بھارت ،ْ گائے ذبح کرنے کا الزام، ایک اور مسلمان تشدد سے جاں بحق ،ْچار ملزمان گرفتار

ایک ذبح کیے گئے بیل اور دیگر 2 جانوروں کے گوشت سے بھرے بیگ بھی برآمد

اتوار مئی 21:10

بہوپال(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 مئی2018ء) بھارت کی ریاست مدیحہ پردیش کے ضلع ساتنا میں مبینہ طور پر گائے ذبح کرنے کے الزام میں ہجوم نے ایک مسلمان شخص پر تشدد کرکے اسے قتل کردیا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق مشتعل ہجوم نے گائے ذبح کرنے کا الزام لگاتے ہوئے 45 سالہ ریاض کو لاٹھی اور پتھر سے تشدد کا نشانہ بنایا جس سے وہ جاں بحق ہوگیا ،ْاس کا دوست 33 سالہ شکیل واقعے میں شدید زخمی ہوا۔

بعد ازاں پولیس نے 4 ملزمان کو گرفتار کرکے ان کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرلیا۔

(جاری ہے)

رپورٹس کے مطابق پولیس آفیسر راجیش ہنگانکر کا کہنا تھا کہ ایک ذبح کیے گئے بیل اور دیگر 2 جانوروں کے گوشت سے بھرے بیگ بھی برآمد کیے گئے ہیں۔۔پولیس آفیسر کا کہنا تھا کہ واقعہ کے بعد علاقے میں حالات کشیدہ ہیں ،ْ امن و امان کو بحال رکھنے کے لیے پولیس کی اضافی نفری علاقے میں تعینات کی گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق پولیس نے زخمی مسلمان شخص کے خلاف گائے ذبح کرنے کا مقدمہ درج کرلیا جو جبل پور کے ہسپتال میں کومہ کے باعث زیر علاج ہے۔مدیحہ پردیش میں گائے ذبح کرنے پر ملزم کو 7 سال قید اور 5 ہزار روپے جرمانے کی سزا کا قانون رائج ہے، یاد رہے کہ ریاست نے اس حوالے سے 2012 میں قانون میں ترمیم کی تھی۔