چار سال گزرنے کے باوجود ڈ رگ ریگولیٹری اتھارٹی کے دفاتر کرائے کی عمارت میں موجود ، ماہانہ 5ملین روپے کی ادائیگی

عمارت کیلئے اراضی اگلے بورڈ اجلاس میں مختص کی جائے گی ، ترجمان

اتوار مئی 19:20

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 مئی2018ء) ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ )گزشتہ چار سالوں سے وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں جی نائن کی ایک عمارت کرائے کی مد میں ماہانہ 5ملین روپے ادا کررہی ہے اسکے باوجود چار سال قبل وزارت قومی صحت (این ایچ ایس ) نے اعلان کیا کہ اس ادارے کیلئے ایک دفتر تعمیر کیا جائے گا ۔ این ایچ ایس کے ترجمان ساجد شاہ کے مطا یہ پروجیکٹ اس لئے تاخیر کا شکار ہو اکیونکہ این آئی ایچ میں عمارت کیلئے اراضی مختص نہیںکی جاسکی تاہم ساجد شاہ نے دعوی کیا ہے کہ اراضی اگلے بورڈ میں مختص کردی جائے گی ۔

2012میں ڈریپ کے قیام کے بعد اس ادارے نے مختلف دفاتر میں کام کرنا شروع کیا جن میں بعض پاک سیکرٹریٹ میں تھے جہا ں پر موصوف وزارتوں کو اپنے دفاتر رکھنے کی اجازت ہے۔

(جاری ہے)

خالی کروانے کے دبائو کے تحت کچھ ڈریپ دفاتر بلیو ایریا میں کرائے کی ایک عمارت میںمنتقل کردئیے گئے ، ڈریپ کے ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ 2013میں اس بات کا فیصلہ کیا گیا کہ تمام دفاتر ایک ہی بلڈنگ میں منتقل کیے جائیں۔

جی سکس میں 30ہزار مربع فٹ کی ایک عمارت ماہانہ 4.6ملین روپے کے کرائے پر لی گئی تاہم یہ اقدام مہنگا ہونے کے بناء پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا ۔ اس تنقید کو ختم کرنے کے لئے وزیر صحت سائرہ افضل تارڑ نے جولائی 2014میں اعلان کیا کہ ڈریپ پلاننگ کیلئے 20کنال اراضی خریدنے کا کام شروع کرلیا گیا ہے اور 2سالوں کے اندر اتھارٹی اپنی عمارت میں ہوگی ۔ اس وقت تک کرائے کی عمراتوں میں ڈریپ ہوگی تاکہ ادویات کی رجسٹریشن کے حوالے سے تنازعات کا خاتمہ ہو ۔

متعلقہ عنوان :