرپختونخوا کی اسمبلی میں سیٹیں دی جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ حکومتی حلیفوں نے فاٹا معاملے پر ہمارا ڈیڑھ سال ضائع کیا، مولانا فضل الرحمان اور محمود اچکزئی نے حکومت کا ساتھ دیا۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بلوچستان میں ہم مرہم رکھیں گے اور دلوں کوجوڑیں گے جب کہ بھٹکے ہوئے لوگوں کو اپنائیں گے اور پاکستان کا حصہ بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے ساتھ وعدے تو بہت ہوتے ہیں لیکن پورے نہیں ہوتے۔انہوںنے کہاکہ جنوبی پنجاب میں احساس محرومی کو دور کرنے کا وقت آگیا ہے اور جنوبی پنجاب کو خود مختار اکائی بنائیں گے۔

پی ٹی آئی رہنما کے مطابق (ن) لیگ کی نیت پر کل بھی شک تھا اور آج بھی شک ہے لیکن ہم جنوبی پنجاب کے محروم علاقوں میں اکنامک پیکج دیں گے اور جنوبی پنجاب زراعت کی ریڑھ کی ہڈی ہوگا۔پی ٹی آئی کے 100 دن کے ایجنڈے کی تقریب میں اسد عمر نے معاشی پلان بیان کیا، انہوںنے کہاکہ چھوٹی صنعتوں کو پیروں پر کھڑا کر کے نوکریاں پیدا کی جائیں گی اور 5سالوں میں ایک کروڑ نئی نوکریاں پیدا کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ٹیکس کا بوجھ کم کریں گے اور ٹیکس کا جائز حصہ نہ دینے والوں کو ٹیکس نیٹ میں لائیں گے، بجلی اور گیس کی قیمتوں کو کم کریں گے۔انہوںنے کہاکہ وزیر اعظم ہاؤسنگ اسکیم کے تحت 50 لاکھ گھر بنائے جائیں گے، ہاؤسنگ اور ٹورازم کو فروغ دینے سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور چار نئے سیاحتی مقامات کا اعلان کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ گردشی قرضے 525 ارب تک پہنچ گئے ہیں، ایف بی آر کے نظام میں اصلاحات لائی جائیں گی اور ایک باصلاحیت چیئرمین ایف بی آر لایا جائے گا۔

اسد عمر نے کہا کہ پاکستان اسٹیل مل 2 سال سے بند پڑی ہوئی ہے لیکن ہم پاکستان اسٹیل اور پی آئی اے کو ٹھیک کرکے دکھائیں گے۔انہوں نے کہا کہ مزدورں کی حفاظت کے لیے لیبر پالیسی شروع کریں گے، 50 لاکھ گھروں کی تعمیر کیلیے پالیسی لائیں گے جس کے لیے 50 لاکھ گھروں کی تعمیر کیلئے پالیسی لائیں گے۔۔اسد عمر نے کہا کہ اپنا گھر پروگرام کے ذریعے صنعتی شعبے کو فروغ ملے گا جس سے روزگار کے اسباب پیدا ہوں گے اور معاشرے کے غریب طبقے کو چھت میسر آئے گی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شیریں مزاری نے کہا کہ وزارت خارجہ کی ادارہ جاتی استطاعت بشمول قانونی استطاعت ، صلاحیت اور عالمی رسائی میں اضافے کے ذریعے وزارت کومضبوط بنانے کے عمل کا آغاز کیا جائے گا۔ کلیدی فریقوں کی جانب سے خارجہ پالیسی سے متعلق فراہم کردہ معلومات کے انتظام کار اور معقول فیصلہ سازی کیلئے وزیراعظم کے دفتر میں پالیسی ''کوآرڈینیشن سیل''قائم کیا جائے گا۔

انہوںنے کہاکہ قومی مفادات سے ہم آہنگ پالیسیوں کا آغاز کیا جائے گاپاکستان کی ترجیحات کو مد نظر کھتے ہوئے مغربی اور مشرقی ہمسایوں کے ساتھ تعلقات میں بہتری کیلئے تنازعات کے حل کا کلیہ اپنایا جائے گا۔انہوںنے کہاکہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی روشنی میں مسئلہ کشمیر کے کی منصوبہ بندی کیلئے کام کا آغاز کیا جائے گا۔

