لاہور، معروف گلوکارہ منور سلطانہ کی برسی ، خصوصی پروگرام نشر

اتوار مئی 19:10

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 مئی2018ء) ریڈیو پاکستان نے اپنے قومی نشریاتی رابطے اور ایف ایم 93 کے نیٹ ورک پر ملک کی معروف گلوکارہ منور سلطانہ کی برسی کے موقع پر خصوصی پروگرام وہ زندگی کے سہارے کہاں گئے نشر کیا جس کے راوی خورشید علی،ریکارڈنگ انجئینیر طارق محمود ،رائٹر اور پروڈیوسر مدثر قدیر تھے پروگرام میں منور سلطانہ کے گائے ہوئے گیتوں کی خوبصورت مکسنگ نے اس کی صوتی اہمیت میں اضافہ کیا جب کہ اپنے تاثرات میں صدارتی ایوارڈ یافتہ گٹارسٹ اور موسیقار سجاد حسین طافو کا کہناتھا کہ قیام پاکستان کے بعد فلموں کے لئے جس خوبصورت آواز کو متعار ف کروایا گیا اس کا نام منور سلطانہ تھا جن کا فنی سفر ان کے نام ہی کی طرح منور ہے ان کی آواز پنجابی اور اردو دونوں زبانوں میں بننے والے گیتوں کے لئے یکساں اہمیت رکھتی تھی انھوں نے 50ء کی پوری دھائی اور بعد میں 60ء کی دھائی کے وسط تک اپنے فن سے نہ صرف فلم بینوں بلکہ ریڈیو کے سامعین کو بھی متاثر کیا جبکہ پاکستان میوزک کونسل کے سربراہ جمیل گشکوری کا منور سلطانہ کے فن پر گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ منور سلطانہ کی آواز میں سادگی اور معصومیت تھی اور نچلے سروں کے ساتھ گانا بڑی خوبی،ان کا فنی سفر تو تقسیم ہند سے قبل گرامو فون کمپنی سے ہوگیا مگر بعد میں موسیقار وں نے ان کے فن کومزید جلا بخشی یہی وجہ ہے کہ آج تک ان کے گائے ہوئے نغمات اپنی الگ پہچان رکھتے ہیں اور ان کا فن رہتی دنیا تک قائم رہے گاپروگرام کے آخری حصے میں ریڈیو پاکستان لاہور کے دیہاتی بھائیوں کے معروف پروگرام کے میزبان آشر ندیم کا کہنا تھا کہ منور سلطانہ کا فن ہی ان کی پہچان بنا مجھے آج بھی ان کے گائے ہوئے گیتوں کی فرمائش آتی ہے جس سے اس بات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ آج بھی ان کا فن ذندہ ہے اور ان کی آواز کے مداح موجود ہیں جو 50کی دھائی کے گائے ہوئے ان کے گیتوں کو ذوق و شوق سے سنتے ہیں۔

(جاری ہے)

منور سلطانہ نے گیتوں کے ساتھ غزل گائیکی میں بھی اپنا منفرد مقام بنایا اور ان کی گائی ہوئی غزلیں آج بھی ریڈیو پاکستان کے آواز خزینہ میں محفوظ ہیں۔