بارشوں میں کمی کے باعث بلوچستان میں خشک سالی ہے جس سے مالداری اور زراعت کے شعبے تنزلی کا شکار ہیں،میر عبدالقدوس بزنجو

اتوار مئی 19:30

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 مئی2018ء) وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے صوبے میں خشک سالی کے باعث پیدا ہونے والے پانی کے بحران سے نمٹنے کے لئے روس کے ماہرین کو صوبے کے مختلف علاقوں میں مصنوعی بارش کے منصوبے کے تحت آزمائشی اور تجرباتی بنیادوں پر گوادر میں سنوڑ ڈیم اورآکڑہ کور ڈیم پر مصنوعی بارش برسانے کا تجربہ کرنے کی منظوری دی ہے ۔

اس حوالے سے غیر ملکی کمپنی کلائمیٹ گلوبل کنٹرول ٹریڈنگ کمپنی کے سی ای او مسٹر میکسم لاورو Maxim lavrovنے اپنے وفد کے ہمراہ وزیراعلیٰ سے ملاقات کی اور انہیں مصنوئی بارش برسانے کے سائنسی طریقہ کار کے بارے میں بریفنگ دی۔ واضح رہے کہ وفد نے گزشتہ دنوں بھی وزیراعلیٰ سے ملاقات کرکے انہیں صوبے میں خشک سالی کے تدارک کے لئے بلوچستان کے واٹر سیکٹر میں سرمایہ کاری کرنے اور تکنیکی معاونت کی فراہمی میں دلچسپی کا اظہا کیا تھا۔

(جاری ہے)

یہ کمپنی مصنوئی بارش برسانے میں مہارت رکھتی ہے۔ وفد نے وزیراعلیٰ کو آگاہ کیا کہ انہوں نے وزیراعلیٰ سے گزشتہ ملاقات میں طے پائے جانے والے امور کے تحت صوبے کے آبی ذخائر کی ترقی، نئے آبی ذخائر کی تعمیر اور پانی کے تحفظ کے لئے جدید سائنسی طریقوں کے استعمال کے امکانات کا جائزہ لیا ہے اور ابتدائی طور پر گوادر کے دو ڈیموں پر مصنوعی بارش برسانے کا تجربہ کیا جائے گا۔

ا نہوں نے بتایا کہ جدید سائنسی طریقہ کار کے تحت سمندر کے اوپر بادل بناکر انہیں کسی بھی علاقے کے اوپر لے جاکر برسایا جاسکتا ہے اور ان کی کمپنی بلوچستان میں سالانہ تین سو ملی میٹر مصنوعی بارش برسانے کے صلاحیت رکھتی ہے۔ وزیراعلیٰ نے مصنوعی بارش برسانے کے طریقہ کار میں گہری دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ صوبائی محکموں کو کمپنی کے ساتھ اشتراک عمل آگے بڑھانے کی ہدایت کی۔

انہوں نے کہا کہ بارشوں میں کمی کے باعث بلوچستان میں خشک سالی ہے جس سے مالداری اور زراعت کے شعبے پانی کی کمی کے باعث تنزلی کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی بارش برساکر خشک سالی کا خاتمہ اور زراعت اور مالداری کے شعبوں کو ضرورت کے مطابق پانی فراہم کیا جاسکتا ہے۔ غیر ملکی کمپنی نے ماہی گیری کے شعبہ میں بھی سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی کااظہارکیا۔

کمپنی کے سی ای اونے بتایا کہ ان کی کمپنی ماہی گیری کے شعبے میں کام کرنے کا وسیع تجربہ رکھتی ہے جس میں موٹر بوٹ اور چھوٹی کشتیوں کی تیاری سمیت ماہی گیروں کو جدید سہولتوں کی فراہمی، فش پروسیسنگ اور پیکنگ یونٹوں کا قیام بھی شامل ہے اور ان کی کمپنی اس شعبہ میں 70ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کرسکتی ہے۔ وزیراعلیٰ نے سرمایہ کاری کی پیش کش کا خیرمقدم کرتے ہوئے محکمہ ماہی گیری کو ہدایت کی کہ کمپنی کے ساتھ سرمایہ کاری کے امور کو حتمی شکل دی جائے تاکہ گوادر، پسنی، اورماڑہ، جیونی سمیت دیگر ساحلی علاقوں کے ماہی گیر جدید سہولتوں سے استفادہ کرسکیں گے۔

وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی بلال خان کاکڑ، ایڈیشنل چیف سیکریٹری منصوبہ بندی وترقیات، سیکرٹری پی ایچ ای اور سیکریٹری ایریگیشن بھی اس موقع پر موجود تھے۔