علاقائی اور عالمی طور پر دو طرفہ اور کثیر الجہتی سطح پر پاکستان کی مطابقت میں اضافے کیلئے چین اور خطے میں پاکستان کے دیگر اتحادیوں کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری کو توسیع دی جائے گی ۔انہوںنے کہاکہ غیر ملکی سرمایہ کاری کے ذریعے ملکی معیشت کے احیاء کیلئے سیاسی ،ْاقتصادی سفارتکاری کو ترجیحاً بروئے کار لایا جائے گا۔ وزارت خارجہ اور وزارتِ تجارت کو اس حوالے سے روڈ میپ کی تیاری کا کام سونپا جائے گا۔

انہوںنے کہاکہ نیشنل کمانڈ اتھارٹی کی طرز پر وزیراعظم کی سربراہی میں کلی نیشنل سکیورٹی آرگنائزیشن قائم کی جائے گی انہوںنے کہاکہ نیشنل سیکیورٹی کونسل پلانیری کونسل (پالیسی اینڈاسٹریٹجی)اور اسپشلسٹ ورکنگ گروپ پر مشتمل ہوگی۔ شیریں مزاری نے کہا کہ نیکٹا این ایس او اس کے سیکرٹریٹ کے طور پر کام کرے گی۔ انہوںنے کہاکہ دہشت گردی کے مقابلے کیلئے خصوصی طور پر ایک جامع داخلی سکیورٹی پالیسی نافذ کی جائے گی جس کی بنیاد چار اصولوں پر استوار ہو گی۔

شیریں مزاری نے کہاکہ متحرک اور غیر متحرک دہشت گردوں کے مابین روابط/گٹھ جوڑ کو بے نقاب کرنا ،ْ دہشت گردی کے خلاف قومی منصوبہ عمل (نیشنل ایکشن پلان) کا مکمل نفاذ اور اس میں توسیع ،ْدہشتگردوں کو تنہا کرنا، ان کی بیخ کنی کرنااور رد عمل سے بچائو کیلئے اقدامات کرنا ،ْ نصاب کی تشکیلِ نو اورمدارس کی قومی دھارے میں شمولیت اولین ترجیح ہوگی ۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ خیبر پختون خوا پرویز خٹک نے کہا کہ صحت اور تعلیم کے شعبے میں انقلاب برپا کرنے کیلئے تحریک انصاف کی سوچ کو عملی جامہ پہنانے کیلئے اقدامات کیے جائینگے اور مفصل منصوبے مرتب کیا جائیگا جس کے ذریعے واضح کیا جائے گا کہ کیسے تحریک انصاف کی حکومت پانچ سالوں میں صحت اور تعلیم میں معیار ، عوام کی ان تک رسائی اور ان کے انتظامِ کو بہترکرنے کویقینی بنائے گی ،ْاس کے ساتھ ’’صحت انصاف کارڈ ‘‘کو پورے ملک میں موجود خاندانوں تک توسیع دی جائے گی۔

وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے سوشل سیفٹی نیٹ میں توسیع کے حوالے سے کہاکہ انکم سپورٹ پروگرام کو فوری چون (54)لاکھ خاندانوں سے بڑھا کر خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے اسی لاکھ خاندانوں تقریباً (چھ کروڑپاکستانی )تک توسیع دی جائے گی ،ْ معذور افراد کے لئے خصوصی پروگرام شروع کریں گے انہوںنے کہا کہ اسکول سے باہر بچوں کے داخلہ کو فروغ دینے کے لئے اضافی مدد فراہم کریں گے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ملک میں خواتین کی ترقی کے حوالے سے تحریک انصاف کی سوچ کو عملی اقدامات میں ڈھالا جائے گا انہوںنے کہاکہ خواتین کو مدنظر رکھتے ہوئے ’’کریمنل جسٹس ریفارمز‘‘کا آغاز کیا جائے گا ،ْ اس کے ساتھ وراثت میں خواتین کا حق محفوظ بنانے کیلئے لائحہ عمل دیا جائے گا،،وزیر اعلیٰ نے کہاکہ معاشی طورپر خواتین کوبہترکرنے کیلئے وویمن اکنامک ایمپاورمنٹ پیکج شروع کیا جائے گاانہوںنے کہاکہ خواتین کیلئے فراہمی روزگار یقینی بنایا جائیگا اور خصوصی سکیمیں متعارف کروائی جائیں گی۔

