بہاول پور،حکومت آخری دنوں میں بھی ون ویلنگ کر رہی ہے،ڈاکٹر سید وسیم اختر

حالیہ بجٹ کا جتنا بھی الٹرا سائونڈ کیا جائے عوام کے لیے کچھ نہیں نکلے گا ، پارلیمانی لیڈر پنجاب اسمبلی سودی معاشی نظام کے خاتمے تک ملک ترقی نہیں کر سکتا،موجودہ ٹیکسیشن نظام ناکام ہوچکا زکواة و عشر کا پاکیزہ نظام اپنایا جائے، جماعت اسلامی کے رہنما ء کا تقریب سے خطاب

اتوار مئی 20:20

بہاول پور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 مئی2018ء) جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر پنجاب اسمبلی ڈاکٹر سید وسیم اختر نے کہاہے کہ حکومت اپنے آخری دنوں میں بھی ون ویلنگ کر رہی ہے۔ حالیہ بجٹ عوام کے لیے نہیں، حسب روایت خواص کے لیے بنایا گیاہے۔ اس کا جتنا بھی الٹرا سائونڈ کیا جائے، کچھ نہیں نکلے گا۔ عام پاکستانی کی فلاح و بہبود کے لیے اس بجٹ میں کچھ بھی نہیں۔

جب تک معاشی نظام سودی بنیاد پر رہے گا، ملک ترقی نہیں کر سکتا۔ حکومت نے ایمنسٹی سکیم کا اعلان کر کے اٹھارویں آئینی ترمیم کی خلاف ورزی کی ہے جب تک حکومت پر عوام کا اعتماد بحال نہیںہوتا، لوگ ٹیکس نہیں دیں گے۔ موجودہ ٹیکسیشن نظام ناکام ہوچکا ہے اس لیے ضروری ہے کہ زکواة و عشر کا پاکیزہ نظام اپنایا جائے۔

(جاری ہے)

ٹیکس کی بجائے زکواة و عشر کا نظام اختیار کیا جائے تو پہلے دن ہی زکواة دینے والوں کی تعداد 9 کروڑ تک پہنچ جائے گی جبکہ ٹیکس صرف 9 لاکھ افراد دیتے ہیں۔

کرپشن کی وجہ سے سٹیل ملز، ریلوے،، پی آئی اے، واپڈا سمیت قومی ادارے سینکڑوں ارب روپے کے خسارے میں ہیں لیکن مالیاتی کرپشن ختم کرنے کے لیے کسی سکیم کا اعلان نہیں کیا گیا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے الخدمت فائونڈیشن کی جانب سے مقامی ہوٹل میں بے روز گار افراد کوچھوٹے کاروبار کے لیے قرض کے چیکس دینے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہاکہ حکومت نے پانچ سالوں میں پانچ ہزار ارب قرضہ لے کر سابقہ حکومتوں کے ریکارڈ توڑدیے ہیں۔

قرضوں کی پالیسی نے ہماری آنے والی نسلوں کوبھی مقروض کردیاہے۔ بجٹ میں تعلیم کے لیے صرف 37 ارب اور صحت کے لیے 25 ارب رکھے گئے ہیں جو کہ حکومت کے تعلیم عام کرنے اور مفت علاج کے اپنے دعوئوں کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہاکہ 65 فیصد لوگ دیہاتوں میں رہتے ہیں۔ موجودہ بجٹ میں دیہاتوں کو آباد کرنے اور آبادی کا رجحان شہروں کی طرف سے ختم کرنے کی کوئی سکیم نہیں دی گئی۔

انہوںنے کہاکہ بجٹ میں کراچی،، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے لیے کوئی خصوصی پیکیج نہیں دیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہر چیز سے نوازا ہے لیکن غلط نظام کی وجہ سے ہم غربت اور پسماندگی کی چکی میں پس رہے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ مدینہ کا اسلامی نظام ہمارے لیے ماڈل بنے گا تو ہم ترقی کریں گے۔تقریب سے الخدمت فائونڈیشن کے ضلعی صدر چوہدری احسان ،امیر شہر سید ذیشان اختر و دیگر نے خطاب کیا آخر میں 24 مرد و خواتین کو کاروبار کے لیے 25,25 کے چیکس دیئے گئی