رمضان المبارک میں مہنگائی کا جن بے قابو، ناجائز منافع خور عوام کی جیبیں خالی کرنے لگے

ماضی کی طرح ضلعی حکومت کا قیمتوں کی جانچ پڑتال کا نظام غیر موثر ہو کر رہ گیا،شہریوں کی دھائی

اتوار مئی 19:00

راولپنڈی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 مئی2018ء) رمضان المبارک میں اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں تیزی سے ہونے اضافہ سے مہنگائی کا جن بے قابو اور ناجائز منافع خور عوام کی جیبیں خالی کرنے لگے ۔اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں رمضان المبارک کی آمد سے قبل ہی ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آ رہا تھا جبکہ رمضان المبارک میں روزمرہ اشیاء کی قیمتوں میں 25سی50فی صد تک کے یکدم اضافے نے عام آدمی کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے ۔

شہریوں نے اے پی پی کو بتایاکہ رمضان المبارک میں چینی ،چاول ،دالوں ،چکن ،گوشت ،سبزیوں اور پھلوں کی قیمتوں میں عمومی طور پر 50سی100فی صد اضافہ کر دیا جاتا ہے اور یوں یہ پھل اور سبزیاں عام آدمی کی پہنچ سے دور ہو جاتی ہیں ۔شہریوں نے اے پی پی سے بات چیت کرتے ہوئے الزام عائد کیاکہ متعلقہ حکام ناجائز منافع خوروں کے خلاف کارروائی میں ناکام ہو چکے ہیں یہی وجہ ہے کہ دکانداروں روزمرہ اشیائے ضروریہ کے من مانے نرخ مقرر کر رکھے ہیں اور عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے میں مصروف ہیں ۔

(جاری ہے)

ماضی کی طرح رواں برس بھی ضلعی حکومت کا قیمتوں کی جانچ پڑتال کا نظام غیر موثر ہو کر رہ گیاہے اور ضلعی حکومت کی جانب سے جاری کردہ ریٹ لسٹ محض دکھاوا ثابت ہونے لگی جبکہ حقیقت یہ ہے کہ دکاندار من مانے نرخوں کی وصولی کے ساتھ عوام کی جیبیں خالی کرنے میں مصروف ہیں ۔شہریوں کا کہنا ہے کہ ضلعی حکومت ریٹ لسٹ مرتب کرتے وقت زمینی حقائق مدنظر نہیں رکھتی بلکہ اس کے برعکس ریٹ متعین کیے جاتے ہیں جو کہ دکانداروں کو منظور نہیں ہوتے کیونکہ یہ فہرست مارکیٹ پرائس سے حد درجے کم ہوتی ہے ۔

حالیہ دنوں میں متعلقہ حکام کے دعوئوں کے برعکس پھلوں اور سبزیوں کے ہول سیل تاجروں سمیت پرچون دکاندار بھی عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے میں مصروف ہیں ۔چینی کی فی کلو قیمت بھی 2سے 3روپے اضافے کے ساتھ 55سی60روپے فی کلو گرام ہو چکی ہے جبکہ کھجور 200روپے سے 350روپے فی کلو گرام کے حساب سے فروخت ہو رہی ہے اسی طرح بائیکاٹ کے باوجود چکن 300روپے سے 320روپے فی کلو گرام فروخت ہو رہاہے ۔

بیسن پکوڑوں میں استعمال ہونے والا رمضان المبارک کا معمول کا استعمال ہونے والا آئٹم بھی تقریباً 150روپے فی کلو گرام کے حساب سے فروخت ہو رہاہے جبکہ سرکاری نرخ 120روپے فی کلو گرام ہے ۔شہریوں نے قومی خبر ایجنسی کو بتایاکہ سرکاری مقرر کردہ نرخوں کی سرعام دھجیاں بکھیری جا رہی ہیں اور دہی 110روپے سے 120روپے فی کلو گرام جبکہ دودھ 100روپے اور 110روپے فی لٹر فروخت کیا جا رہاہے لیکن سرکاری نرخ نامے کے مطابق دہی 70روپے فی کلو گرام اور دودھ 80روپے فی لٹر درج ہے ۔

مارکیٹ میں ٹماٹر 30روپے فی کلو گرام ،آلو 20سے 30روپے فی کلو گرام ،پیاز 30سے 40روپے فی کلو گرام ،لیموں 300روپے سے 350روپے فی کلو گرام ،آٹے کا 20کلو گرام کا تھیلا 750روپے سے 820روپے جبکہ چکی کا آٹا 60روپے فی کلو گرام فروخت ہو رہاہے ۔ضلعی حکومت کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین ریٹ لسٹ کے مطابق آ ٹا20 کلو گرام 500روپی(رمضان بازار ر یٹ)، آ ٹا 10کلوگرام250روپی(ر مضان بازار ر یٹ)،و یجیٹیبل گھی و آئل فی کلو میں نو ٹیفا ئیڈ ر یٹس سے 10روپے کم، با سمتی چاول نئی110 روپے فی کلو، با سمتی چاول پرانے 130رو پے فی کلو، چاول(ایری) کی قیمت 50روپے فی کلو، دال چنا(موٹی)110 روپی فی کلو جبکہ ر مضان بازار میں90 روپے ، دال چنا(بار یک)100روپے فی کلو، دال مسور(موٹی)80روپے فی کلو، دال مسور(باریک)110روپے کلو،دال ماش(ثا بت)115 روپے کلو، دال ماش (کرم)140 روپے کلو،دال مو نگ 100روپے کلو، سفید چنا(موٹا) 170روپے کلو، سفید چنا(با ر یک) 130 روپے کلو، بیسن 125روپے فی کلو اور ر مضان بازار میں105 رو پے، مٹن700 روپے فی کلو، بیف 350روپے فی کلو، چینی 46 روپے ر مضان بازار ر یٹ، سر خ مرچ270 روپے، کھلا دودھ70 روپے فی لیٹر، د ہی 80روپے فی کلو قرار دی گئی ۔

اسی طرح تندوری روٹی کی قیمت07 روپے ور نان کی قیمیت10 روپے مقرر کی گئی ہے۔ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ ریٹ لسٹ کے مطابق قصابوں نے گوشت کی فروخت سے یکسر انکار کر دیاہے اور کہاہے کہ یہ نرخ قصابوں سے مشاورت کے بغیر مقرر کیے گئے ۔اس طرح مارکیٹ میں بکرے کا گوشت 950سے 1050روپے فی کلوگرام جبکہ گائے کا گوشت 550روپے فی کلو گرام فروخت ہو رہاہے ۔

ناجائز منافع خوروں نے رمضان المبارک میں طلب میں اضافے کی بدولت پھلوں کی قیمتوں میں بھی من مانا اضافہ کر دیاہے مارکیٹ میں سیب 200روپے سے 250روپے فی کلو گرام ،آم 150روپے سے 200روپے فی کلو گرام ،کیلا 180روپے سے 300روپے فی درجن ،تربوز 20روپے فی کلو گرام ،خربوزہ 60روپے فی کلو گرام جبکہ آڑو 180روپے فی کلو گرام فروخت ہورہے ہیں ۔پھل فروشوں نے بغیر ڈر وخوف پھلوں کے من مانے نرخوں کی وصولی شروع کر رکھی ہے ۔

متعلقہ عنوان :