پرویز خٹک نے کہاکہ ہر شہری کیلئے پینے کے صاف پانی کی فراہمی کیلئے وفاقی حکومت منصوبے تیار کرے گی اور ان صوبوں کے فوری نفاذ کا لائحہ عمل دے گی۔ انہوںنے کہاکہ ملک بھر میں ان منصوبوں کی توسیع سے قبل وفاقی دارالحکومت اور صوبائی دارالخلافوں میں پانی کے ان منصوبوںپر عملدرامدکیا جائے گا۔۔وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے بتایا کہ ماحولیات کے تحفظ کے تحریک انصاف کے ایجنڈے کے تحت ’’گرین گروتھ ٹاسک فورس ‘‘کی بنیاد ڈالی جائے گی اس کے ذریعے مطلوبہ قانون سازی اور منصوبہ سازی کا عمل آگے بڑھایا جائے گا۔

انہوںنے کہا کہ ملک بھر میں دس ارب درخت اگائے جائیں گے اور صوبائی دارالخلافوں میں ’’اربن ٹری سونامی پروگرامز ‘‘شروع کیے جائیں گے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جہانگر خان ترین نے کہاکہ کاشتکار کیلئے زراعت کو منافع بخش بنانے کیلئے زرعی ایمرجنسی کا نفاذ کیا جائیگا ،ْ انہوںنے کہاکہ زرعی اجناس میں کاشتکار کا منافع بڑھانے، ڈیزل پر ٹیکس کم کرنے، زراعت کے جدید طریقے متعارف کروانے اور دیگر اقدامات کے ساتھ سبسڈی پروگرامز کو موثر بنانے کیلئے تحریک انصاف کی زرعی پالیسی لاگو کی جائے گی۔

انہوںنے کہاکہ کسانوں کی مالی امداد اور وسائل تک رسائی میں اضافہ کیا جائیگا ،ْ مالیاتی اداروں کے تعاون سے کسانوں کیلئے باسہولت اورسستے قرضوں کا انتظام کیا جائے گاجہانگیر ترین نے کہا کہ جدید انداز میں مالیاتی وسائل کی فراہمی کے اسباب مہیا کیے جائیں گے۔انہوںنے کہاکہ زرعی اجناس کے مناسب دام یقینی بنانے کیلئے منڈیوں اور ذخائر میں اضافے کی مہم شروع کی جائے گی ۔

جہانگیرترین نے کہا کہ اس مہم میں نجی شعبے کی شرکت کی راہ ہموار کرنے کیلئے موضوع قانون سازی کی جائے گی۔انہوںنے کہاکہ برآمدات کو خصوصی طور پر نگاہ میں رکھتے ہوئے فوڈ پراسسینگ کی چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعت کے فروغ کیلئے سہولیاتی منصوبہ مرتب کیا جائے گا۔۔جہانگیر ترین نے کہا کہ پاکستان کودودھ اور دودھ سے بنی مصنوعات میں خود کفیل بنانے کا منصوبہ شروع کیا جائے گا۔

انہوںنے کہاکہ لاکھوں چھوٹے چھوٹے کسانوں کو بہتر کرنے کیلئے گوشت کی پیداوار کو بڑھانیپر ایک پروگرام متعارف کرایا جائے گا۔انہوںنے کہاکہ دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر میں تیزی کیلئے وزیراعظم کی سربراہی میں فوری طور پر ’’نیشنل واٹر کونسل‘‘قائم کی جائے گی جہانگیر ترین نے کہا کہ قومی سطح پر پانی کے بچائوکی کوششوں میں توسیع کیلئے قومی واٹرپالیسی سے ہم آہنگ منصوبہ عمل مرتب کیاجائے گاانہوںنے کہاکہ پانی ذخیرہ کرنے اور ضیاعِ آب روکنے کے منصوبوں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی ،ْ پانی کی تقسیم اور نگرانی کے جدید طریقے لاگو کیے جائیں گے۔