نٹرنیشنل ڈیسک *

یورپی ممالک کی ایران کو ’امریکا کے بغیر‘ جوہری معاہدے کی یقین دہانی

اتوار مئی 19:20

تہران(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 مئی2018ء) یورپی یونین کے ادارہ برائے توانائی اور ماحولیات کے سربراہ نے ایران کو یقین دہانی کرائی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جوہری معاہدے سے علیحدگی کے باوجود یورپی ممالک اس معاہدے کو جاری رکھنے کیلئے تیار ہیں۔گزشتہ روز کمشنر برائے توانائی یورپین،ماحولیات میگل اریاس کینیٹ نے ایرانی دارالحکومت تہران کا دورہ کیا اور ایرانی حکام کو اس فیصلے سے آگاہ کیا،اپنے دورے پر انہوں نے ایرانی حکام سے کہا کہ 28 ممالک پر مشتمل یورپی یونین ایرانی تیل کی درآمد کنندہ ہے،اور ہمیں امید ہے کہ ایران کیساتھ تجارت میں مزید اضافہ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے ایرانی دوستوں کو یہ پیغام پہنچا دیا کہ اگر وہ اس معاہدے کو پورا کریں گے تو یورپی ممالک بھی اپنے وعدے پورے کریں گے۔

(جاری ہے)

دوسری جانب اس موقع پر ایرانی نیوکلیئر چیف علی اکبر صلاحی نے کہا کہ ہم اپنے تجارتی لین دین کو بڑھانے کی کوشش کریں گے جو ایرانی معیشت کیلئے اہم ثابت ہوتا رہا ہے،تہران، یورپی ممالک کی جانب سے 2015 میں ہونیوالے معاہدے کو جاری رکھنے سے متعلق پٴْر امید ہے۔

علی اکبر صلاحی نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ یورپی ممالک کی کوششیں رنگ لائیں گی تاہم امریکا کا رویہ یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ عالمی معاہدوں میں ایک قابلِ اعتماد ملک نہیں۔انہوں نے بھی اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ وہ تہران کو اس کی خواہش کے مطابق گارنٹی دینے میں پریشانی کا شکار ہوسکتے ہیں۔برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے اس معاہدے کو ایران کو اپنے جوہری پروگرام روکنے کے لیے اہم قرار دیا تھا لیکن انہوں نے ایران سے یہ بھی مطالبہ کیا تھا کہ وہ خطے میں اپنے اثر و رسوخ اور میزائل پروگرام کو ختم کرے۔

اگر یورپی ممالک اس معاہدے کو برقرار رکھنے میں ناکام ہوجاتے ہیں تو پھر وہ 20 فیصد یورینیم کی افزائش کو دوبارہ شروع کردے گا۔یورپی ممالک کے پاس اپنے وعدے کا پاس رکھنے کے لیے صرف چند ہفتے ہیں اور اگر وہ ایسا کرنے میں ناکام ہوگئے تو پھر ایران اپنے انتہائی آپشن کی جانب چلا جائیگا۔واضح رہے کہ اس معاہدے میں ایران نے اپنے اوپر مغربی ممالک کی جانب سے عائد کی گئی پابندیوں کو ہٹانے کے بدلے میں اپنے جوہری پروگرام کو ختم کرنے کے لیے رضامندی کا اظہار کیا تھا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 8 مئی کو ایرانی معاہدے سے انخلا کے اعلان کے بعد یورپی ممالک نے کہا تھا کہ ایرانی تیل اور سرمایہ کاری کو جاری رکھیں گے۔