سبیکاشیخ کی کراچی میں رہائش گاہ پر تعزیت کیلئے آنے والوں کا تانتا بندھ گیا

سبیکا کے رشتہ دار، دوست احباب اور اہلہ محلہ جوق در جوق اس کے والدین کے غم میں شریک ہورہے ہیں لواحقین سبیکا کی میت اور اپنی لاڈلی کے آخری دیدار کے منتظر ہیں ، سبیکا کی میت آئندہ24سے 48گھنٹوں میں پاکستان آئے گی

اتوار مئی 21:50

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 مئی2018ء) امریکی ریاست ٹیکساس اسکول میں فائرنگ میں جاں بحق ہونے والی پاکستانی طالبہ سبیکا کی کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں رہائش گا ہ پر تعزیت کے لیے آنے والوں کا تانتا بندھا ہو اہے ۔سبیکا کے رشتہ دار، دوست احباب اور اہلہ محلہ جوق در جوق اس کے والدین کے غم میں شریک ہورہے ہیں۔لواحقین سبیکا کی میت اور اپنی لاڈلی کے آخری دیدار کے منتظر ہیں ، سبیکا کی میت آئندہ24سے 48گھنٹوں میں پاکستان آئے گی ۔

سبیکا کی اساتذہ نے اس کی موت کو قومی سانحہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک ایک قیمتی اثاثے سے محروم ہوگیا ہے۔سبیکا نے پرائمری اور ہائر سیکنڈری کی تعلیم کراچی پبلک اسکول اسٹار گیٹ برانچ سے حاصل کی جبکہ او لیول پی ای سی ایچ ایس برانچ سے مکمل کیا۔

(جاری ہے)

اتوار کو سبیکاکی مادر علمی کراچی پبلک اسکول کی پرنسپل شہلا شمیم او ر ایڈمنسٹریٹر غلام مصطفی حسین بھی والدین سے تعزیت کے لیے آئے ۔

اس موقع پر شہلا شمیم نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ سبیکا پاکستان کا فخر ہے،وہ ہمیشہ کچھ کر دکھانا اور زندگی میں آگے بڑھنا چاہتی تھی، پوری دنیا صرف پاکستان کو تنقید کا نشانہ بناتی ہے لیکن دیکھ لیں کہ امریکہ میں بھی تعلیمی ادارے محفوظ ہیں ،سمجھ سے بالاتر ہے کہ ایک نفسیاتی بچہ جو بے قابو ہے اسکول میں داخل کیسے ہوا۔انھوں نے کہا کہ سبیکا اسکول میں بھی پوزیشن ہولڈر تھی،اس کے امریکہ جانے کا ہوا تو میں راضی نہیں تھی کیونکہ امریکہ جانے سے سبیکا کا اسکول کا ایک سال ضائع ہوتا۔

انھوں نے کہا کہ سبیکا کی ہہوسٹن میں بھی بہترین پرفارمنس جارہی تھی۔سبیکا صرف ایک اسٹوڈنٹ نہیں امریکا میں پاکستان کی نمائندہ کے طور پر گئی تھی۔انھوں نے کہا کہ سبیکا امریکی بچوں کے ساتھ پڑھنا ، امریکی زندگی کے طور طریقے دیکھنا اورا امریکا میں پاکستانی کلچر لے جانا چاہتی تھی۔سبیکا کیسے گئی تھی اور اب کیسے واپس آرہی ہے کہنے کے لئے الفاظ نہیں ہیں ۔

اس موقع پر سبیکا کے والد عبد العزیز شیخ اوت تایا جلیل احمد شیخ نے بتایا سبیکا سول سروسز جوائن کرنا اور خواتین کے حقوق کے لیے کچھ کرنا چاہتی تھی ۔بیٹی کی میت دو سے تین دن میں وطن پہنچادی جائے گی۔پاکستانی سفارت خانہ مکمل تعاون کررہا ہے۔واضح رہے کہ اٹھارہ مئی کو امریکی ریاست ٹیکساس میں اسکول میں فائرنگ کے واقعے میں ہلاک ہونے والے دس افراد میں پاکستانی طالبہ سبیکا بھی شامل تھی۔۔جس کے اہلِ خانہ جو ایک روز پہلے تک اس کے استقبال کی تیاریوں میں مصروف تھے اب اس کی میت کے منتظر ہیں۔